Ikhlas.info
< 

تصوف و سلوک کیا ہے؟


تصوف و سلوک کیا ہے؟

ظاہر اور باطن کی تعمیر کا نام تصوف ہے۔ دیگر الفاظ میں تمام ظاہری اور باطنی (پوشیدہ) گناہ چھوڑ کر کامل اخلاص کے ساتھ، اﷲکو راضی کرنے کی نیت سے پورے دین پر عمل کرنا ہی تصوف ہے۔ ظاہری گناہوں میں چوری، جھوٹ، غیبت، زنا، کسی کا حق مارنا( وغیرہ)اور نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کے احکامات پر عمل نہ کرنا شامل ہیں جبکہ باطنی (پوشیدہ) گناہوں میں حسد، بغض،ریا،کِبَراور کینہ وغیرہ شامل ہیں۔

یاد رکھئے صرف ہاتھ میں تسبیح لے کر اﷲ کا ذکر کرنا تصوف نہیں بلکہ تصوف و سلوک کی راہ پر چلنے والے انسان میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہونی چاہئیں:

1. عقائددرست ہوجائیں اور اُن عقائد کا حال باطن پر طاری ہو کر پکا اور راسخ ہو جائے۔

2. عبادات کا پابند ہو جائے۔

3. معاملات میں محتاط ہو جائے۔

4. اُس کا باطن رذائل(یعنی بُری صفات مثلاًحسد،بغض،کینہ،تکبراورلالچ وغیرہ) سے پاک ہو جائے۔

5. اُس کے باطن میں فضائل ( یعنی اچھی صفات مثلاً خیر خواہی،عاجزی،قناعت،اللہ کی محبت اوراللہ تعالیٰ کے ڈر وغیرہ) پیدا ہو جائیں۔

6. کثرتِ ذکر سے ہر وقت اللہ تعالیٰ کا دھیان چھا جائے(جسے نسبتِ یاد داشت بھی کہتے ہیں)۔

7. جھوٹ ، غیبت،چغلی اور اس طرح کے دوسرے (تمام) گناہ جو اختیاری ہیں اُن کو یکسر ترک کر دے ۔ اگراِن گناہوں کی عادت پھر بھی باقی رہے تو مشائخ سے تفصیلی مجاہدات پوچھ کر ان عادتوں کو دور کرے۔

8. روز مرہ کے کاموں میں سنتوں اور آداب کی پابندی حاصل ہو جائے۔

مندرجہ بالا باتیں انسان کی طرف سے ہیں۔جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو جائے تو انسان کو اللہ تعالیٰ اپنی رضا اور خوشنودی عطا فرماکر اپنے خاص بندوں میں شامل کر لیتے ہیں۔یہ چناؤ اور انتخاب ’’ نِسبت‘‘ کہلاتا ہےجو اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے۔

مومنوں کی اصلاح کرنا نبی کریم ﷺکی بنیادی ذمہ داریوں میں سے ہے :
تصوف و سلوک میں مسلمان کا ظاہری اور باطنی تزکیہ کرکے اُسے پاک صاف کیا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں نبی کریمﷺ کی جن چار عظیم الشان ذمہ داریوں کا ذکر ہے اُن میں ایک تزکیہ بھی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ اُن کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے ، اُنہیں پاک صاف بنائے اور اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے،جبکہ یہ لوگ اِس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے "(اٰل عمران:۱۶۴)
ایک دوسری جگہ ارشاد پاک ہے :

ترجمہ: "یعنی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا وہ(شخص) یقیناً فلاح پا گیا۔"(الاعلیٰ:۱۴)
گویا تصوف و سلوک، پیری مریدی اور طریقت کو قرآن میں ’’تزکیہ‘‘ کے نام سے پکارا گیا ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں دین کے اس شعبے کو ’’احسان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ حدیث جبرئیل علیہ السلام کے آخر میں نبی کریم ﷺارشاد فرماتے ہیں کہ
’’ احسان یہ ہے کہ تُو اللہ تعالیٰ کی عبادت اِس طرح کرے گویا کہ تُم اُس کو دیکھ رہے ہو ،اگر چہ تم اُس کو نہیں دیکھتے ہو لیکن وہ تو تم کو دیکھتا ہی ہے‘‘
حدیث میں ذکر کردہ اِسی احسانی کیفیت کو حاصل کرنے کے لئے تصوف و سلوک میں مختلف اذکار و مراقبات کرائے جاتے ہیں۔

پیرو مرشِد ضروری کیوں؟
نبی کریمﷺ کی جن چار بنیادی ذمہ داریوں کو قرآن پاک نے بیان کیا ہے،وہ یہ ہیں: (۱) قرآنِ پاک کی تلاوت (۲) قرآن پاک کی تعلیم (۳)حکمت کی تعلیم (۴) تزکیہ (عقائد اور اعمال کی صلاح) کرنا ۔
حضور ﷺ کے رِحلت فرمانے کے بعد یہ چاروں کام صحابہ کرامؓ نے سر انجام دیئے اور اُن کے بعد تابعین اور تبع تابعین نے۔ بعد میں ان میں سے ہر ذمہ داری کو سر انجام دینےکے لئے ماہرین تیار ہوئے، جن سے اﷲ تعالیٰ نے اُس میدان میں تفصیلی کام لیا۔ مفسرین ، محدثین، قُرّ ا، اور فقہاء کی الگ الگ جماعتیں بنیں، جنہوں نے حضور ﷺ کی ذمہ داریوں کو سنبھالا۔ ’’تزکیہ‘‘ اور ’’اصلاح‘‘ کی ذمہ داری کو پوراکرنے کے لئے بھی اﷲ تعالیٰ نے اس امت کے بعض نیک لوگوں کو منتخب کیا ،جنہوں نے امت کی اصلاح کا بیڑہ اپنے سر اُٹھایا۔ یہ بزرگانِ دین ’’صوفیائے کرام‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔چنانچہ جس طرح تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ کی تعلیم کے لئے اُستاد کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح گناہ چھوڑنے، نیکیوں پر عمل پیرا ہونے، نفس اور شیطان کی چالوں سے بچنے اور اﷲتعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کےلئے بھی راہنما اور اُستاد کی ضرورت پڑتی ہے جسے پیر یامرشِد کہا جاتا ہے۔
یاد رکھئے:
* پیروں، فقیروں یا اُن کے مزاروں کو سجدہ کرنا تصوف نہیں بلکہ کُفر و شرک ہے۔
* کشف و کرامات کو حاصل کرنا بھی تصوف نہیں۔
* قیامت میں بخشوانے کی ذمہ داری پیر کے اوپر ڈالنا بھی تصوف نہیں۔
* دنیا کا ہر کام کامیابی سے مکمل ہونے کی ضمانت بھی تصوف نہیں (کہ صرف جھاڑ پھونک اور تعویز گنڈوں سے ہر کام ہوجایا کرے گا)
* ماں باپ، بیوی بچوں اور دیگر رشتہ داروں کے حقوق ادا نہ کرنا اور دُنیا سے لا تعلق ہوکر ایک گوشہ میں مستقل طور پر بیٹھ جانا بھی تصوف نہیں۔
* آلاتِ موسیقی کے ساتھ رقص کرنا بھی تصوف نہیں بلکہ سخت گناہ ہے ۔
* اپنے پیر کو مشکل کشا، عالم الغیب اور مستقل باالذات صاحبِ تصرف( یعنی ہر وقت تبدیلی کا اختیار رکھنے والا) ماننا تصوف نہیں، بلکہ کُفر و شرک ہے۔

نقشبندیہ، چشتیہ، سہروردیہ اور قادریہ سِلسِلوں کی حقیقت:
ہر دور میں بزرگانِ دین امت کی اصلاح کے لئے مختلف علاج تجویز کرتے رہے ہیں۔ ان میں ذکر کے بعض خاص طریقے بھی شامل تھے جس کے کرنے سے لوگوں کی اصلاح جلدی ہوجاتی تھی۔ حضرت بہاؤ الدین نقشبندؒ نے جس طریقۂ ذکر کو تجویز کیا اُس کے مطابق ذکر کرنے والوں کو نقشبندی کہا جانے لگا۔ اسی طرح حضرت شہاب الدین سہروردیؒ کے متعلقین کو سہروردی، حضرت معین الدین چشتی ؒ کے متعلقین کو چشتی اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے متعلقین کو قادری کہا جانے لگا۔ یوں یہ چار سلسلے مشہور ہوئے؛ سلسلہ نقشبندیہ، سلسلہ چشتیہ، سلسلہ قادریہ اور سلسلہ سہرو ردیہ۔

ایک اہم سوال اور اُس کا جواب :
عام طور پر یہ سوال بہت پوچھا جاتا ہے کہ کیا ذکر کے نئے طریقے تجویز کرنا بدعت نہیں؟کیا قرآن و حدیث میں بتائے ہوئے اذکار اصلاح کیلئے کافی نہیں؟
جواب: یاد رکھئے ہر نئی چیز کو بدعت نہیں کہا جاتا۔ ہمارے دین میں دوبنیادی چیزوں میں فرق کرنا ضروری ہے۔

۱ ۔ مقاصد (Objectives) ۲۔ ذرائع (Sources)
قرآن پاک کی تلاوت، تبلیغ، جہاد، صدقہ و خیرات، ظاہری اورباطنی گناہوں سے بچنے کیلئے اپنی اصلاح (تزکیہ) کرنا اور علم حاصل کرنا؛ یہ سب ’’مقاصد‘‘ ہیں۔ قرآن و حدیث میں اِنہیں اداکرنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اِن ’’مقاصد‘‘ کو حاصل کرنے کے ’’ذرائع‘‘ کا قرآن و حدیث سے ثابت ہونا ضروری نہیں، نہ ہی قرآن و حدیث نے ایسا کوئی حکم دیا ہے۔
مثلاً حضورؐ کے دور میں تلاوت قرآن پاک سیکھنے کیلئے کوئی صحابی ’’نورانی قاعدہ‘‘ نہیں پڑھتا تھا۔ آپ ؐ کے دور میں جہاد کیلئے جہاز، ٹینک اور میزائل وغیرہ استعمال نہیں ہوتے تھے نہ ہی آپ ﷺ کے دور میں علم حاصل کرنے اور عربی سیکھنے کے لئے درسِ نظامی کا آٹھ سالہ نظام تھا۔آج اگر ہم دیکھیں توتلاوت قرآن پاک سیکھنے کیلئے ’’نورانی قاعدہ‘‘ بھی پڑھایا جاتا ہے، جہاد کیلئے جہاز اور میزائل بھی استعمال ہوتے ہیں، علم کے حصول کے لئے درسِ نظامی کا آٹھ سالہ نظام بھی موجود ہے لیکن کوئی ان کو بدعت نہیں کہتا۔ کیوں؟
کیونکہ ’’نورانی قاعدہ‘‘، ’’جہازو میزائل کا استعمال‘‘ اور’’ درسِ نظامی‘‘ کا نظام اِن’’مقاصد‘‘ کو حاصل کرنے کے ’’ذرائع‘‘ ہیں اور ذرائع کا قرآن و حدیث سے ثابت ہونا ضروری نہیں۔ بالکل اسی طرح نفس اور قلب کا تزکیہ (صفائی کرنا) اﷲ کی محبت کو حاصل کرنا ، اﷲ سے ڈرنا، تمام ظاہری اور باطنی گناہوں کو اﷲ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے چھوڑنا؛یہ سب قرآن و حدیث کے احکامات ہیں اور دین کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں اور اِن مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے صوفیائے کرام کے تجویز کردہ مختلف اذکار و مراقبات ،دراصل ’’ذرائع‘‘ ہیں، لہٰذا ان کو بھی بدعت کہنا درست نہیں۔

ایک ضروری وضاحت :
یہاں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ دین کے ضروری مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے اختیار کردہ ’’ذرائع‘‘ قرآن ، حدیث ا ور اجماع کے خلاف نہیں ہونے چاہئیں اور ان ذرائع کو فرض، واجب یا سنت قرار نہیں دینا چاہیے۔ کیونکہ اگر یہ ذرائع قرآن ، حدیث اوراجماع کے کسی واضح حکم کے خلاف ہوں یا اِن ذرائع کو فرض، واجب یا سنت کی طرح ضروری قرار دیا جانے لگے تو بلاشبہ یہ ذرائع بدعت کہلائے جائیں گے، مثلاً اگر کوئی اﷲ کی محبت کو حاصل کرنے کا ’’ذریعہ‘‘ آلاتِ موسیقی اوررقص کو قرار دے تو اس کو اختیار کرنا اور اس پر عمل کرنا شریعت کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ موسیقی اور رقص کی اسلام میں ممانعت ہے۔ اِسی طرح مشائخ کے تجویز کردہ ذکر کے مختلف طریقوں کو اگر کوئی فرض یا واجب قرار دے تب بھی یہ بدعت تصور ہونگے ،بالکل ایسے ہی جیسے موجودہ دور میں اگر تبلیغی جماعت کے ساتھ چار مہینے،چِلہ یا سہ روزہ کی رائج انتظامی ترتیب کو کوئی فرض، واجب یا سنت قرار دینے لگ جائے تو پھر یہ بھی بدعت ہی شمار ہوگی۔ البتہ ذکر کے مختلف طریقے، تبلیغی جماعت کی مروجہ انتظامی ترتیب‘ مدارس کے درس نظامی اور دیگر ذرائع کو محض ذرائع تسلیم کیا جائے اور اُن کو فرض، واجب یا سنت قرار نہ دیا جائے تو پھر ان ذرائع کو اختیار کرنے میں کوئی برائی اور قباحت نہیں بلکہ دور حاضر میں یہ انتہائی مستحسن اور مفید ترتیبیں ہیں۔

کیا تصوف و سلوک کا لفظ قرآن و حدیث میں موجود ہے؟
یہ سوال بھی عام طور پر بہت پوچھا جاتا ہے کہ کیا تصوف و سلوک کا لفظ قرآن و حدیث میں موجود ہے ؟اِس کا مختصر جواب یہ ہے کہ کسی بھی فَن میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کا قرآن و حدیث میں موجود ہونا ضروری نہیں۔ علمِ حدیث میں استعمال ہونے والی اصطلاحات (صحیح، ضعیف اورحَسَن وغیرہ) کا ذکر قرآن و حدیث میں کہیں بھی موجود نہیں، علم تفسیرا ور فقہ وغیرہ میں استعمال ہونے والی تمام اصطلاحات کا بھی قرآن و حدیث میں کوئی ذکر نہیں۔ بالکل اسی طرح فَنِ تصوف و سلوک کی حقیقت قرآن و حدیث میں موجود ہے البتہ اِس کی تمام اصطلاحات کا بھی قرآن و حدیث میں موجود ہونا ضروری نہیں، کیونکہ ’’اصطلاحات‘‘ اصل اور ضروری نہیں بلکہ ’’حقیقت ‘‘ اصل اور ضروری ہوتی ہے۔ محقق علماء اور صوفیہ نے لکھا ہے کہ اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ تصوف و سلوک کے الفاظ بے شک استعمال نہ کرے بلکہ قرآن پاک میں استعمال ہونے والی اصطلاح ’’تزکیہ‘‘یا حدیث کی اصطلاح ’’احسان‘‘ استعمال کرے ،مقصد ایک ہی ہے۔


بیعت سے کیا مراد ہے؟
بیعت ’’عہدوپیمان‘‘ کو کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مسنون عمل ہے۔ نبی کریمﷺ نے صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ سے مختلف اوقات میں بیعت (عہدوپیمان) لی ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی پانچ اقسام بیان کی گئی ہیں۔
(۱) ایمان پر (۲) جہاد پر (۳) ہجرت پر (۴) نیک کاموں کے کرنے اور گناہ چھوڑنے (یعنی فعلِ طاعات و ترکِ منکرات) پر اور (۵) خلافت پر۔
شعبۂ تصوف و سلوک میں پیرانِ کرام اپنے مریدوں کو جو بیعت کرتے ہیں تو وہ مَسنون بیعت کی چوتھی قسم ہے ،یعنی مشائخ اپنے مریدوں سے اس بات کا عہد لیتے ہیں کہ وہ نیک کام کریں گے اور تمام ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے۔ لہٰذا بیعت کرنے کا عمل سنت ہے، البتہ اپنی اصلاح (تزکیہ نفس) کرنا فرضِ عین ہے۔


کیا ہر شخص کو پِیربنایا جاسکتا ہے؟
ہر شخص کوپِیر نہیں بنایا جاسکتا بلکہ پِیر اور مرشد کیلئے ضروری ہے کہ:
۱۔ کم از کم اُن عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات سے واقف اورخبردار ہو جن کا علم حاصل کرنا فرض عین ہے اور جن امور سے واقف اور خبردار نہ ہو اُن میں مستند اور قابل اعتماد علماء کی طرف رجوع کرنے والاہو۔
۲۔ اﷲ تعالیٰ کی ذات اور صفات کاو جدانی اور حالی طور پر عارف ہو (صرف زبانی دعوے نہ ہوں)۔
۳ ۔شریعت پر عمل کرنے والاہو ، زندیق نہ ہو۔
۴۔سنتِ نبوی ﷺپر عمل کرنے والا ہو اور ہر قسم کے بدعات سے اجتناب کرنے والا ہو۔
۵۔دین کی بلندی اور بقاء کیلئے جدوجہد کرنے والا ہو۔
۶۔زاہد ہو، دنیا کی طرف راغب نہ ہو۔
۷۔مشائخ کرام (پیران کرام) کا صحبت یافتہ ہو اور بیعت کرانے کے لئےباقاعدہ اجازت یافتہ ہو۔
۸۔صالحین کے نزدیک مقبول ہو، مبغوض(ناپسندیدہ) نہ ہو۔
۹۔اُس کی صحبت اور زیارت میں تاثیر ہو۔
۱۰۔ دینی اُمور میں بے جارعایت کرنے والا نہ ہو۔
۱۱۔تصوف کے دیگر سلسلوں پر اعتراض کرنے والا نہ ہو۔

پِیر اپنے مرید کی اِصلاح کیسے کرتا ہے؟
مرید کی اصلاح کا سب سے بڑاذریعہ اپنے شیخ(پیر)کی صُحبت (Company) ہے۔ جتنا زیادہ عرصہ محبت، ادب اور طلب کے ساتھ اپنے پیر کی مجالِس کو اختیار کرے گا،اُتنا ہی زیادہ اُس کو فائدہ ہوگا ،کیونکہ اچھی صحبت اختیار کرنے کا فائدہ قرآن و حدیث اور تجربہ سے ثابت ہے ،بلکہ قرآن و حدیث میں متقی بندہ بننے کیلئے بار بار نیک صحبت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ مشائخ اپنے مریدوں کو خاص طریقوں سے ذکر کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، جن کو کرنے سے لاکھوں لوگ پہلے بھی فائدہ اُٹھا کر اﷲ کے نیک بندے بن چکے ہیں۔ چنانچہ مشائخ کے تجویز کردہ طریقے پر ذکر کرنے سے یقیناًفائدہ حاصل ہوتا ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ مرید جن ظاہری اور باطنی گناہوں میں مبتلا ہوتاہے، وہ اپنے شیخ کے علم میں لاتا ہے اور شیخ اپنے تجربہ کی روشنی میں اُس کی رہنمائی کرتا ہے۔ احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ صحابہ کرامؓ باقاعدگی کے ساتھ مختلف روحانی بیماریوں کے علاج کے سلسلے میں نبی کریمؐ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔ شیخ کے بتائے ہوئے نسخے پر عمل کرنے سے کچھ ہی عرصہ میں مرید اپنی حالت میں مثبت تبدیلی محسوس کرنے لگتاہے۔
چوتھی بات یہ ہے کہ اکثر مشائخ (پیران کرام) اپنے مریدوں کی اصلاح کیلئے خاص باطنی قوت کا استعمال کرتے ہیں جسے تصوف کی اصطلا ح میں ’’توجہ‘‘ کہتے ہیں۔ توجہ کی دوقسمیں ہیں: پہلی قسم تو یہ ہے کہ پِیرو مرشدکی خواہش ہو کہ فلاں شخص کے دل میں اﷲ کی محبت، اﷲ کا خوف، نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت پیدا ہوجائے اور اُس کے لئے دُعا کرے۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں مشائخ اپنی قوتِ ارادی (خیال کی قوت) کو استعمال کرکے اپنے مریدوں کے باطن میں کسی اچھی کیفیت (مثلاً اﷲ کی محبت، اﷲ کا خوف، گناہوں سے نفرت اور نیکیوں سے محبت وغیرہ) کوڈال دیتے ہیں اورِ اس طریقے سے اُن کی اصلاح کرتے ہیں۔
احادیثِ نبوی ﷺمیں توجہ کی ان اقسام کا ذکر ملتا ہے۔پہلی وحی نازل ہوتے وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ کو تین بارسینے سے لگا کردبانے کا ذکر بخاری شریف میں بھی آیا ہے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام کے اِس عمل کا مقصد دراصل قوت،توجہ اور ہمت استعمال کرکے آپ ﷺکے باطن میں تصرف کرناتھاتاکہ وحی کے فیوض و برکات کو قبول کرنے کے لیےجس استعداد کی ضرورت ہوتی ہے اُس کی تکمیل کرائی جا سکے۔