تحریری سوالات و جوابات

تصوف میں اَصل اِصلاح انسان کے باطِن یعنی ”قَلب“ اور”نَفس“ کی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ مکمل دین پر عمل کرنے لگ جاتا ہے۔گویا صرف ذکرو اذکار اور مُراقبے کرنے سے ہی کوئی صوفی نہیں بنتا بلکہ دین اسلام کے تمام اجزاء یعنی عقائد ، عبادات ، معاملات (لین دین،ملازمت، تجارت وغیرہ) ، مُعاشرت (Social interaction)اور اخلاقیات میں، اللہ تعالیٰ کی رَضا حاصل کرنے کے لئے دین پر عمل کرنے والا ہی اصل صوفی ہے۔

 تصوف کی راہ پر چلنے والے انسان کو اپنے اندر مندرجہ ذیل خوبیاں اور صِفات پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے:

1۔اُس کےعقائددرست ہوجائیں اوروہ عقائد اُس کےباطِن پرمکمل طور پر حاوی ہو جائیں۔ یعنی اُس کا ایمان اتنا مضبوط ہو جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کواحَد(ایک)،خالق ، مالک، مُشکل کُشا اور تمام صِفات کا سَرچشمہ سمجھےاور اللہ تعالیٰ پر اُس کا ایمان صرف زبانی نہ ہو بلکہ کسی بھی تکلیف و پریشانی میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ذات و صفات پرمکمل اعتماداورایمان رکھے۔ اسباب کو بھی صرف اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر اختیارکرے۔  اس کے علاوہ دیگر جتنے بھی ضروری عقائد ہیں اُن سب پر اُس کاعقیدہ مضبوط ہو جائے کیونکہ دُنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے سب سے پہلی شرط دُرست عقائد کا سیکھنا اور اُن پر ایمان لاکر اُن کی روشنی میں زندگی گزارنے کا عزم،ارادہ اور کوشش کرنا ہے۔

2. تمام عبادات سے متعلق ضروری دینی علم حاصل کرکے اخلاص کے ساتھ اُن پر عمل کرنے کا پابند ہو جائے۔

3. تمام معاملات یعنی نکاح و طلاق، تجارت،کاروباراورملازمت وغیرہ سے متعلق ضروری علم حاصل کرکے ان پر اخلاص کے ساتھ عمل کرے اور ہر معاملہ میں دیانت ، امانت اور سچائی سے کام لینے کی کوشش کرےکیونکہ ایمان کی مضبوطی کاامتحان تو معاملات میں ہی ہوتا ہے۔

 4. اُس کی مُعاشرت یعنی ماں باپ،رشتہ داروں،پڑوسیوں ،دوستوں اور معاشرے کے دیگر افراد کے ساتھ روزمرہ تعلقات، شریعت کے احکامات کے مطابق ہوجائیں۔ 5. بُری صِفات(مثلاًریا،حَسَد،بُغض،کینہ،تکبراورلالچ وغیرہ) کے متعلق ضروری علم حاصل کر لے اوران بری صفات کی اصلاح کر لے ۔

 6. اچھی صفات (مثلاً صبر،شکر،اخلاص،عاجزی،اللہ کی محبت اوراللہ تعالیٰ کاخوف وغیرہ) کے متعلق ضروری علم حاصل کر لے اوران تمام اچھی صفات کواپنے اندر پیدا کر لے ؛ • جس طرح ظاہری اعضاء سے صادر ہونے والے گناہ (جھوٹ، غیبت ،زنا وغیرہ) چھوڑنا ضروری ہیں ، اِسی طرح دل کے گناہ (حسد، بغض ، کینہ، تکبُّراور ریاوغیرہ) چھوڑنا بھی فرض ہیں۔ اگران گناہوں کی عادت پھر بھی باقی رہے تو اپنے پِیر و مُرشدسے رہنمائی لے کر ان بری عادتوں کو دور کرے اور جس طرح ظاہری نیک اعمال کرنا ضروری ہیں اسی طرح دل کے نیک اعمال (صبر،شکر،اخلاص ،اللہ کی محبت، توکل،وغیرہ) کرنا بھی فرض ہیں۔

 7. ذکر الٰہی کی کثرت سے ہر وقت اللہ تعالیٰ کا دھیان اورخیال چھا جائے ؛ • حدیث میں اس کو”اِحسان“ کہا گیا ہے جس میں ہر عمل کرتے وقت ”اللہ تعالیٰ میرے سامنے ہے یااللہ تعالیٰ مجھےدیکھ رہا ہے“ کی کیفیت نصیب ہوجاتی ہے۔یہ کیفیت حاصل ہو جانے کے بعدہرعمل میں انسان کی نیت صرف یہ ہوتی ہےکہ اللہ تعالیٰ راضی ہو جائیں اور انسان ہرغلط کام کرنے سے رُک جاتا ہے۔

 8. روز مرہ کے اعمال میں سُنتوں اور آداب کی پابندی حاصل ہو جائے۔ جب یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کی عام سنت یہی ہے کہ وہ انسان کو اپنی” رَضا “ اور” خوشنودی “ عطا فرماکر اپنےخاص بندوں میں شامل فرما لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں کے ساتھ اس خصوصی تعلق کو’’ نِسبَت‘‘ کہتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے اور تصوف کے راستے پر چلنے کا اصل مقصد ہے۔ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ دُنیا میں ہی جنت کے مزے نصیب فرما دیتے ہیں اہم نکتہ:صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی رضاحاصل کرنے کے لئے سچی طلب اورمجاہدہ ( کوشش) ضروری ہے،لیکن اگر کوشش اور طلب کے باوجود کسی کی مکمل اصلاح نہ ہو سکی تب بھی وہ ناکام تصورنہیں ہوگابلکہ قیامت کے دن ،اللہ تعالیٰ کے محبوب بندوں میں سے اُٹھایا جائے گا( ان شاء اللہ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کی سچی طلب اور کوشش کوضائع نہیں فرماتے۔

پیر  یا شیخ یا مُر شِد کسے کہتے ہیں؟

ایسا نیک شخص جو خود بھی دین پر مکمل عمل کرتا ہو اور دوسرے  لوگوں کی اصلاح کرنے کے لئے بھی باقاعدہ اجازت یافتہ ہو اور لوگ اُس کے ہاتھ پر اپنی اصلاح کے لئے بَیعَت کرتے ہوں۔

مُرید کسے کہتے ہیں؟

ایسا شخص ، جو کسی شیخ و مُرشد کے ہاتھ پر بیعَت کرتا ہے اوراپنی دینی اصلاح کے سلسلے میں اُس سے رہنمائی لیتا ہے۔

خَلیفہ کسے کہتے ہیں؟

ایسے  مُرید کو کہتے ہیں جس  کو اُس کے مُرشد   نےدوسرے لوگوں کو بَیعَت اور اصلاح  کرنے کی اجازت دے دی ہو ۔

قَلب یا دِل کسے کہتے ہیں؟

شریعت میں ”قَلب(دِل)“  اُس چیز کو کہا جاتا ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی قوت اور صلاحیت رکھتا ہے۔ ہمارے جسم میں موجود گوشت کا وہ ٹکڑا  جو سارے بدن کو خون پہنچانے کا انتظام کرتا ہے، شریعت کے مطابق اصلی’’قَلب“ نہیں ہے، کیونکہ اس ظاہری ٹکڑے میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں  ہوتی۔ چنانچہ تصوف میں بھی”قَلب(دِل)“ کی اِصلاح سے مُراد اُس ”حقیقی قَلب“ کی اِصلاح مُراد ہے جوایک قوت ہے ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، سوچنے،سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ظاہری دل (گوشت کے ٹکڑے) سے بھی ایک تعلق قائم رکھے ہوئے ہے۔

نَفس کسے کہتے ہیں؟

یہ  انسان کے اندر ایک قوت ہے جس سے وہ کسی چیز کی خواہش کرتا ہے ،خواہ وہ خواہش خیرکی ہو یا شَرکی۔

انسان کا باطِن کسے کہتے ہیں؟

قَلب (دِل)،نَفس، روح اورعقل کو” انسان کا باطِن“ کہتے ہیں۔

 

شریعت کسے کہتے ہیں؟

دینِ اسلام کے تمام احکامات و قوانین کے مجموعے کو ”شریعت“کہتے ہیں۔

مُراقبہ کسے کہتے ہیں؟

کسی خاص سوچ ، فِکر یا مضمون کا دھیان کرکے رحمتِ الٰہی کے انتظار میں بیٹھنے کو مُراقبہ کہتے ہیں۔ 

تصوف کیا ہے؟

” تصوف“ دین کاایک اہم شُعبہ ہے جس میں انسان کے”دِل“ اور ”نَفس“  کو پاک اورصاف کرکےاُس کی اصلاح کی جاتی ہےتاکہ اللہ تعالیٰ  کادھیان اوررَضا حاصل ہوجائے۔

اصلاح کے دواجزاء ہیں:

(1)  ظاہری اصلاح                            (2) باطِنی اصلاح

1.    ظاہری اصلاح سے مُراد یہ ہے کہ

i.                        ظاہری اعضاء سے صادِر ہونے والے گناہ  (مثلاًجھوٹ،غیبت ،چوری،زِنا وغیرہ) چُھوٹ جائیں  اور

ii.                        عبادات ،معاملات اور معاشرت(یعنی زندگی کے ہر شعبے میں) میں اچھی صفات اپناکر مکمل دین پرعمل ہونےلگے۔

2.    باطنی اصلاح سے مُرادیہ ہے کہ

i.                        عقائد درست ہو جائیں،

ii.                        اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پرایمان مضبوط ہو جائے،

iii.                        دِل اور نفس کے گناہ اوربُری صفات ( مثلاً حَسَد، بغض ، ریا، تکبراور  کینہ وغیرہ )کی اصلاح ہو جائے اور

iv.                        اچھی صفات (مثلاًاللہ تعالیٰ کی محبت، اللہ تعالیٰ کا خوف، عاجزی، اخلاص، صبر، شُکر، توکَّل، تسلیم ورضا وغیرہ)حاصل ہوجائیں۔

 

3.    اللہ تعالیٰ کے دھیان کی کیفیت حاصل  کرنے سے مُرادیہ ہے کہ

§   زندگی کے ہر معاملہ میں یہ کیفیت نصیب ہو جائے کہ میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوں اور وہ میرے ہر ارادے ،عمل اورحرکت کو دیکھ رہا ہے ۔یہ کیفیت مستقل طور پر حاصل ہو جائے تو دین پر عمل کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے اورہرعمل کرتے وقت نیت صرف یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو جائے۔اِس کیفیت کو ”کیفیتِ احسان “ کہتے ہیں۔یہ دین کی اصل ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کو یہ کیفیت حاصل تھی  اوراِسی کیفیت کو حاصل کرنے کے لئےراہِ  تصوف  میں مُرشد کی رہنمائی میں مختلف اذکار اور مُراقبات کرائے جاتے ہیں۔ کیفیتِ احسان کا ذکر بخاری شریف (باب الایمان) کی حدیث میں آیا ہوا ہے،جسے حدیثِ جبرائیل بھی کہتے ہیں ۔

فوائد:

اس ظاہری اور باطنی اصلاح کےنتیجہ میں؛

§ عقائد درست ہو جاتے ہیں،

§ اچھی صفات پیدا ہو جاتی ہیں،

§ نیک اعمال کرنے کی توفیق مل جاتی ہے اور

§ غلط عقائد، بُری صفات اور بُرےاعمال سے نجات حاصل ہوجاتی ہے۔

اچھی صفات کو اخلاقِ حمیدہ اور بُری صفات کو اخلاقِ رَذیلہ کہتے ہیں۔

v      مندرجہ بالا تفصیل کی روشنی میں تصوف کی مختصر تعریف ہم یوں بھی کر سکتے ہیں کہ ؛

”ظاہر اور باطِن کی اصلاح کا نام تصوف ہے“

یا

”اعلیٰ درجے کا ایمان اور تقویٰ حاصل کرنے کانام تصوف ہے“

v   نَفس  کی اصلاح کرنے کو”تزکیہ نَفس “ اور دِل(قَلب) صاف کرنے کو” تَصفِیہ قَلب“کہتے ہیں۔

v   تصوف کو ” طَریقت“ اور”سلوک“  وغیرہ کے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے۔

v   مندرجہ بالا وضاحت سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ”تصوف دراصل دین اسلام کے ایک اہم شعبہ”اخلاقیات“ ہی کا دوسرا نام ہے۔ “ 

 قرآن پاک اور احادیث میں نَفس اور قلب کی صفائی کا کیاحکم دیا گیا ہے ؟

تصوف کی راہ پر چلنے والے مسلمان  کی ظاہری اور باطنی صفائی ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں نبی کریمﷺ  کی جن چار بنیادی ذمہ داریوں کا ذکر ہے اُن میں سے ایک ذمہ داری،  مسلمانوں کے عقائد اور اعمال کا تزکیہ (پاک کرنا) بھی ہے۔ارشاد باری  تعالیٰ ہے:  

لَقَد مَنَّ اللّٰہُ عَلَی المُؤمِنِینَ اِذ بَعَثَ فِیھِم رَسُولاً مِّن اَ نفُسِھِم یَتلُو عَلَیہِم اٰیَا تِہٖ وَ یُزَکِّیہِم وَ یُعَلِّمُہُمُ الکِتٰبَ والحِکمَۃَ ج وَ اِن کَانُو مِن قَبلُ لَفیِ ضَلٰلٍ مُّبِینٍ۝

ترجمہ:حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ اُن کے درمیان اُنہی میں سے ایک رسول بھیجا جو اُن کے سامنے اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرے ، اُنہیں پاک صاف بنائے اور اُنہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے،جب کہ یہ لوگ اِس سے پہلے یقیناً کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔)آل عمران،آیت ۱۶۴)

ایک دوسری جگہ ارشاد پاک ہے : 

قَداَفلَحَ مَن تَزَکّٰی ۝

ترجمہ: جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا وہ(شخص) یقیناًفلاح پا گیا۔(سورہ الاعلیٰ، آیت ۱۴)

گویا تصوف (جس میں انسان کے نَفس اور قلب کی اصلاح ہوتی ہے )کو قرآن ِ پاک نے  ’’تزکیہ‘‘  کا نام دیا ہےاور دُنیا اور آخرت میں کامیابی کے لئے نَفس کے ”تزکیہ“  کو ہی بنیادی شرط قرار دیا ہے۔

اِسی طرح قَلب (دِل)  کی صفائی کے بارے میں نبی کریم ﷺ  ارشاد فرماتے ہیں:

” سُن لو کہ بے شک آدمی کے بدن میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہوتا ہے تو تمام بدن درست ہو جاتاہے اور جب وہ بگڑجاتا ہے تو تمام بدن فاسد ہو جاتاہے۔سُن لو ! وہ ٹکڑا ”قَلب(دِل)“ ہے۔ (كتاب الإيمان، بخاری)

اِس حدیث سے قَلب کی صفائی کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے ۔ قَلب کی صفائی سے مُراد”تمام غلط عقائدسے نجات حاصل کرنا اوردِل میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور صِفات کی مُحبت،عظمت،خوف اور کامل یقین پیدا کرنا ہے۔“

تَصَوُّف کو احادیثِ مبارکہ میں کون سا نام دیا گیا ہے؟

احادیث مبارکہ میں تصوف کو ’’اِحسان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ بخاری شریف کی مشہور حدیث (جس کو حدیثِ جبرائیل بھی کہتے ہیں)کے آخر میں نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:

’’احسان یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا  تُم اُس کو دیکھ رہے ہو ، اوراگر تم اُس کو نہیں دیکھ رہے تو بلاشبہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے ۔“

           حدیث شریف میں ذکرکردہ اس کیفیت کو ”کیفیتِ احسان“ کہتے ہیں۔اور اس کامطلب یہ ہے کہ زندگی کے ہر معاملہ میں یہ یقین اور دھیان نصیب ہو جائے کہ میں اپنے اللہ تعالیٰ کے سامنے ہوں اوروہ ہمارے ہر ارادے ،عمل اورحرکت کو دیکھ رہےہیں ۔یہ کیفیت تمام صحابہ کرام کو حاصل تھی اور ہر مسلمان کی یہ کوشش  ہونی چاہیئے کہ وہ اس کیفیت کو حاصل کرے ۔اسی کیفیت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ہر عمل کرتے وقت نیت صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا ہو تی ہے۔تصوف میں بھی اسی کیفیت کو پیدا کرنے کے لئے مختلف اذکار و مُراقِبات  اور مُجاہدات کرائے جاتے ہیں۔

صوفیائے کرام کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟

    نبی کریمﷺ  کی جن چار بنیادی ذمہ داریوں کو قرآن پاک کی سورہ آ لِ عمران آیت۱۶۴ میں بیان کیا گیاہے،وہ یہ ہیں:

(۱) قرآن پاک کی تلاوت       (۲) قرآن پاک کی تعلیم  

(۳)   حِکمت کی تعلیم                 (۴) تزکیہ (یعنی عقائد اور اعمال کی اصلاح کرنا)

حضور ﷺ  کی وفات کے بعد یہ چاروں کام صحابہ کرامؓ نے سر انجام دیئے اور اُن کے بعد تابعین اور تبع تابعین نے۔ بعد میں ان میں سے ہر ذمہ داری کو سر انجام دینےکے لئے ماہرین تیار ہوئے، جن سے اﷲ تعالیٰ نے اُس میدان میں تفصیلی کام لیا۔ 

قرآن ِ پاک کی تفسیر کرنے والے (مُفَسِّرین) ،حدیث کےالفاظ کی حفاظت کرنے والے(مُحَدِّثین)، قرآن پاک کی درست تلاوت سکھانے والے (قاری حضرات)اوردین کی سمجھ بُوجھ رکھنے اورتمام مسائل کا حل اُمَّت تک  پہنچانے والے   ( فُقہاء) کی الگ الگ جماعتیں بنیں۔

بالکل اسی طرح  ”تزکیہ نفس“ کو بطورِ خاص جِن بُزرگوں نے اپنی محنت کا میدان بنایا وہ بزرگان دین ’’صوفیائے کرام‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ چنانچہ جس طرح تفسیر، حدیث اور فِقَہ وغیرہ کی تعلیم کے لئے استاد کی ضرورت پڑتی ہے، اسی طرح عقائد اور اعمال کی اصلاح کے لئے بھی کسی رہنما اور اُستاد کی ضرورت پڑتی ہے جسے ”پیر“ ،”مُرشد“ یا ” شَیخ “ کہا جاتا ہے۔

کیا تصوف فرض عین ہے؟

جس طرح ہرمرد اور عورت پر اپنے اپنے حالات کے مطابق دینی مسائل جاننا فرض ہے اور پورے دین کے تمام مسائل میں بصیرت و مہارت پیدا کرنا اور مفتی  بنناسب پر فرض نہیں بلکہ فرضِ کفایہ ہے،اسی طرح جن اچھی صفات (یعنی اخلاقِ حمیدہ) کو حاصل کرنے کا حکم دین اسلام میں دیا گیا ہے اُن کے بارے میں جاننا اور اُن صفات کواپنے اندر پیدا کرنا بھی فرض ہے۔ مثلاًسب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تقویٰ، اخلاص، توکل، صبرو شکر، تسلیم و رضا،تواضع،خشوع، قناعت، حِلم، سخاوت وغیرہ سے کیا مراد ہے اور پھریہ جاننا بھی ضروی ہے کہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کیسے کیا جائے؟

اس کے ساتھ ساتھ جن بری صفات (اخلاقِ رذیلہ ) سے بچنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اُن کے بارے میں جاننا ، اُن کی اصلاح کرنا، اور اُن سے بچنا بھی فرض ہے۔ مثلاًیہ جاننا بھی ضروری ہے کہ تکبر،عُجب،ریاء،مال کی محبت،بخل،بزدلی،لالچ،حسد، کینہ وغیرہ کی حقیقت کیا ہے اور ان سے کیسے بچا جائے۔ 

خلاصہ یہ کہ  کم از کم  اتنا علم حاصل کرنا فرض ہے جس کی مدد سے اچھی صفات حاصل ہو جائیں اور بری صفات سے نجات نصیب ہوجائے،اور یہی علم صوفیائے کرام کی زبان میں ”علم تصوف“ کہلاتا ہے۔اور کسی شخص کا  پورے علم تصوف میں اتنی بصیرت و مہارت پیدا کرنا کہ دوسروں کی بھی اصلاح اور تربیت کر سکے ،یہ فرضِ کفایہ ہے۔لہٰذا” فِقہ “ کی طرح علم تصوف کا بھی ایک حصہ فرضِ عین  ہےاور پورا علم تصوف حاصل کرنا فرضِ کفایہ ہے۔(اقتباس  از ” فقہ وتصوف“ از حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب)

یاد رہے کہ فرض کی دو قسمیں ہیں: فرض عین اور فرض کِفایہ۔

فرض ِ عین اُس فرض کو کہا جاتا ہے جس کا ادا کرنا ہر مسلمان مروعورت پر ضروری ہے،جیسے نماز،روزہ، حج، زکوٰۃ ، ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچنا وغیرہ۔فرضِ کفایہ وہ فرض ہے جو بعض لوگوں کے بقدرِ ضرورت ادا کرنےسے باقی مسلمانوں کے ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔جیسے مسلمان میت کے کفن دفن کا انتظام،نمازجنازہ ،جہادوغیرہ۔

اگر کسی بستی میں کوئی ایک شخص بھی ایسا موجود ہو جو وہاں کے مسلمانوں کو پیش آنے والے  شرعی مسائل بتا سکے اور اُن کے تزکیہ اخلاق کا کام بقدرِ ضرورت کر سکے  تو اس بستی کے باقی مسلمانوں کے ذمہ سے یہ فرض ساقط ہو جاتا ہے، اور اگر اس شہر میں ایک شخص بھی ایسا موجود نہ ہو تو وہاں کے لوگوں پر فرض ہے کہ ایسا عالم اپنے یہاں تیار کریں یا کہیں اور سے بُلا کر رکھیں،ورنہ سب اہل شہر گناہ گار ہونگے۔( تفسیر معارف القرآن ج 4:ص 487 تا 490،  و  ردالمختار مع الدر المختار ج :1، ص 40)

تَصوف کے بارے میں کون سے غلط تصورات معاشرے میں پائے جاتے ہیں؟

دورِ حاضر میں بہت سارےنظریات اوراعمال ایسے ہیں جن کو کم علمی کی وجہ سے  تصوف سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ اُن کااصل شرعی تصوف کے ساتھ دُور دُور کا کوئی تعلق نہیں۔مثلاً:

·               پِیروں، فقیروں یا ان کے مزاروں کو سجدےکرنا تصوف نہیں بلکہ انتہائی درجے کی گمراہی ہے جس کی بعض صورتیں کفر و شرک  تک پہنچا دیتی ہیں۔اسی طرح بعض مزارات پر ہونے والی بدعات، شِرکیہ اعمال اورمخلوط اجتماعات کا بھی اصل تصوف سے کوئی تعلق نہیں۔

کَشف و کرامات کو حاصل کرنا بھی تصوف نہیں ، نہ ہی یہ ضروری ہے کہ ہر صوفی کو کشف یا کرامات حاصل ہوں ۔اگرکوئی شخص اخلاص کے ساتھ مکمل دین پر عمل کرتا ہے اور تمام ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچتا ہے تووہ کامیاب ہے ، چاہے اُسے کوئی کیفیت حاصل نہ ہو ،کیونکہ کشف و کرامات یا دوسری کسی کیفیت کا حاصل کرنا، تصوف کے مقاصد میں سے ہے ہی نہیں ۔تصوف میں صرف ”اپنی اصلاح اور اللہ تعالیٰ کی رضا“مقصود ہے۔ اگر کسی شخص کو عجیب و غریب کیفیات حاصل ہوں لیکن وہ دین پر عمل نہیں کررہا اور اُس کا ظاہر و باطن شریعت کے خلاف ہے تو وہ دھوکے باز اور جادوگر تو ہو سکتا ہے ،صوفی بالکل نہیں۔( یاد رہے کہ کَشَف کا لفظی معنیٰ ہے ” کُھل جانا“ یا” ظاہر ہوجانا“۔ اِس سے مُراد یہ ہے کہ قبر میں مَیَّت پر گزرنے والے حالات ،یا کسی زندہ انسان کے دِل میں آنے والے خیالات یا مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کسی شخص پر ظاہر ہو جائیں۔ علماء نے واضح کیا ہے کہ کشف کا تعلق تقویٰ سے نہیں بلکہ مَشق (Practise)سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ہندو جوگیوں کو بھی کبھی کبھی یہ کیفیت حاصل ہو جاتی ہے۔ ہیپناٹِزم بھی اس کی ایک مثال ہے۔)

·               قیامت میں بخشوانے کی ذمہ داری پِیر کے اوپر ڈالنا بھی تصوف نہیں ۔

·               دنیا کا ہر کام کامیابی سے مکمل ہونے کی ضمانت بھی تصوف نہیں کہ صرف جھاڑ پھونک اور تعویز گنڈوں سے ہر کام ہوجایا کرے گا۔

·                ماں باپ، بیوی بچوں اور دیگر رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی سے منہ پھیرنا اور دُنیا سے لا تعلق ہوکر ایک گوشہ میں مستقل طور پر بیٹھ جانا بھی تصوف کا مزاج نہیں۔

·               بزرگوں کے مزارات پر دھمال ڈالنا یا  رقص کرنا بھی تصوف نہیں۔

·               طَریقَت (تصوف) اور شریعت (دین اسلام کے احکامات) کو الگ الگ سمجھنا بھی سنگین درجے کی گمراہی ہے۔ طریقت اور شریعت ایک ہی حقیقت کے دو رُخ ہیں کیونکہ شریعت پر مکمل اخلاص کے ساتھ عمل کرنا ہی طریقت ہے۔

·               انوارات  کا نظر آجانا یاجسم کےبعض  مقامات (جنہیں لَطائف کہتے ہیں)  کا حرکت کرنا ، وجد میں آجانا، اچھے خواب دیکھ لینا وغیرہ اگرچہ اچھے حالات ہیں جو بعض اوقات مُریدوں کو پیش آتے ہیں لیکن تصوف کے اصل مقاصد سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔


اپنے پیر(یا کسی اورشخصیت ) کو تمام مشکلات کاحَل کرنے والا(مشکل کُشا )، غیب کی تمام خبروں کا جاننے والا ( عالم الغیب) اور نظام کائنات میں ہروقت ہر قسم کی تبدیلی کا اختیار اورقوت رکھنے والاماننا بھی تصوف نہیں، بلکہ عقیدہِ کفر ہے کیونکہ مشکل کُشا،حاجت روا،عالم الغَیب اور تبدیلی کا اختیار اور قوت رکھنے والا صرف اور صرف”اللہ تعالیٰ “ہے۔

نقشبندی، چشتی، سُہروردی اور قادری سلسلوں کی حقیقت کیا ہے؟

ہر دور میں بزرگان دین ،امت کی ا صلاح کے لئے مختلف علاج تجویز کرتے رہے ہیں۔چونکہ ذکرُ اللہ اور مُراقِبات (غور و فکر) کو  اصلاح میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لئےبعض بزرگانِ دین نے ذکر ومُراقبہ کے ایسےطریقے تجویز کئےجن سے لوگوں کی اصلاح جلد ہوجایا کرتی تھی۔ حضرت بہاؤ الدین نقشبندؒ نے ذکر و مُراقَبہ کے جس طریقہ کو تجویز کیا اس کے مطابق ذکر و مُراقَبہ کرنے والوں کو نقشبندی کہا جانے لگا۔ اسی طرح حضرت شہاب الدین سہروردیؒ کے تجویز کردہ طریقہ پر چلنے والوں کو سہروردی، حضرت معین الدین چشتی  ؒ کے طریقہ پر چلنے والوں کوچشتی اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ کے طریقے پر چلنے والوں کو قادری کہا جانے لگا۔

اگرچہ  اس طرح کے کئی سلسلے ہیں لیکن ہمارے علاقوں میں یہی چار بہت مشہور ہوئے؛

سِلسلہ نقشبندیہ    سلسلہ چِشتیہ       سلسلہ قادریہ      سلسلہ سہَرو ردیہ

یہاں اِس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا تمام سلسلوں کے  حضرات کے عقائد ایک جیسے ہی ہیں ، سب اہل السُنَّت والجماعت سے ہی  تعلق رکھتے ہیں اوران کوالگ الگ فرقے  تصور کرنا درست نہیں۔ان کی الگ  پہچان صرف اصلاح کے طریقے مختلف ہونے کی وجہ سے ہے ۔

کیا صوفیائے کرام کے رائج کردہ ذکر کے طریقے بدعت نہیں؟

عام طور پر یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا ذکر کے نئے طریقے تجویز کرنا اور اُن طریقوں کے مطابق ذکر کرنا بدعت نہیں؟

اس کا جواب یہ ہے کہ ہر نئی چیز کو بدعت نہیں کہا جاسکتا۔صوفیائے کرام کے تجویز کردہ خاص قسم کےمُراقِبات اور اذکار دراصل ”ذریعہ“ اور”آلہ“ کی طرح  ہیں۔ جن دینی مقاصد اور کیفیات  کاحاصل کرنا ضروری ہے ،یہ (اذکار اورمُراقِبات) اُن کے حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہیں۔

مقاصد اور ذرائع میں کیا فرق ہے؟

ہمارے دین میں دوبنیادی چیزوں میں فرق کرنا ضروری ہے:

(1) مقاصد                          (2)    ذرائع

قرآن پاک کی تلاوت، تبلیغ، جہاد، صدقہ و خیرات اور اِصلاح (تزکیہ) کرنا اور محبت الٰہی،خوفِ خدا، علم دین (وغیرہ) حاصل کرنا دین کے بنیادی ’’مقاصد‘‘ میں سے  ہیں۔ قرآن و حدیث میں ان مقاصد کو حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے،البتہ ان ’’مقاصد‘‘ کو حاصل کرنے کے ’’ذرائع (طریقوں)‘‘ کی  تمام تفصیلات کا قرآن و حدیث  میں ذکر نہیں اور نہ ہی ان ذرائع کا قرآن و حدیث میں موجود ہونا ضروری ہے۔

مثلاًحضورﷺ کے دور میں تلاوت قرآن پاک سیکھنے کےلئے کوئی صحابی ’’نورانی یا بغدادی قاعدہ‘‘ نہیں پڑھتا تھا۔نہ ہی آپ ﷺ کے دور میں علم حاصل کرنے اور عربی سیکھنے کے لئے درسِ نظامی کا آٹھ سالہ نظام  موجودتھا۔یہاں تک کہ آج قرآنِ پاک ہمارے پاس جس جلد شدہ حالت میں موجود ہے ،حضور ﷺ  کے دور میں یہ اِس حالت میں بھی نہیں تھا،نہ اس میں زیر و زبر اور علاماتِ وقف وغیرہ تھیں اور نہ ہی پورا قرآن پاک تیس پاروں میں تقسیم کیا گیا تھا ۔

دوسری طرف ہم آج دیکھتے ہیں کہ تلاوت قرآن پاک سیکھنے کے لئے ’’نورانی قاعدہ‘‘وغیرہ بھی پڑھایا جاتا ہے، جہاد کےلئے جدید ہتھیار بھی استعمال ہوتے ہیں، علم حاصل کرنے  کے لئے درسِ نظامی کا آٹھ سالہ نظام بھی موجود ہے لیکن کوئی ان کو بدعت نہیں کہتا،کیونکہ ’’نورانی قاعدہ سیکھنا‘‘، ’’جدید ہتھیاروں کا استعمال‘‘ اور’’ درسِ نظامی کا نظام‘‘ اِن مقاصد( یعنی علم دین،تبلیغ،خوفِ خدا اورجہاد وغیرہ) کو حاصل کرنے کے ’’ذرائع‘‘ ہیں اور ذرائع کا قرآن و حدیث سے ثابت ہونا ضروری نہیں۔ بالکل اسی طرح نفس اور قلب کا تزکیہ  اور تَصفیہ(پاک اور صاف) کرنا، اﷲ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا ، اﷲ سے ڈرنااور تمام ظاہری اور باطنی گناہوں کو اﷲ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے چھوڑنابھی دین کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے صوفیائے کرام کے تجویز  کردہ اذکار و مراقبات  کی حیثیت بھی ’’ذرائع‘‘ سے زیادہ کچھ نہیں، لہٰذا ان کو بھی بدعت کہنا درست نہیں۔یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جس طرح صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مادری زبان عربی ہونے کی وجہ سے اُنہیں عربی گرائمر  ( صَرف اور نَحو کے علوم ) سیکھنے  کی ضرورت نہیں تھی اِسی طرح اُنہیں اِن خاص اذکار و مُراقبات  کی بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انہیں حضور ﷺ  کی مبارک صحبت حاصل تھی جس کی برکت سے اُن کے دِل روشن تھے اور اُن کے نُفوس  کی اصلاح ہو چکی تھی۔(نفوس: نفس کی جمع)

دین کے بنیادی مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے کن ذرائع کا استعمال جائز ہے؟

یہاں یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ دین کے ضروری مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے جن ذرائع کو اختیار کیا جائے وہ قرآنِ پاک ،سنتِ نبوی ﷺ  ا ور اِجماع (اُمت کے متفقہ فیصلوں)کے خلاف نہیں ہونے چاہئیں اور ان ذرائع کو فرض، واجب یا سنت قرار نہیں دینا چاہیے۔ کیونکہ اگر یہ ذرائع قرآن ، حدیث اوراِجماع کے کسی واضح حکم کے خلاف ہوں یا ان ذرائع کو فرض، واجب یا سنت کی طرح ضروری قرار دیا جانے لگے تو بلاشبہ یہ ذرائع بدعت کہلائے جائیں گے۔

 مثلاًاگر کوئی شخص اﷲ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنے کا ’’ذریعہ‘‘موسیقی کو قرار دے تو اِس کو اختیار کرنا شریعت کی خلاف ورزی ہے، کیونکہ اسلام میں موسیقی حرام  ہے۔ اِسی طرح بزرگوں کے تجویز کردہ ذکر کے مختلف طریقوں کو اگر  کوئی شخص قرآن وحدیث میں بیان کردہ حکامات کی طرح فرض یا واجب قرار دے تب یہ بدعت تصور ہونگے ۔

یااگرموجودہ دور میں اگر تبلیغی جماعت کے ساتھ چار مہینے یا سِہ روزہ کی ترتیب کو کوئی شخص فرض، واجب یا سنت قرار دینے لگ جائے تو پھر یہ بھی بدعت ہی شمار ہونگے۔البتہ ذکر کے مختلف طریقوں، تبلیغی جماعت کی موجودہ ترتیب،مدارس کے درس نظامی کےنظام اور دیگر کو محض”ذرائع“تسلیم کیا جائے اور اُن کو فرض، واجب یا سنت قرار نہ دیا جائے تو پھر اِن کو اختیار کرنے میں کوئی برائی نہیں بلکہ دور حاضر میں یہ  دین پر چلنے کے لئےانتہائی مفید ذرائع ہیں۔

صوفیائے کرام کو نئے اذکار و مُراقبات تجویز کرنے کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟

ہمارے دین  میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور غور و فکر(مُراقبات)کرنے کی ترغیب دی گئی ہے البتہ کسی خاص طریقہ پر پابندی کا حکم نہیں دیا گیا کہ اس خاص طریقے سے ہی ذکر یا مُراقبہ کیا جائے۔چنانچہ اگر دین کے بنیادی مقاصِد پر عمل  کرانے  کے لئے ذکر یا مُراقبہ کا کوئی خاص طریقہ تجویز کیا جائےاور وہ شریعت کے خلاف نہ ہو اور نہ ہی اسے ضروری (فرض،واجب یا سُنت)سمجھا جائے تو پھر  ہمارے دین نےاس خاص طریقہ پر ذکر و مُراقبہ کرنے کی مکمل اجازت دی ہے۔

مثال

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا کہ صحابہ کرام کو ان خاص اذکار و مراقبات  کی بھی ضرورت نہیں تھی کیونکہ انہیں حضور ﷺ  کی مبارک صحبت حاصل تھی جس کی برکت سے اُن کے دِل روشن تھے اور اُن کے نُفوس کی اصلاح ہو چکی تھی۔ لیکن حضور ﷺ  کے زمانے سے جتنی دُوری آتی گئی اُتنا ہی دِلوں میں زَنگ اورامراض پیدا ہوتے چلے گئے اور جیسا کہ حکیم یا ڈاکٹر   مختلف امراض کے لئے تجربات کرکے نئی نئی دوائیں تجویز کرتے رہتے ہیں اسی طرح یہ روحانی ڈاکٹر ( پِیرانِ کرام) بھی قَلب اور نَفس کے امراض دور کرنے کے لئے ہر شخص کے لئے اُس کے مزاج اور باطنی حالت کے مطابق دوائیں تجویز کرتے رہے ہیں۔

اس بات کو یوں بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس طرح کمزورمعدےکے مریض کو پہلے ایسی دوا دی جاتی ہے جس سے اُس کا معدہ قوت بخش غذاؤں کو ہضم کر نے کے قابل ہوسکے، اِسی طرح جب غلط ماحول اور گناہوں کی وجہ سےانسان کا قَلب اور نَفس زنگ آلود ہو جاتا ہے تو صوفیائے کرام اس  زنگ کو ختم کرنے کے لئے مسنون اعمال کے ساتھ ساتھ دیگر طریقوں سے بھی قَلب اور نَفس کی صفائی کراتے ہیں  تاکہ وہ قرآن و حدیث کے انوارات و برکات سے مکمل فائدہ اُٹھانے کے قابل ہو سکے۔

راہِ تصوف میں عام ترتیب یہی ہے کہ ا ذکارو مُراقبات کروانے کے کچھ عرصےبعد فرائض ،واجبات ،سنتِ مؤکدہ اور نوافل کی ادائیگی میں بھرپور کوشش سے ہی دینی ترقی ہوتی ہےاوراللہ تعالیٰ کی محبت اوررضا نصیب ہوتی ہے۔

کیا اسلام میں پیری مریدی کی گنجائش ہے ؟

کیوں نہیں ؟ جس طرح  اسلام میں استاد شاگرد کی گنجائش ہے یا جس طرح ڈاکٹر اور مریض کی گنجائش ہے اسی طرح پیر اور مریدکی بھی گنجائش  ہے۔جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ نبی کریم ﷺ  قرآن و حکمت سکھانے والے بھی تھے، تلاوت سکھانے والے بھی تھے اور صحابہ کرام کی تربیت و اصلاح کرانے والے بھی تھے ۔ اصلاح و تربیت کےاسی نظام کو جاری رکھنے والے سلسلے کو پیری مُریدی کہا جاتا ہے۔اپنی اصلاح فرض  عین ہے اور پیر کا ہاتھ پکڑنا اس کے لیے ایک ذریعہ ہے ۔اس لیے اس کے جائز ہونے میں کیا اختلاف ہوسکتا ہے؟


مُرید ایک طرح سے روحانی مریض  ہوتاہے اور دوسری حیثیت سے تصوف کے علوم کا شاگرد ہے۔ دونوں حیثیتیں چونکہ قرآنِ پاک،احادیثِ مبارکہ اور اِجماعِ اُمت سے ثابت ہیں۔اس لیے مُرید ہونا بھی جائز ہے اور اپنی  اصلاح کے لئے پیر کا ہاتھ پکڑ کر بیعت کرنا بھی جائز ، بلکہ آج کل کےحالات میں تو انتہائی ضروری ہے۔

کیا تَصَوُّف کا لفظ قرآن او رحدیث میں موجود ہے؟

یہ سوال بھی عام طور پر پوچھا جاتا ہے کہ کیا تصوف کا لفظ  اور اِس علم میں استعمال ہونے والے الفاظ اور  دیگر اِصطلاحات (Terminologiesقرآن و حدیث میں موجود ہیں ؟

اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ کسی بھی فَن میں استعمال ہونے والے تمام اِصطلاحات(Terminologiesکا قرآن و حدیث میں موجود ہونا ضروری نہیں۔ تفسیر،حدیث ا ور فِقَہ  کے علوم میں استعمال ہونے والی اکثر اِصطلاحات کا قرآن و حدیث میں ذکر نہیں۔بالکل اسی طرح تصوف کا لفظ اور اِس  شعبہ میں استعمال ہونے والے بعض  دیگرالفاظ و اصطلاحات قرآن و حدیث میں موجود نہیں اور نہ ہی اُن کا قرآن و حدیث میں موجود ہونا ضروری ہےالبتہ تصوف کی حقیقت اور اس کے مقاصد(مثلاً تمام ظاہری و باطنی گناہ چھوڑنا اور اللہ تعالی کی محبت اور رضا حاصل کرنا وغیرہ) قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔

اگر ”تصوف“ کی پوری ترتیب کو  صرف اِس وجہ سے بدعت قراد دیا جائے کہ ”پیری مُریدی“،  ”تصوف“، ” طریقت“ اور دیگر الفاظ  حضور ﷺ  اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے دور میں نہیں تھے تو اس دلیل کے مطابق توعلم حدیث بھی بدعت بن جاتا ہے کیونکہ اس میں استعمال ہونے والے الفاظ و  اکثر اِصطلاحات بھی حضور ﷺ  کے دور میں موجود نہ تھیں ،مثلاًرسول اللہ ﷺ  کے دورمبارک میں ”صحیح“ ،”ضعیف“ اور” موضوع “وغیرہ کی اِصطلاحات  موجودہی نہ تھیں اورنہ ہی کوئی شخص ” متواتر“، ”صحیح“ ،”حَسَن“و ”غریب“ وغیرہ کی اصطلاحات سے باخبر تھا۔

لفظ ”تصوف“نہیں بلکہ ”تزکیہ و احسان“استعمال کریں!

علمائے کرام اور صوفیائے عظام نے لکھا ہے کہ اگر کسی کو  لفظ ”تصوف“ کے استعمال پراعتراض ہو تو وہ تصوف کا لفظ بے شک استعمال نہ کرے بلکہ قرآن پاک میں استعمال ہونے والی اصطلاح  ’’تزکیہ‘‘ یا حدیث کی اِصطلاح ’’اِحسان‘‘ استعمال کرے ، مقصد ایک ہی ہے  اور وہ ہے:

” نفس اور قَلب کی اصلاح کرکے تمام ظاہری اور باطِنی گناہوں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کو  را ضی کرنا۔“

بَیعَت سے کیا مُراد ہے؟

بَیعَت ایک سُنَّت عمل ہے۔ یہ ’’عَہدوپیمان‘‘  کو کہا جاتا ہے۔یہ پِیر و مُرشد اور اس کے شاگرد(مُرید) کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے، مُرشد یہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ اس کو اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنا سکھائے گا،اور مُرید یہ وعدہ کرتا ہے کہ مُرشد جو بتلائے گا اس پر عمل ضرور کرے گا۔ قرآن مجید میں بھی اس کا ذکر ہے:

اِنَّ الَّذینَ یُبا یِعُو نَکَ اِنَّما یُبَا یِعُونَ اللہ ۝

ترجمہ: ”بے شک جو لوگ آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں  وہ در اصل اللہ تعالیٰ سے بیعت کرتے ہیں۔“(سورہ فتح، آیت ۱۰)

اور دوسری جگہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

لَقَد رَ ضِیَ اللہُ عَنِ المُؤمِنِینِ اِذ یُبَا یِعُونَکَ تَحتَ الشَّجَرَۃِ ۝

ترجمہ: ”بے شَک اللہ تعالیٰ راضی ہو گیا ،اُن مومنوں سے جس وقت وہ بیعت کرتے تھے آپ ﷺ  سے اُس درخت کے نیچے“۔(سورہ فتح، آیت ۱۸)

          نبی کریمﷺ  نے صحابہ کرامؓ اور صحابیاتؓ سے مختلف اوقات میں بیعت (عہدوپیمان) لی ہے۔ (تفصیل کے لئے مُلاحِظہ کیجئے : بخاری جلد اَول )

          قرآن و حدیث میں بَیعَت کی پانچ اقسام بیان کی گئی ہیں:

(۱) ایمان پر بیعت                (۲) جہاد پر                (۳) ہجرت پر    (۴) نیک کام کرنے اور گناہ چھوڑنے  پر         اور             (۵) خِلافت پر

راہِ تصوف میں پِیرانِ کرام اپنے مُریدوں کو جو بیعت کراتے ہیں تو وہ مَسنون بیعت کی چوتھی قسم ہے ،یعنی مشائخ اپنے مُریدوں سے اس بات کا عہد لیتے ہیں کہ وہ نیک کام کریں گے اور تمام ظاہری اور باطنی گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گےاورپھر بیعت کرنے کے بعد اِس معاملے میں مشائخ اپنے مُریدوں کی رہنمائی بھی کرتے ہیں جس طرح نبی کریم ﷺ  نے صحابہ کرام کی رہنمائی فرمائی تھی۔

          لہٰذا  بیعت کرنے کا عمل سنت (مؤکدہ) ہے، البتہ اپنی اِصلاح (تزکیہ نفس) کرنا فرضِ عین ہے،کیونکہ یہ قرآن کا حکم ہے۔


اصل مقصد اصلاح ہے یا بیعت

یہاں اِس بات کی بھی وضاحت ضروری ہے کہ بعض لوگ صرف برکت کے لئے کسی شیخ و مُرشد کے ہاتھ پر بیعت کر لیتے ہیں اور اسی کو کافی سمجھتے ہیں۔یہ نَفس و شیطان کا ایک بہت بڑا دھوکہ ہے کیونکہ بیعت اور تصوف کا اصل مقصد اپنے نَفس اور قَلب کی اصلاح کرکے تمام ظاہری اور باطنی گناہوں کو چھوڑنااور اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے ۔اگر بیعت ہو کر شیخ کو اپنے حالات بیان نہیں کئےاوراُن کی رہنمائی میں اپنی اصلاح نہیں کی تو اصل مقصد حاصل ہی نہیں ہوا۔

کیا اپنی اِصلاح کے لئے قرآن وحدیث کافی نہیں ؟ اورکیا پِیر سے تعلق قائم کرنا ضروری ہے؟

پہلی بات یہ ہے کہ اعلیٰ درجےکا ایمان اورتقویٰ حاصل کرنے کے لئے  نیک لوگوں کی صحبت(Company) اختیار کرنے کا حکم خود قرآن پاک نے ہی دیا ہے ۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ  ۝

یعنی”اے ایمان والوں تقوی اختیار کرو اور سچے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ(التوبہ، آیت ۱۱9)

          چنانچہ جس طرح دُنیا کے کسی بھی فَن کو سیکھنے کے لئے اُستاد کی ضرورت پڑتی ہے اور کسی اُستاد کی شاگردی  اختیارکئے بغیر کوئی فَن یا علم نہیں سیکھا جا سکتا، اِسی طرح تزکیہ نفس اور رضائے الٰہی کو حاصل کرنے کے لئے  بھی اُستاد ( پِیر و مُرشد) کی شاگردی اختیار کرنی ضروری ہوتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ عام انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنی اصلاح خود نہیں کر سکتا۔اگر صرف عقل اور فطری صلاحیت، اللہ تعالی کی معرفت اور رضا حاصل کرنے کے لئے کافی ہوتی تو اللہ تعالیٰ انبیائے کرام ؑ   کو نہ بھیجتے اور نہ ہی آسمانی کتابوں کو نازل فرماتے  بلکہ جس طرح جسمانی امراض کے لئے صرف ڈاکٹری کتابیں پڑھ کر کوئی اپنا علاج خودنہیں کرسکتا بلکہ کسی مستندڈاکٹر کے پاس جاناپڑتاہے ، اسی طرح روحانی امراض  (بیماریوں)کے علاج کے لئے بھی کسی روحانی ڈاکٹر ( بُزرگانِ دین) سے ہی رجوع کرنا  ہوگا۔صرف کتابوں سے کوئی شخص کامل نہیں بن سکتا  بلکہ کسی کامل کی صحبت کی برکت سے ہی کامل بنا جا سکتا ہے۔

صحابہ کرام کی مثال سب کے سامنے ہے۔ قرآنِ پاک اُن کے سامنے نازل ہوا اوروہ عربی زبان پر بھی مکمل عبور رکھتے تھے لیکن اس کے باوجود نبی کریم ﷺ  کو قرآنِ پاک میں حکم دیا گیا کہ ”آپ ان (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) کا تزکیہ کیجئے“۔ چنانچہ احادیث کی کتابیں ایسے واقعات و ارشادات سے بھری پڑی ہیں جس میں آپ ﷺ  نےہر معاملے پر اُن کی رہنمائی فرما کر اُن کی اصلاح فرمائی۔

تیسری بات یہ ہے کہ قرآن وحدیث میں کامل ایمان اور تقویٰ حاصل کرنے کے لئے نیک لوگوں کی صحبت (Companyاختیار کرنے کی تاکید کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کی مجلس میں اللہ تعالیٰ کی محبت،عظمت ، خوف اور فکرِ آخرت  پیدا ہوجاتی ہے اور ان مبارک کیفیات کے پیدا ہونے کی برکت سے رفتہ رفتہ گناہ چھوٹ جاتے ہیں اور نیک کاموں کی توفیق مل جاتی ہے۔

پِیر و مُرشد کو منتخب کرنے کی ضرورت

بُزرگانِ دین کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ظاہری اور باطنی اصلاح کے لئے ابتدا میں کسی ایک شیخ(پیر)   کو منتخب کرکےاُس سے رہنمائی لینی چاہیئے تاکہ توجہ اور دھیان تقسیم نہ ہو۔البتہ کچھ خاص مدت بعد (یا جب شیخ مناسب سمجھے) ، دیگر  بزرگوں کی صحبت  بھی اختیار کر سکتا ہے۔مسلسل اپنے شیخ کی صحبت اختیار کرنے  اور اُن کی ہدایات پر عمل کرنے کی وجہ سے رفتہ رفتہ شیخ کی تمام اچھی صفات مُرید  میں منتقل ہونے لگتی ہیں،دِل میں نورانیت پیدا ہو جاتا ہے، نفس کی اصلاح ہو جاتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ مُرید بھی اللہ تعالیٰ کامحبوب بندہ بن جاتا ہے ۔

کیا ہر شخص کو پِیربنایا جاسکتا ہے؟

جی نہیں۔ہر شخص کوپِیر نہیں بنایا جاسکتا بلکہ ایسےشخص کوپِیر ومرشد  بناناچاہیئے جس میں مندرجہ ذیل خوبیاں ہوں:


(1)    کم از کم اُن عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاقیات کا علم رکھتا ہو جن کا جاننا فرض عین ہے اور جن  امور سے متعلق ضروری علم اُس کے پاس نہ ہو تو مستند اور قابل اعتماد علماء سےرہنما ئی لینے والاہو۔

(2)    شریعت پر عمل کرنے والاہو ۔

(3)    سُنتِ نبوی ﷺ پر عمل کرنے والا ہو اور بِدعات سے  پرہیز  کرنے والا ہو۔

(4)    دین کی بلندی اور بقاء کےلئے جدوجہد کرنے والا ہو۔

(5)    زاہد ہو، دنیا کی طرف راغِب نہ ہو۔

(6)    مشائخ کرام (پِیرانِ کرام) کا صحبت یافتہ ہو اور بیعت کرانے کے لئے باقاعدہ اجازت یافتہ ہو۔

(7)    نیک لوگوں کی نظر میں مقبول ہو، مبغوض(ناپسندیدہ) نہ ہو۔

(8)    اُس کی صحبت اور زیارت میں تاثیر(اثر) ہو۔

(9)    دینی اُمور میں حق بات کہنے والا ہو اور بے جارعایت کرنے والا نہ ہو۔

(10) اﷲتعالیٰ کی ذات اور صفات کی معرفت کا صرف زبانی دعوے دار نہ ہو بلکہ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کا علم ومَعرفت حاصل کر چکا ہو ، جس کی ایک علامت یہ  بھی ہے کہ اُن کی مجالس میں جانے سےدل میں اللہ تعالیٰ کی محبت، عظمت اور خوف پیدا ہو جائے، آخرت 

کی طرف توجہ بڑھ جائے ،نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت پیدا ہو جائے۔

اہم نکات:     اگر کوئی شخص کسی پِیر میں مندرجہ بالا صفات دیکھےاور مناسبت محسوس کرےتو  اُس سے اپنی اصلاح کے لئے تعلق قائم کرلینا چاہیئے ۔مُرید کو یہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ اُس  کے شیخ سے کوئی کرامت صادر ہوتی ہے یا نہیں،کَشف ہوتا ہے یا نہیں ، ہر دعا قبول ہوتی ہے یا نہیں، اُس کی توجہ سے لوگ تڑپتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں”پیر“ یا ”مُرشد“ بننے کے لئے ضروری نہیں اور نہ ہی اللہ کے وَلی میں کشف وکرامات وغیرہ  کا ہونا ضروری ہے کیونکہ ان میں بعض چیزوں کا تعلق تو مَشق (Practice) سے ہوتا ہے جو بے دین بلکہ غیر مسلموں کو بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کےحقیقی دوست ان چیزوں کی طرف توجہ نہیں فرماتے اور نہ ہی وہ اپنے مُریدوں کو ان غیر مقصودی چیزوں کے حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ خود بھی شریعت پر چلتے ہیں اور اپنے مُریدوں میں بھی شریعت پر چلنے کا جذبہ پیدا فرماتےہیں.

  یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ اگر غلطی سے کسی ایسے پیر سے بیعت کرلی جس کا عقیدہ خراب ہو یا وہ بدعات میں مبتلا ہو یا صریح گناہوں میں مبتلا ہو تو ایسے پیر سے فوراً تعلق ختم کرکے مندرجہ بالا صفات کے حامل پیر کو تلاش کرکے اُس سے بیعت کرنی چاہیئے۔

کیا خواتین بھی بیعت کر سکتی  ہیں؟

جی ہاں،کیوں نہیں ۔قُرآن مجید میں بیعت کے بارے میں جو آیت ہے وہ خواتین کی بیعت کے متعلق ہے ۔مَردوں کی بیعت تو حدیث پاک سے ثابت ہے۔خواتین بھی کسی پیر و مُرشد سے اپنی اصلاح کے لئے بیعت کر سکتی ہیں، البتہ  شرعی پابندیوں مثلاً پردے کا خیال رکھنا  ضروری ہے کیونکہ پیر خواہ کتنا ہی بزرگ یا بوڑھا کیوں نہ ہو ، اگر نا محرم ہے تو خواتین کے لئے اُس سے پردہ کرنا فرض ہے۔ اس کے علاوہ پیر سے خط و کتابت شوہر،والد یا بھائیوں کے ذریعے کرنی چاہیئے اور تنہائی میں ملاقات بھی بالکل نہیں کرنی چاہیئے۔فون وغیرہ پر روابط سےبھی حتی الامکان پرہیز کرنی چاہیئے۔ اس معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔

پِیر اپنے مُرید کی اِصلاح کیسے کرتا ہے؟

1: شَیخ کی صُحبت  (Company) :

مُرید کی اِصلاح کا سب سے بڑاذریعہ اپنے شَیخ کی صحبت (Company) ہے۔ جتنا زیادہ عرصہ محبت، ادب اور طلب کے ساتھ اپنے پیر کی مجالس میں حاضرہو گا،اُتنا ہی زیادہ اُس کو فائدہ ہوگا ۔

2:  ذکر و مُراقبہ:

دوسری بات یہ ہے کہ پیرانِ کرام اپنے مُریدوں کو خاص طریقوں سے ذکر کرنے کی تعلیم دیتے ہیں، اور مشائخ کے تجویز کردہ طریقے پر ذکر کرنے اور اُن کی دیگر ہدایات پرعمل کرنے  سےاُن کی اصلاح ہوتی ہے۔

3:  مُرشد کی تعلیمات پر عمل:

 تیسری بات یہ ہے کہ مُرید جِن ظاہری اور باطنی گناہوں میں مبتلا ہوتاہے، وہ اپنے شیخ کے علم میں لاتا ہے اور شیخ اپنی بصیرت اور روحانی فراست کی روشنی میں اُس کی رہنمائی کرتا ہے۔ احادیث سے بھی یہ ثابت ہے کہ صحابہ کرامؓ باقاعدگی سے مختلف روحانی بیماریوں کے سلسلے میں نبی کریم ﷺ سے رہنمائی حاصل کرتے تھے۔

 4:  تَوَجہ کا استعمال

چوتھی بات یہ ہے کہ اکثر مشائخ (پِیران کرام) اپنے مُریدوں کی اصلاح کےلئے  ایک خاص باطِنی قوت کا استعمال کرتے ہیں جسے تصوف کی اِصطلا ح میں ’’تَوَجَّہ‘‘ کہتے ہیں۔ تَوجہ کی دوقسمیں ہیں: پہلی قسم تو یہ ہے کہ پِیرو مرشدکی خواہش ہو کہ فلاں شخص کے دل میں اﷲ کی محبت، اﷲ کا خوف، نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت پیدا ہوجائے اور اُس کے لئے دعا کرے۔ دوسری قسم وہ ہے جس میں مشائخ اپنی قوتِ ارادی (خیال کی قوت) کو استعمال کرکے اپنے مریدوں کے باطن (قلب و نفس)میں کسی اچھی کیفیت (مثلاً اﷲ کی محبت، اﷲ کا خوف، گناہوں کی نفرت اور نیکیوں کی محبت وغیرہ) کوڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اورِ اس طریقے سے اُن کی اصلاح کرتے ہیں۔

احادیثِ نبویﷺ میں توجہ کی ان اقسام کا ذکر ملتا ہےچنانچہ پہلی وحی نازل ہوتے وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام کا نبی کریم ﷺ  کو تین بار زور سےسینے سے لگانے کا ذکر بخاری شریف میں بھی آیا ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے اِس عمل کا مقصد اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنی قوت،توجہ اور ہمت استعمال کرکے آپ ﷺ  کے باطن میں اس استعداد کی تکمیل کرانی تھی جووحی کی فیوض و برکات کو قبول کرنے کے لیے ضروری ہے۔(اقتباس از التکشف،حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ)

کیا مدارس کے طلباء،اساتذہ،دینی و سیاسی جماعتوں ،تبلیغی جماعت،جہادی تحریکوں اوردیگر دینی تنظیموں کے کارکنوں اور رہنماؤں  کے لئے بھی بیعت ہونااور کسی پیر کے ذریعے اپنی اصلاح کرانا ضروری ہے؟

یقیناً جس طرح  عام مسلمانوں کے لئے اپنی ظاہری و باطنی اصلاح کرنا اور اللہ تعالیٰ کی رَضا حاصل کرنے کی طلب اور کوشش  ضروری ہے،اسی طرح  دینی جماعتوں، تنظیموں اور تحریکوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کے لئے بھی ضروری ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام دینی کاموں میں قوت ،اثر اور جان پیدا کرنے کے لئے کارکنوں اور رہنماؤں میں کامل ایمان، اخلاص اور تقویٰ کی اعلیٰ صفات کی موجودگی انتہائی ضروری ہے، اور عام مشاہدہ، تجربہ اور تاریخ یہی بتاتی ہے کہ یہ اعلیٰ صفات کسی پیر و مُرشد کی نگرانی میں اپنی اصلاح کئے بغیر حاصل نہیں ہوسکتیں ۔اگر کارکنوں اور رہنماؤں کے نفوس کی اصلاح نہیں ہوئی ہو تو تحریکوں میں شہرت ، مفادات اورمالی فوائد حاصل کرنے کی جنگ شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے تحریکیں دَم توڑ دیتی ہیں۔ (نفوس :نفس کی جمع)

اس کے علاوہ دینی تحریکوں میں لگے ہوئے لوگ بعض ظاہری دینی اعمال کی ادائیگی کو کافی سمجھ کر اپنے نفس اور قَلب کی  اصلاح سے غافل ہو جاتے ہیں ، اوروہ یہ بھول جاتے ہیں کہ دین صرف نماز  پڑھنے ،داڑھی رکھنے اور تبلیغ یا جہاد کرنے کا نام نہیں بلکہ دین تو عقائد،عبادات، معاملات( کاروبار، ملازمت وغیرہ) ،معاشرت (معاشرے کے حقوق) اور اخلاقیات(تصوف/تزکیہ) سمیت تمام شعبوں میں

اللہتعالیٰ کے احکامات کے مطابق زندگی گزارنے کا نام ہے۔

دین کا صحیح تصور:

نماز،داڑھی،تبلیغ ،جہاداورسیاست یقیناً اہم ترین اعمال ہیں اور ان کو ادا کئے بغیر دین کاتصور ناقص رہتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مندرجہ بالا اعمال مکمل دین نہیں بلکہ دین کے ایک شعبہ ”عبادات “   کا حصہ ہیں ،اور آخرت میں نجات کے لئے صرف اِن عبادات کی ادائیگی نجات کے لئے کافی نہیں۔

اس لئے یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ” عقائد ،عبادات ،کاروبار،لین دین ، ملازمت ،تجارت ،والدین ،رشتہ داروں اور معاشرے کے دیگر افراد کے حقوق کے متعلق ضروری دینی علم حاصل کرنا اور اِ ن تمام شعبوں میں شریعت کے مطابق  عمل کرنا فرض عین ہے“۔اس کے ساتھ ساتھ ”تمام ایمانی صِفات (مثلاً محبت الٰہی، تقویٰ،عاجزی، اخلاص،زُہد،توکل،تسلیم ورضا وغیرہ ) کے بارے میں جاننا اور اِن صفات کو حاصل کرنا اور تمام بری صفات(مثلاً حسد، بغض، کینہ، تکبر، لالچ وغیرہ)کے بارے میں علم حاصل کرنا اوراُن سے بچنا بھی”فرضِ عین“ ہے“ ۔

ایک ناقابل تردید حقیقت

تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین کا کام صرف اُن حضرات سے لیا ہے جنہوں نے کسی اللہ والے کی صحبت میں رہ کر اپنے نفس اور قلب کی اصلاح کی اورکامل ایمان،اخلاص اور تقویٰ کی عظیم دولت حاصل کی ۔ اس کے بعد اُنہوں نے  دین کے جس شعبے میں بھی کام کیا ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کی اصلاح کا سبب بنے۔آج کل کی دینی تحریکات کے بے جان ہونے اور باطل تحریکوں کے پھیلاؤ کی بنیادی وجوہات میں سے ایک سبب یہ بھی ہے کہ اکثر دینی تحریکوں کے قائدین اور کارکنان اپنی اصلاح کئے بغیر ان تحریکوں میں لگ جاتے ہیں چنانچہ اکثر دینی کاموں سے خیر کَم اور شَر زیادہ پھیلتا ہے۔

یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ جس دینی کارکن کے دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور عشق ہوگا اور اُسے عمدہ اخلاق اور تقویٰ کی اعلیٰ صفات حاصل ہونگی وہی دوسروں کے دِلوں میں یہ صفات پیدا کر سکتا ہے جو بے چارا خود ان صفات سے خالی ہوگا وہ بھلا دوسروں میں کیا تبدیلی لا سکے گا۔

اس لئے تمام دینی جماعتوں اور تحریکوں میں شامل حضرات کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی کامل پیر و مُرشد کی نگرانی و رہنمائی میں اپنی ظاہری اور باطنی اصلاح کرائیں،عشق اِلٰہی ، اخلاص اور تقویٰ حاصل کریں اور پھر شیخ ہی کے مشورے اور رہنمائی میں دینی کام کریں ، ان شاء اللہ ہزار گنازیادہ فائدہ ہوگا۔ 

کیا صوفیائے کرام کی کتابوں میں قرآن و سنت کے خلاف اقوال موجود ہیں؟

یہ بالکل بے بنیاد الزام ہے۔بڑے بڑےصوفیائے کرام کی کتابیں اُٹھا کر دیکھ لیں وہ صرف قرآن  پاک، سنت نبوی ﷺ اور اِجماعِ اُمت پر عمل کرنے کی دعوت دیتے ہیں اور ایمان و تقویٰ کے اعلیٰ ترین درجات کو حاصل کرنےکی ترغیب دیتے ہیں۔البتہ اگر کسی جگہ پر اُن کی تحریروں یا تقریروں میں بظاہر کوئی بات قرآن و سنت کے خلاف نظر آئے تو بدگمان ہونے کی بجائے دیگر علمائے کرام اور صوفیائے کرام سےرہنمائی حاصل کرنی  چاہیئے اور چند عبارات کی بنیاد پر بزرگانِ دین پر گمراہی کے فتوے نہیں لگانے  چاہیئے۔البتہ اگر کسی  نام نہاد صوفی کی اپنی زندگی شریعت کے خلاف گذری ہو اوراُس کے اقوال و افعال قرآن و سنت کے خلاف نظر آئیں تو صوفیاء اور علماء کو چاہیئے کہ کھل کر اُس کی تردید  کریں ۔

اس معاملے میں اب تک علمائے کرام کا یہی  طریقہ کارچلا آرہا ہے کہ وہ باعمل صوفیائے کرام سے منسوب قابل اعتراض ارشادات اور کشف و کرامات کو فورا ً رَد نہیں کرتے بلکہ اگر ممکن ہو تو اُن کی مناسب تاویل کرتے ہیں البتہ کوئی بات واضح طور پر شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہو تو اُن  کے احترام اور ادب کالحاظ رکھتے ہوئے ، اُن سے منسوب  قابل اعتراض ارشادات کی کھل کر تردید فرماتے ہیں اور شریعت کےصحیح احکامات لوگوں کے سامنے  پیش کرتے ہیں۔

         تمام علماء ،فقہاء اور صوفیائے کرام اس بات پر متفق ہیں کہ  دین اسلام پر عمل کرنے کے لئے اصل سرچشمہ قرآن پاک،سنت نبوی اور اُمت کا اِجماع (امت کا متفقہ فیصلہ)ہے، صوفیائے کرام کے کشف و کرامات نہیں ۔یہ بھی ایک حقیقت ہے  کہ بعض اوقات صوفیا ئے کرام کے مضامین بالکل درست ہوتے ہیں لیکن پڑھنے والے کی سمجھ نہیں آتے اور الزام صوفیائے کرام پر لگا لیتے  ہیں۔ 

صوفیائے کرام کی پیچیدہ عبارات اور راہِ اعتدال

ہر علم و فن کے انداز ِ بیان اوراِصطلاحات (terminologies) کے مخصوصماہرین ہوتے ہیں۔جو شخص  کسی علم و فن کا ماہر اور تجربہ کار نہ ہو تو بعض اوقات غیر متعلقہ فَن کی کتابیں پڑھ کر غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔دنیاوی اور دینی علوم دونوں میں یہ اصول کار فرما ہے۔اِن میں سب سے زیادہ مشکل اور پیچیدہ مضامین اُن کتابوں میں ملتے ہیں جو تصوف اور اُس کے فلسفے پر لکھی گئی ہیں،کیونکہ ان کا تعلق عقائد اور ظاہری اعمال کی بجائے اُن باطنی تجربات اور کیفیا ت سے ہوتا ہے جو صوفیائے کرام پر بعض اوقات طاری ہوتے ہیں اور بعض اوقات اُن کیفیات کو عام فہم اور مشہور الفاظ کے ذریعہ بیان کرنا دشوار ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علماء اور فقہاء نے کبھی بھی دین کے بنیادی عقائد، مسائل اور عملی احکامات کے لئے تصوف کی کتابوں کو سرچشمہ قرار نہیں دیا بلکہ ہمیشہ قرآن، سنت اور اجماع ہی کی پیروی کو لازم قرار دیا ہے۔عقائد کے مسائل ،عقائد کی کتابوں سے سمجھے جاتے ہیں اورعبادات،معاملات اور معاشرت کے احکامات  فِقہ کی کتابوں سے سمجھے جاتے ہیں ،خود صوفیائے کرام ان معاملات میں اِنہی علوم کی کتابوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

صوفیائے کرام نے خود بھی اس بات کی وضاحت کی ہوتی ہے کہ جو شخص تصوف کے اِن باطنی کیفیات سے نہ گذرا ہو اُس کے لئے صوفیائے کرام کی کتابوں کا دیکھنا جائز نہیں کیونکہ بعض اوقات ان کتابوں میں ایسی باتیں نظر آتی ہیں کہ جو مفہوم بظاہر سمجھ میں آرہا ہوتا ہے وہ بالکل عقل یا شریعت کے خلاف ہوتا ہے لیکن لکھنے والے کی مُراد کچھ اور ہوتی ہے، صوفیائے کرام کی اس قسم کی عبارات کو ’’شَطحِیات‘‘ کہا جاتا ہے۔

تمام علماء اور فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ دین کے کسی بنیادی عقیدے یا مسائل کے لئے تصوف کی کتابوں کی طرف رجوع کرنا غلط ہے اور اس کا نتیجہ بعض اوقات   گمراہی کی شکل میں بھی نکل سکتا ہے۔اِس اصول کو خود بڑے بڑے صوفیائے کرام نے بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی ؒ جو فَنِ تصوف کے اِمام سمجھے جاتے ہیں،بعض صوفیائے کرام کی چند ایسی ہی خلافِ شریعت باتوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

’’ یہ باتیں خواہ شیخ کبیر یمنی نے کہی ہوں یا شیخ اکبر شامی نے ، ہمیں محمد عربی ﷺ  کا کلام چاہیئے نہ کہ محی الدین ابن عربی ، صدر الدین قونیوی اور عبدالرزاق کاشی کا کلام۔ ہمیں نَص(یعنی قرآن و سنت) سے غرض ہے نہ کہ فَص سے ( یہ ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم کی طرف اشارہ ہے) ۔فتوحات مدنیہ نے ہمیں فتوحات مکیہ(صوفیاء کی ایک کتاب کا نام ہے) سے مستغنی(بے نیاز) کر دیا ہے۔‘‘  ( مکتوبات شریف حصہ اول دفتر اول مکتوب نمبر ۱۰) 

وَحدۃ الوجود کے نظریہ سے کیا مُراد ہے؟ اور کیا صوفیائے کرام وَحدۃ الوجود کا نظریہ رکھتے ہیں؟

”وَحدَت الوجود“چند صوفیائے کرام کو درپیش آنے والے کشفی حالات میں سے ایک حال ہے ۔بعض صوفیوں نے اس کا وہ مفہوم مشہور کر دیا جس کی سرحدیں کفر تک جا ملتی ہیں۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہر دور میں علمائے کرام اور صوفیائے کرام نے تصوف کے شعبے میں پیدا ہونے والی  اِس قسم کی گمراہیوں کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں بر تی۔

وَحدَت الوجود کا درست مفہوم نیچے دَرج کیا جارہا ہے؛

وَحدَت الوجود کا لفظی معنیٰ ہے ” وجود کا ایک ہونا“۔ اور ”ایک“ ہونے کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ خالق اور مخلوق ایک ہی ہیں (اور اِن میں کوئی فرق نہیں) یا یہ کہ (نعوذُ باللہ) اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں میں حلول(داخل ہوجانا) فرمایا ہے یا یہ کہ تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ متّحد(مِلی ہوئی) ہیں ۔ یہ تمام نظریات توتمام علماء اور محقق صوفیائے کرام کے مطابق واضح  طور پرکفر یہ ہیں۔

وَحدَت الوجود کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اگر چہ دوسری مخلوقات موجود ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کے سامنےاُن کا وجود اتنا ناقص اور نامکمل ہے گویا کہ دوسری مخلوقات موجود  ہیں ہی  نہیں، اِسی کو مبالغۃً ”وَحدَۃُ الوَجود“یا ” ہَمہ اوست“ کہا گیا ہے ۔

شَیخُ الاِسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب فرماتے ہیں؛

”وَحدَت الوجود کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود صرف ذات ِ باری تعالیٰ کا ہے،اس کے سوا ہر وجود بے ثبات ،فانی اور نامکمل ہے۔ایک تو اس لئے کہ وہ ایک نہ ایک دن فنا ہو جائے گا،دوسرے اس لئے کہ ہر شئے اپنے وجود میں ذاتِ باری تعالیٰ کی محتاج ہے،لہٰذا جتنی اشیاء ہمیں اس کائنات میں نظر آتی ہیں ،اُنہیں اگر چہ وجود حاصل ہے لیکن اللہ کے وجود کے سامنے اُس وجود کی کوئی حقیقت نہیں ، اس لئے وہ کالعَدَم ہے ( یعنی نہ ہونے  کی طرح ہے)۔

اس کی نظیر (مثال) یوں سمجھئے جیسے دن کے وقت آسمان پر سورج کے موجود ہونے کی وجہ سے ستارے نظر نہیں آتے،وہ اگر چہ موجود ہیں،لیکن سورج کا وجود اُن پر اس طرح غالب ہو جاتا ہے کہ اُن کا وجود نظر نہیں آتا۔اسی طرح جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے حقیقت شناس نگاہ دی ہو وہ جب اِس کا ئنات میں اللہ تعالیٰ کے وجود کی معرفت حاصل کرتا ہے تو تمام وجود اُسے ہیچ،  ماند بلکہ کالعدم نظر آتے  ہیں۔

وحدت الوجود کا یہ مطلب صاف، واضح اور درست ہے ،اس سے آگے اِس کی جو فلسفیانہ تعبیرات کی گئی ہیں،وہ بڑی خطرناک ہیں اور اگر اُس میں غلو   ( اعتدال سے تجاوز ) ہو جائے تو اِس عقیدے کی سرحدیں کفر تک جا ملتی ہیں۔اس لئے ایک مسلمان کو بس سیدھا سادا یہ عقیدہ رکھنا چاہیئے کہ کائنات میںحقیقی اور مکمل وجود اللہ تعالیٰ کا ہے ، باقی ہر وجود نامکمل اور فانی ہے۔ ( فتاویٰ عثمانی ج 1 صفحہ 66) 

اس کو ایک دوسری مثال سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جیسے کوئی شخص بادشاہ کے دربار میں کوئی درخواست پیش کرے اور بادشاہ اُسے چھوٹے حکام کی طرف  رجوع کا مشورہ دےاور یہ شخص جواب میں کہے کہ حضور آپ ہی سب کچھ ہیں تو اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہوتا کہ حکام اور بادشاہ دونوں ایک ہی ہیں  بلکہ مطلب یہ ہے کہ سب حکام آپ  کے سامنے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ 

جدیددَورکے مسلمان کے لئے تَصَوُّف کی راہ پر چلنا ضروری کیوں؟

یہ ایک حقیقت ہے کہ ماضی کے مقابلہ میں آج کے مسلمانوں کی اکثریت پریشانی،بےسکونی اوربے شمار روحانی  امراض کا شکار ہے۔کہا جا سکتا ہے کہ توحید، رسالت اور آخرت کے بنیادی عقائد پر اُن کا ایمان صرف زبانی  حد تک  باقی رہ گیا ہے۔عملی طور پر زندگی کے تقریباً ہر مَوڑ پر شریعت کے احکامات کی مخالفت  کا مشاہدہ ہو تا ہے۔ جو زیادہ دین دار سمجھے جاتے ہیں اُن میں بھی اکثر صرف چندعبادات کی ادائیگی کو مکمل دین سمجھتے ہیں ۔ کاروبار،لین دین، ملازمت، نکاح و طلاق، خوشی غمی اور دیگر معاشرتی امور میں جائز  ناجائزاورحلال وحرام کا تصور کافی حد تک کمزور ہو چکا ہے۔ محبتِ الٰہی ،خوفِ خُدا، آخرت، توکل، قِناعت،صبر ،شکر، اخلاص، وغیرہ جیسی صفات تقریباًنا  پَید ہو چکی ہیں۔

انٹرنیٹ، ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا  کے ذریعے پھیلائی گئی بے حیائی اور فحاشی نے تو معاشرے میں بد نظری، بد عملی ، غیر عورتوں کے ساتھ روابِط اور موسیقی کی مخلوط مجالس کا ایسا طوفان برپا کر دیا ہے کہ معاشرے میں حیا ، پاک دامنی اور غیرت جیسی عظیم ایمانی صفات کا جنازہ اُٹھ گیا ہے۔خاص کر جدید تعلیم یافتہ اداروں کے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تو اس بے حیائی کے دَلدَل میں ایسی پھنسی ہوئی ہے کہ کالجز اور یونیورسٹیوں میں دینی روایات کا حامل ماحول کم ہی نظر آتا ہے۔ مَسنُون چہروں سے مزین باحیا و پاکیزہ کردار کےدین دار نوجوان اِس ماحول میں اجنبی اجنبی سے لگتے ہیں۔

یقیناًکوئی بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے خوش نہیں رہ سکتا چُنانچہ اس مسئلے کا واحدحل ”نیک ماحول“ کو اختیار کرنا ہے اور ایسی مجالس میں شرکت کرنے کی ضرورت ہے جہاں محبتِ الٰہی،خوفِ الٰہی ،فکرآخرت،نیک اعمال کی محبت اور گناہوں سے نفرت کے تذکرے ہوں۔

 یقیناً بزرگانِ دین کی مجالسِ وَعظ و ذکر میں اپنی اِصلاح کی نیت سے حاضری دینے والے انسان کی زندگی میں مثبت تبدیلی آجاتی ہے اوراُس کی زندگی کا مقصد صرف دُنیاوی عیش و عشرت اور مال و دولت کا حصول نہیں رہتا  بلکہ اُس کی نیت ہر کام میں صرف اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہو جاتا ہے۔اگر وہ تجارت ، کاروبار اور ملازمت بھی کرتا ہے تو صرف اپنے اہل و عیال کے لئے حلال رزق فراہم کرنے ،معاشرے ، ملک اورمِلت کے فائدےکی نیت سے کرتا ہے ۔ بالکل یہی تصوف کا بھی مقصود ہے۔ گویا اپنی زندگی کو دینی رُخ پر لانے کے لئے راہِ تصوف پر چلناآج کے مسلمان کی ایک اہم ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ بننے کے دُنیاوی فوائد

اگرچہ مخلص مسلمان کی نظر صرف اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی طرف  ہی ہونی چاہیئے اوریہ نہیں دیکھنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور گناہ چھوڑنے پر اُسے دُنیا میں کون کون سی نعمتیں ملتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو دُنیا میں بھی اِنعامات سے نوازتے ہیں۔ چند ایسی  نعمتیں، جن کا ذکر قرآن پاک میں کیا گیا ہے، مندرجہ ذیل ہیں؛

(1) رزق بڑھتا ہے (2) ہر طرح کی خیر اور برکت نصیب ہوتی ہے (3)  ہر قسم کی دشواری سے نجات مل جاتی ہے (4) پاک اور ستھری زندگی نصیب ہو جاتی ہے (5) قلب میں راحت اور اطمینان پیدا ہو جاتا ہے جس کی لذت کے سامنے دُنیا کی ساری سلطنتیں اور مال و دولت ہیچ ہیں (6) اولاد کو نفع پہنچتا ہے وغیرہ

اللہ تعالیٰ کے بندوں کو مندرجہ بالا نعمتوں کے ساتھ ساتھ”حیات ِ طَیِّبہ“یعنی پاک اور صاف ستھری زندگی اور ”اطمینان قلب“ کی دولتیں بھی ملتی ہیں۔لیکن  حیات ِ طَیِّبہ اور اطمینان قلب کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ دُنیا میں اُس کو زیادہ مال و دولت ملے اور  کسی قسم کی مالی اورجانی تکلیف و پریشانی نہ پُہنچے ، بلکہ حیات ِ طَیِّبہ کا مطلب یہ ہے کہ عام طور پر تو قانون یہ ہے کہ بندے کی جتنی دنیاوی ضروریات ہیں وہ اللہ تعالیٰ پوری فرما دیتے ہیں اورجن نعمتوں کا اوپر ذکر کیا گیا ہے وہ اُسے عطا فرما دیتے ہیں البتہ اگر ”امتحان“،”اصلاح“ یا” درجات کی بلندی“ کی خاطر کسی نیک بندے پر کوئی تکلیف یا پریشانی آبھی جائے تو  اُس پریشانی کی حالت میں بھی اُس کے دل کو ایک خاص قسم کا اطمینان اور تَسلّی حاصل ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین کی وجہ سے وہ صبر، توکل اور تسلیم و رضا سے کام لیتا ہے۔یہی حیاتِ طیبہ کا صحیح مفہوم ہے۔   

کیا تصوف افراد یامعاشرے کی اِصلاح میں کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ ہمارے موجودہ معاشرتی بگاڑ کا واحدحَل معاشرے کے افراد کو ”باعمل مسلمان “ بنا نا ہے اور یہی مقصد تصوف کا بھی ہے،گویا ایک حقیقی صوفی اور کامل مسلمان میں کوئی فرق نہیں ہوتا ۔

حقیقی صوفی اُس شخص کو کہا جا تا ہے جو صرف نام کا مسلمان نہ ہو بلکہ اُس کےقَلب اور نفس کی اصلاح ہو چکی ہو اور اُس کے  عقائد ،عبادات ، معاملات ، معاشرت اور اخلاقیات  پر شریعت کا اثرغالب ہو ۔ ایسے باعمل مسلمان کا اللہ تعالیٰ پر مضبوط ایمان ہوتا ہے، معاشرے کے تمام افراد کے لئے رحمت کا باعِث بنتا  ہے،ماں باپ،رشتہ داروں ،ہمسایوں ، دوستوں اور معاشرے کے دیگر تمام افراد کے لئے خیر خواہی اور بھلائی چاہتا ہے، اُن کی راحت اور آرام کا خیال رکھتا ہے ۔اپنے قول اور فعل سے کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔مختصر یہ کہ اُس کی شخصیت ہرلحاظ سے انتہائی”خوشگوار“ اور”متوازن (Balanced)“ ہوتی ہے۔

اصلاح ہو جانے کے بعدایک باعمل مسلمان کے دل میں اللہ تعالیٰ سے عشق و محبت، خوفِ الٰہی ، قناعت،صَبر،شکر اوردیگر اچھی صِفات پیدا ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ کسی دوسرے مسلمان کا حق نہیں دباتا ،کسی پر ظلم نہیں کرتا، لالچ نہیں کرتا،رشوت نہیں لیتا ،لین دین، کاروبار، ملازمت اور دیگر معاملات میں دیانت ، امانت، انصاف اورسچائی سے کام لیتا ہے  ۔اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے ادا کرتا ہے اورحرام مال سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔قناعت اور صبر کی زندگی اختیار کرتا ہے۔الغرض اُس کی ایک ایک ادا سے مخلوقِ خدا نفع اُٹھاتی ہے۔

حقیقی تصوف کے پیغام کوپھیلانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے

چُنانچہ معاشرے میں عدل، انصاف ، بھائی چارے ،امن و سکون ،دیانت اور امانت کو فروغ دینے کے لئے ضروری ہے کہ تصوف کے نام پر ہونے والے کاروبار اور ”نام نہاد بے عمل صوفیائے  کرام“ کی تعلیمات کے بجائے ”صحیح اور حقیقی تصوف (تزکیہ نَفس) “ کے پیغام کو عام کیا جائےاور عوام و خواص کو باعمل صوفیائے کرام کی اصلاحی مجالس اور مراکز میں جڑنے کی ترغیب دی جائے، اُن کے سامنے مکمل دین کے صحیح تصور کو عام کیا جائے اوراُنہیں اس بات کی بھی تعلیم دی جائے کہ دین صرف چندظاہری اعمال پر عمل کرنے کا نام نہیں بلکہ دین کے تمام اجزاء یعنی عقائد ، عبادات،معاملات (لین دین،کاروبار،ملازمت وغیرہ) ، معاشرت (Social interaction)  اور اخلاقیات( تصوف/تزکیہ) پر عمل ضروری ہے ۔اِس سے معاشرے میں بحیثیتِ مجموعی خوفِ خدا اور فکرِ آخرت پیدا ہو گی اور عدل و انصاف اور امانت و دیانت کا بول بالا ہوگا ۔ 

خلاصہ یہ کہ تصوف کی محنت کا آغاز اگر چہ فرد کی اصلاح سے ہوتا ہے لیکن اس کے نتیجے میں  پورے معاشرے ، تمام اداروں یہاں تک کہ ریاست و حکومت کی بھی اصلاح ہو سکتی ہے۔

کیا واقعی صوفیائے کرام ، معاشرے میں دین کو نافذ کرنے کی کوششوں میں  کردار ادا نہیں کرتے؟

صوفیائے کرام کے بارے میں یہ ایک  تصور عام ہےکہ وہ ایک گوشے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے ہیں اور معاشرے میں اسلامی احکام کے نفاذ کی فکر نہیں کرتے۔ تاریخ ،مشاہدے اور تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ الزام مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ قرآن و سنت کے علم بردارصوفیائے کرام میں دین اسلام کے نفاذ کی جتنی فکرپائی جاتی ہے شائد ہی کسی اور طبقہ میں یہ فکر اِس شدت کے ساتھ پائی جاتی  ہو۔البتہ قرآن پاک اور احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی دینی تحریک کی کامیابی کے لئے رہنماؤں اور کارکنوں میں جس درجے کے ایمان، اخلاص ،تقویٰ، تزکیہ نفس اورعشق الٰہی کی ضرورت ہوتی ہے وہ عموماً ذکروفکر، مجاہدات اور اللہ والوں کی صحبت   کے بغیر حاصل نہیں ہوتی لہٰذا صوفیائے کرام کا یہی نقطہِ نظر ہے کہ معاشرے  میں شروع کی جانے والی کسی بھی تحریک کی ابتدا ” افراد سازی“ کے عمل سے ہونی چاہیئے یعنی کچھ خاص تعدادمیں ایسے افرادتیار ہونےضروری ہیں جن میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں تاکہ وہ ہر دینی جدوجہد میں اخلاص کے ساتھ حصہ لیں اور بوقت ضرورت دین کی سر بلندی کے لئے ہرقسم کی قربانی دینے کے لئے تیار رہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر دینی تحریکوں کی ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ قائدین اور کارکنوں میں اخلاص ،تقویٰ،تعلق مَعَ اللہ اور تزکیہ نفس  کی کمی ہی ہوتی ہے چنانچہ عہدے ، شہرت اور مال کے لالچ کی وجہ سے اکثر دینی تحریکوں میں انتشار پیدا ہو جاتا ہے جو بالآخر تحریک کے خاتمے کا سبب بن جاتا ہے۔

آج سے تقریباً چار سو سال پہلے ،گیارھویں صدی ہجری میں ،جب اکبر بادشاہ نے دین اسلام اور دیگر مذاہب کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی کوشش کی اور دین اسلام کو مِٹانا چاہا  تو اُس وقت اس کے سامنے سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم شیخ حضرت مُجَدِّد اَلف ثانی شیخ احمد سرہندی ؒ  کھڑے ہوئےتھے اور اور اپنے یقین و ایمان ،عزم و توکل اور روحانیت و اخلاص سے سلطنت کے اند ر ایک ایسا اندرونی انقلاب شروع کیا کہ سلطنتِ مغلیہ کا ہر جانشین اپنے سے پہلے گذرے ہوئے بادشاہوں کے مقابلے میں دینی رنگ میں رنگا نظر آنے لگا۔یہاں تک کہ بالآخر محی الدین اورنگ زیب جیسا دین دار انسان بادشاہ بنا۔

کیا صوفیائے کرام جہاد میں حصہ نہیں لیتے؟

یہ اعتراض کہ صوفیائے کرام جہادمیں حصہ نہیں لیتے یا جہاد کی مخالفت کرتے ہیں، مکمل لاعلمی یا ضد کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ جہادِ اسلامی کی تاریخ اُٹھا کر دیکھا جائے توہر جہادی معرکے کی قیادت یا تو صوفیائے کرام نے خود کی ہے یا مجاہدین کو جانی، مالی اور نظریاتی مدد فراہم کی ہے ۔

ماضی قریب ہی کی چند تحریکوں کا جائزہ لیجئے تو تقریباًہر جہادی تحریک میں آپ کو صوفیائے کرام پہلی صف میں نظر آئیں گے۔

برصغیر میں جہاد اورتصوف کا باہمی تعلق

 برصغیر پاک و ہِند میں توتصوف و جہاد کا ایسا عجیب اِمتِزاج (Combination)  ملتا ہے جس کی نظیر دُور دُور تک ملنی مشکل ہے ۔بارھویں صدی ہجری میں حضرت سید احمد شہید ؒ اور اُن کے جانثار رفقاء نے تو سکھوں کے خلاف جہاد کرکے  اور چھ سال تک اپنے زیر اثر علاقوں میں اسلامی حکومت قائم کرکے دکھا دیا کہ  ایمان ، توحید ، صحیح تعلق باللہ اورتصوف و سلوک کی تربیت میں کتنی قوت اور کیسی تاثیر ہے۔اُنہوں نے یہ بھی ثابت کر دیا تھاکہ صحیح روحانیت (تصوف) اور اصلاحِ نفس کے بغیر مضبوط جوش و جذبہ اور ایثار و قربانی اور جذبہ شہادت پیدا نہیں کیا جاسکتا۔

1857 عیسوی میں انگریزوں کے خلاف جنگِ آزادی  میں جن علمائے کرام نے قائدانہ کردار ادا کیا تھا اُن میں ہندوستان کے مشہور صوفی بزرگ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ؒ  (جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ اور دیگر اکابر علمائے دیوبند کے پِیر و مُرشد تھے)،حضرت حافظ ضامن شہید ؒ ، مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ  اورمولانا رشید احمد گنگوہی ؒ (بانی دارالعلوم دیوبند) شامل تھے ۔ پھر ایک اورصوفی مولانا محمودالحسن دیوبندی ؒ ( جن کو ہندوستان کے مسلمانوں نے”شیخ الِہند“ کے لقب سے یاد کیا ) نے ہندوستان کو انگریزوں  کی غلامی سے آزاد کرنے کے لئے ترکی سے  تعلقات قائم کئے ۔ شیخ الہِند ؒکے شاگردوں نے انگریزوں کے خلاف بھر پور جہادبھی کیا۔تحریک ِ ریشمی رومال، انور پاشا سے ملاقات اورمالٹا کی قید، اُن کی بلند ہمت اور قوتِ عمل کا ثبوت ہے۔

دُنیا کے دیگر ممالک کی مثالیں

       الجزائر(مغرب) میں مشہور صوفی بزرگ امیر عبدالقادر نے  حملہ آور فرانسیسیوں کے خلاف عَلَم جہاد بلند کیا اور 1832عیسوی سے 1847 عیسوی تک نہ خود چین سے بیٹھے ،نہ فرانسیسیوں کو چین سے بیٹھنے دیا۔

       1813عیسوی میں جب (موجودہ)روس ،ایران اور ترکی کی سرحدوں پر واقع علاقوں پر روسیوں نے قبضہ کیا تو اُن کا مقابلہ کرنے  کے لئے نقشبندی سلسلے کے حضرات نے عَلَم جہاد بلند کیا اور مطالبہ کیا کہ معاملات و مقدمات کے فیصلے شریعت کے مطابق  کئے جائیں ۔اِس تحریک کے قائد غازی محمد تھے جِن کو روسی ،قاضی مُلاّ کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ پہلے امیر غازی محمد  جب شہید ہوئے تو اُن کے جانشین’’ حمزہ بے‘‘ مقرر ہوئے۔اُن کے بعد ’’شیخ شامل‘‘نے مجاہدین کی قیادت سنبھالی  جو امیر عبدالقادر الجزائری کےطریقے پر تھے اور صوفی تھے۔شیخ شامل ؒ نے 25 برس تک روس سے مقابلہ جاری رکھااور مختلف معرکوں میں اُن پر زبردست فتح حاصل کی۔روسی اُن کی شوکت اور شجاعت سے مرعوب تھے اور چند مقامات کو چھوڑ کر سارے ملک سے بے دخل ہو گئے ۔

       بیسویں صدی عیسوی کے ابتدائی دو عشروں میں اطالوی فوجوں کےسوڈان پر قبضے کےخلاف پیرِ طریقت حضرت احمد الشریف السنوسی نے تاریخی جہاد کیا۔ شیخ السنوسی اپنے برادرانِ طریقت  اور مریدین کو ہمیشہ شہسواری، نشانہ بازی کی مشق کی تاکید کرتے رہتے ۔اُن میں غیرت اور مستعدی کی روح پھونکتے،اُن کو گھوڑدوڑ اور سپہ سالاری کا شوق دلاتے رہتےاور جہاد کی فضیلت  و اہمیت کا نقش اُن کے دل پر قائم کرتے۔شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال مرحوم نے اُن کی مجاہدانہ قیادت کو اپنے اس شعر میں خراج تحسین پیش کیا ہے؛

کیا  خوب امیر فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا

تو نام و نسب کا حجازی ہے پَر دل کا حجازی بن نہ سکا

       عربی دنیا کی مشہور اسلامی تحریک ”اخوان المسلمون“ کے بانی شیخ حسن البنا مرحوم سر تا پا عمل اور جدوجہد کا مثالی نمونہ تھے۔نہ تھکنے والے،نہ مایوس ہونے والے، نہ پست ہونے والے سپاہی اور داعی تھے ۔اُن کی اِن خصوصیات میں اُن کے روحانی نشونما اورتصوف و سلوک کو بڑا دخل ہے۔ جیسا کہ اُنہوں نے اپنی خودنوشت سوانح میں وضاحت کی ہے وہ ’’طریقہ حصافیہ شاذلیہ‘‘ میں بیعت تھے اور  باقاعدہ  اس کے اذکار کی مشق فرماتے تھے۔

مندرجہ بالا مثالوں سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ سرفروشی و جانبازی،جہاد و قربانی اور تجدید و انقلاب و فتح و تسخیر کے لئے جس روحانی و قلبی قوت،جس وجاہت و شخصیت ،جس اخلاص و لِلّٰہیت، جس جذب و کشف اور جس حوصلہ اور ہمت کی ضرورت ہے وہ اکثر اوقات روحانی ترقی، باطن کی صفائی،نفس کے سُدھرنے اورعبادت و ریاضت کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔اِس لئے آ پ دیکھیں گے کہ جنہوں نے اسلام میں مُجَدِّدانہ یا مُجاہدانہ کارنامے انجام دئے ہیں،اُن میں سے اکثر افراد روحانی حیثیت سے بلند مقام رکھتے تھےاور اگر تصوف و سلوک راہِ نبوت کے مطابق ہو اوراللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور محبت پیدا ہونے کا باعث ہو(جو اس کے اہم ترین مقاصد و نتائج ہیں) تو اس سے قوتِ عمل ، جذبہ جہاد،عالی ہمتی ،جفا کشی اورشوقِ شہادت پیدا ہونا لازمی ہے۔

(صوفیائے کرام اور جہاد کے مندرجہ بالا مضمون کا اکثر حصہ حضرت مولانا سیّد ابو الحسن ندوی ؒ کے مضمون ”اہل تصوف اور دینی جدوجہد“ سے لیا گیا ہے جو کتاب ”تصوف کیا ہے“ میں شائع ہو چُکا ہے۔)

تَصَوُّف کی تجدید میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ  ؒ   نے کیا کردارادا کیا ہے؟

          پچھلی چند صدیوں کی تاریخ کا انصاف پسندانہ جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حضرت مجدد اَلف ثانیؒ کے بعد جس عالم دین نے تصوف کوغیرشرعی رسومات،بدعات اورغلط تصورات سے پاک کیا وہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ تھے،جن کو بَجا طور پر ” حکیم الاُمَت“  کا خطاب دیا گیا۔ عقائد، عبادات، معاملات  ، معاشرت اور اخلاقیات سمیت دین اسلام کے ہر شعبے اللہ تعالیٰ نے اُن سے تجدیدی کام لیا جس کی وَجہ سے اُنہیں تیرھویں صدی ہجری کا ”مُجَدِّد (دین کو زندہ کرنے والا)“  کہا جا تا ہے۔

حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نےاپنی مشہورِ زمانہ کتابوں میں اُن تما م غیرشرعی اعمال ونظریات کی نشاندہی کی جو تصوف میں بعض جاہل صوفیاء اورعوام کی وجہ سے شامل ہو گئیں تھیں اورعوام الناس کے سامنےقرآن و سُنت کی تعلیمات کے عین مطابق تمام بدعات سے پاک اور خالص ” شرعی تصوف“ کی ایسی تصویر پیش کی جو آنے والی کئی صدیوں تک اُمت کے علماء اور عوام کی رہنمائی کے لئے کافی ہوگی۔ 

( ان شاء اللہ)

سوال : کیا دین اسلام کے احکامات پر ایمان لائے بغیر کامیابی ممکن ہے؟

ہمارا ایمان ہے کہ اسلام ہی واحد سچا دین ہے اور قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری سچی کتاب ہے۔ اِس لئے ہمیں اپنی تمام دینی و دنیاوی اُمور میں رہنمائی  بھی قرآن   ہی  سے لینی چاہئے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  " یہ کتاب ایسی ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ ہدایت ہے اُن  ڈر رکھنے والوں کے لئے" (سورۃ بقرہ ، آیت ۲)  گویا یہ کتاب بنیادی طور پر ہدایت کی طرف لے جانے والی کتاب ہے۔ ہدایت کیا چیز ہے؟ ایک ایسا رستہ جس پر چل کر آپ کامیاب ہو جائیں۔ اِسی کو  صراطِ مستقیم ( سیدھا راستہ ) بھی کہتے ہیں۔

اگر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ حق پر کون ہے تو سب سے پہلے ہمیں قرآن پاک کی طرف  دیکھنا ہو گا ۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دین ِاسلام اِختیار کرنے کو ہی کامیابی کا راستہ بتایا ہے۔ ارشاد بارئ تعالیٰ ہے:"بے شک(معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔"   (سورۂآلِ عمران ، آیت ۱۹)    دوسری جگہ ارشاد ہے:"جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا، تو اُس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا۔"  (سورۂآلِ‏عمران،آیت۸۵)   لہٰذا ہدایت اور کامیابی کے لئے پہلی شرط اسلام ہے۔ مسلمان ہوئے بغیر کامیابی ممکن نہیں۔

کیا قرآن پاک کو احا دیث نبوی ﷺ کے بغیر سمجھنا ممکن نہیں؟

یہ ایک  حقیقت ہے کہ احادیثِ نبوی ﷺ  کے بغیر قرآنی تعلیمات  کو پوری طرح  سمجھنا   ناممکن ہے۔ قرآن مجید سے ہی ہمیں اِس بات  کا پتہ چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مضامین کی وضاحت کے لئے حضرت محمدﷺ  کو منتخب کیا۔ ارشاد بار تعالیٰ ہے:

وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَلَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ﴾ (سورہٴ النحل 44)

اور (اے پیغمبر ﷺ) ہم نے تم پر بھی یہ قرآن اس لئے نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنےاُن باتوں کی واضح تشریح کرو جو اُن کے لئے اُتاری گئی ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر سے کام لیں۔“ (سورۂ النحل ، آيت ۴۴) 

دوسری جگہ فرمایا گیا ہے؛

*... ﴿وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَہُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُوا فِیْہِ﴾ (سورہٴ النحل 64)

یہ کتاب ہم نے آپ صلى الله عليه وسلم پر اس لیے اتاری ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم ان کے لیے ہر چیز کو واضح کردیں جس میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔

دوسری جگہ ارشاد ہے:" ہم نے تمہارے درمیان تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تمہارے سامنے ہماری آیتوں کی تِلاوت کرتا ہے، اور تمہیں پاکیزہ بناتا ہے ، اور تمھیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔"(سورۂ بقرۃ، آیت ۱۵۱) یعنی نبی کریم ﷺ کا پہلا فریضہ تلاوت ِ آیات ہے۔اور  دوسرا مقصد قرآنِ کریم کی تعلیم ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی تعلیم  کے بغیر قرآنِ کریم کو ٹھیک ٹھیک سمجھنا ممکن نہیں، اور یہ کہ صرف ترجمہ پڑھ لینے سے قرآنِ کریم کی صحیح سمجھ حاصل نہیں ہو سکتی، کیونکہ اہلِ عرب  عربی سے خوب واقف تھے، اُنہیں ترجمہ سکھانے کے لئے کسی اُستاد کی ضرورت نہيں تھی۔ تیسرے آپ کا فریضہ یہ بتایا گیا ہےکہ آپ ﷺ  "حکمت"  کی تعلیم دیں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ حکمت ، دانائی اور عقلمندی وہی ہے جو آنحضرت ﷺ نے تلقین فرمائی۔ اِس سے نہ صرف آپ ﷺ  کی احادیث کا حجّت ہونا معلوم ہوتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہو تا ہے کہ اگر آپ کا کوئی حکم کسی کو اپنی عقل کے لحاظ سے حکمت کے خلاف محسوس ہو تو اعتبار اُس کی عقل  کا نہیں ، بلکہ آنحضرت ﷺ کی سکھائی ہوئی حکمت کا ہے۔ چوتھا فریضہ یہ بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ لوگوں کو پاکیزہ بنائیں ۔ "پاکیزہ بنانے کا مطلب انسان کے باطن کے اخلاقِ رزیلہ یعنی حسد، لالچ ، کینہ ، ریا، جذباتِ شہوانیہ  کا غلط استعمال ، غصہ وغیرہ سے  پاک کر کے ان کی جگہ عاجزی ، محبت ، خیر خواہی اور اخلاص کے جذبات پیدا کرنا ہے۔

احادیث ِنبوی ﷺ کے بغیر قرآن پاک کی تشریح ناممکن ہے

اب اگر کو ئی شخص قرآن کو مانتا ہے اور حدیث کو نہیں مانتا تو اُس کے پاس قرآن  کی تشریح نہیں  ہو گی اور اُسے   اِیسے بے شمار مسائل سے  واسطہ پڑے گا جس کا حل اُسے  قرآن میں نہیں ملے گا۔ مثال کے طور پر قرآن میں ہے : نماز پڑھو۔ اب نماز کِس طرح  پڑھیں؟ نماز کا تفصیلی طریقہ  قرآن میں نہیں ہے بلکہ  یہ  نبی کریم ﷺ کے قول و فعل سے ہمارے علم میں آیا ہے۔ اِسی طرح زکوٰۃ   کا حکم بھی  قرآن میں ہے۔ لیکن کتنی زکوٰۃ  ادا کرنی ہے ، کس کس کو دینی ہے یہ تفصیل قرآن میں نہیں ۔ اِس کی وضاحت ہمیں صرف نبی کریم ﷺ کے اِرشادات سے ہی ملتی ہے۔ لہذا قرآن پاک بھی حق ہے اِس کو بھی ماننا ہے اور حدیث بھی حق ہے اُس کو بھی حُجَّت(Authority) ماننا ہے۔ تمام عالم اِسلام کے علماء کا متفقہ فیصلہ  ہے کہ حدیث کا مُنکِر مسلمان نہیں۔

حدیث کی کتابیں کب لکھیں گئی ہیں؟

بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حدیث کی کتابیں  تو دو سو (۲۰۰ ) سال بعد لکھی گئی ہیں۔ یاد رکھیں یہ محض ایک پراپیگنڈہ   ہے ۔  یہ بات سچ ہے کہ حدیث کی مشہور کتابیں جیسے صحیح بخاری، صحیح مسلم وغیرہ بعد میں لکھیں گئی ہیں مگر اِس کا یہ مطلب نہیں کہ احادیث سرے سے لکھی  ہی نہیں گئی تھیں ۔ دیکھیں   قرآن مجید بھی کتابی شکل میں حضرت ابو بکر ؓ کے دور میں یکجا کیا گیا تھا ۔ مگر اِس کا یہ مطلب نہیں  کہ  قرآن مجید پہلے سے لکھا ہوا موجود ہی  نہ تھا۔بلکہ صحابہ کرامؓ  کے پاس مختلف آیتوں اور سورتوں کے لکھے ہوئے اپنے اپنے نسخے موجود تھے۔ انھیں فقط اکھٹا کر کے کتاب کی شکل دے دی گئی۔ اصل بات یہ ہے کہ احادیث حضور ﷺ اور صحابہؓ  کے دور سے ہی لکھی جا چکی  تھیں ۔یہ  چھوٹے چھوٹے مجموعے شخصی تھے۔ پھر ایک ایک شہر کے مجموعے جمع ہو گئے۔ بعد میں مختلف علماء نے انہی مجموعوں کو  مختلف ترتیبوں سے اپنی کتابوں میں جمع کر کے شائع کر دیا۔صحابہ کرام ؓکے اتنے شاندار حافظے تھے کہ ہزار ہا  اشعار یاد کر لیتے تھے۔ آج کل بھی ایسے لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حیران کُن حافظہ دیا ہوتا ہے۔ اور پھر جس سے محبت ہو اُس کی باتیں تو بندہ بھولتا ہی نہیں ۔ صحابہ کرام ؓ    نبی کریم ﷺ کے سچے  عاشق تھے اُنہوں نے  نبی‏کریم ﷺ کی ایک ایک بات اور ایک ایک عمل کو یاد رکھا اور پوری اُمت تک پہنچایا۔ چند گنے چنے صحابہ کرام ؓ کے علاوہ اکثر سے تھوڑی تھوڑی احادیث روایت ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ صرف وہ انہی احادیث کو روایت کرتے تھے جو انہوں  نے خود حضور ﷺ سے سنی ہوتیں اور آپﷺ ہی کے الفاظ میں یاد ہوتیں۔  

(تدوین حدیث  کے موضوع پر مزید تفصیل کے لئے مفتی تقی عثمانی صاحب دامت بَرکَاتہم   کی کتاب "حُجیتِ‏حدیث"     (The Authority of Sunnah )   اور حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کی کتاب "کتابت حدیث دور نبوی ﷺ میں"ملاحظہ کریں )

کیا  صحابہ کرامؓ کے اقوال و افعال کا علم حاصل کئے بغیردین کو سمجھنا ممکن نہیں؟

             دین کو سمجھنے اور اِس پر عمل کرنے کے لئے قرآن اور حدیث کے بعد تیسرا  اہم ذریعۂ (Source) صحابۂ کرامؓ کا عمل ہے۔ صحابہ کرامؓ کی جماعت دراصل ایسے جانثاروں  پر مشتمل تھی جو ہروقت   حضور ﷺ  کے اشاروں پر جان نَچھا ور کرنے کے لئے تیار رہتے تھے۔ اُن کی نشست و برخاست  ہر  وقت  حضورﷺ کے ساتھ رہتی تھی۔ غَزوات میں  آپ ﷺ کے  ساتھ شریک ہوتے ۔پانچوں وقت کی  نماز آپ ﷺ  کی امامت میں ادا کرتے اور   دن ،  رات کا زیادہ  وقت حضور ﷺ کی صحبت میں گزارتے تھے۔ غرض سَفر و حَضر ،خوشی و غمی، دن اور رات  کا ساتھ تھا۔ صحابہ کرامؓ  اِس دوران حضور ﷺ سے صادر ہونے والے تمام افعال اور  اِرشادات کے شاہد اور گواہ تھے۔  حضور ﷺ کی چاہت اور منشاء کو صحابہ کرامؓ  سے زیادہ سمجھنے والا کوئی  دوسرا نہیں ہو سکتالہٰذا نبی کریم ﷺ کے اِرشادات اور اعمال کی صرف وہی تشریح قابل ِقبول ہو گی جو صحابہ کرامؓ  نے کی ہے۔ نبی کریم ﷺ اُستاد تھے اور صحابہ کرامؓ اُن کے اَوَّلین شاگرد،  اُنہوں نے حضورﷺ  کے صرف الفاظ کو ہی یاد نہیں رکھا بلکہ اُن کے اِحساسات ، جذبات ، خواہِشات اور مَنشاء کو بھی سمجھا اور یاد کیا۔

لہٰذا دین کو سیکھنے اور اِس پر عمل کے لئے قرآن و حدیث ضروری ہیں لیکن اُس کو سمجھنے کے لئے صرف اپنی فہم اور رائے کو معیار (Standard) قرار دینا درست نہیں بلکہ اتھارٹی ( حجّت) صحابہ کرامؓ کی فہم ، رائے اور عمل ہے۔ جو اُنہوں نے سمجھا اور جیسی تشریح اُنہوں نے  قرآن و حدیث کی  پیش کی در حقیقت اصل دین وہی ہے اور ہمیں اُسی پر عمل کرنے کا حکم ہے ۔ لہذا کسی مسئلےمیں اگرصحابہ کرام کا عمل بظاہر حدیث کے خلاف ہو توصحابہ کرام کے عمل کو ہی سنت تصور کیا جائے گا اور حدیث کے بارے میں یہ رائے قائم کی جائے گی کہ وہ کسی دوسرے موقع کے لئے تھی ورنہ صحابہ کرام کبھی اُس کے خلاف عمل نہ کرتے۔گویا احادیث مبارکہ کی تشریح وہی درست تصور کی جائے گی جسے   صحابہ کرام کے اعمال  سے تائید حاصل ہوتی ہو۔

البتہ اگرکسی حدیث کی تشریح میں صحابہ کرام کا اختلاف ہو تواُس صورت میں فقہاءاور مجتہدین  تحقیق کرکے یہ فیصلہ کریں گے کہ کس صحابی کی رائے پر عمل کرنا زیادہ مناسب ہوگا’’فِقَہ‘‘ کی ضرورت اسی قسم کے مسائل میں  پڑتی ہے۔

قرآن و حدیث کی موجودگی میں اِماموں اورمجتہدین کی کیوں ضرورت پڑتی ہے؟اور کیا مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے صرف قرآن و حدیث کافی نہیں؟

قرآن اور حدیث  کے بعض مسائل تو بالکل واضح ہیں، اِن میں کسی قسم کی پیچیدگی نہیں پائی جاتی ۔ مثلاً  غیبت ، زنا ، جھوٹ وغیرہ کے حرام ہونے اور اُن سے بچنے کے بارے میں جو آیات ِقرآنی اور احادیث آئی ہیں،  عربی زبان سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی اُن کو سمجھ کر اُن پر عمل کر سکتا ہے لیکن بعض احکام و مسائل سے متعلق آیات اور  احادیث ایسی ہیں جن کو سمجھنا عام آدمی کی فہم سے بالا تر ہے۔ لہذا ایسے پیچیدہ اور مشکل مسائل میں اِمام یا مجتہد کی رہنمائی کی ضرورت پڑتی ہے۔

اجتہاد کی ضرورت کا ثبوت حدیث نبوی ﷺ سے

 آنحضرت ﷺ نے جب حضرت معاذؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجنا چاہا تو فرمایا جب تیرے سامنے کوئی جھگڑا آئے تو اُس کا فیصلہ تُو کیسے کرے گا؟ اُنہوں نے فرمایا میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کی کِتاب میں تجھے نہ ملے تو پھر تُو کیا کرے گا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ پھر میں سنتِ رسول ﷺ کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا کہ اگر سنتِ رسول اللہ ﷺ اور کتابُ اللہ میں تجھے نہ مل سکے تو پھر تُو کیا کرے گا؟ اُنہوں نے فرمایا کہ پھر میں اپنی رائے سے اِجتہاد کروں گا اور اِس (اجتہاد)  میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا۔ آپﷺ نے حضرت معاذؓ کے سینے  پر (رضامندی اور شفقت کا) ہاتھ مارا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ہے جس نے رسول اللہﷺ کے قاصد کو اُس چیز کی توفیق عطا فرمائی جس پر اللہ کا رسول ﷺ راضی ہے۔(ابو داؤد   3575،   ترمذی1351)۔

 اِس حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ بعض ایسے شرعی مسائل کا وجود ممکن ہے جن کا حل قرآن و حدیث میں واضح الفاظ میں نہ پایا جائے  چنانچہ جو مسئلہ قرآن و سنت اور عمل صحابہ میں نہ مل سکے تو کسی مجتہد کا اُس میں اِجتہاد کر کے اُس کا حل نکالنے میں اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی رضا مندی  شامل ہے۔

مجتہدین کی تشریحات کی مثال

اِماموں اور مجتہدین کی تشریح کی مثال ایسی ہے جیسے کسی ملک کی عدالتِ عالیہ (سپریم کورٹ) کے جج کسی خاص مقدمہ میں اپنا فیصلہ سنا دیں  تو وہ آئندہ کے لئے ایک مثال (Precedent) بن جاتی ہے۔ آئندہ جب اِس قسم کا مقدمہ عدالت میں پیش ہوتا ہے تو عدالت قانون کی اصل کتابوں کو دیکھنے کی بجائے اِس مثال (Precedent)کی بنیاد پر فیصلہ سناتی ہے۔ اسی طرح جب اِمامت اور اجتہاد کے منصب  پر فائز مجتہد کسی مسئلہ میں قرآن ، حدیث اور عملِ صحابہ کی روشنی میں  کوئی رائے قائم کرے تو پھر یہ رائے عوام کے لئے حجت بن جاتی ہے۔ اور اِس کے بعد کسی کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں کہ جو لوگ امام کے فیصلوں کی پیروی کرتے ہیں وہ قرآن و حدیث کی بجائے امام کو مانتے  ہیں ۔ کیونکہ امام کا فیصلہ اصل ذرائع یعنی قرآن ، حدیث اور صحابہ کے عمل سے ہی  وجود میں آیا ہے۔

کیا ہر شخص مجتہد بن کر اجتہاد کرسکتا ہے؟

 امام یا مجتہد کو ن ہوسکتا ہے؟ جس طرح کسی  ملک کے قانون و آئین  کی تشریح(Interpretation)  ہر  ایک  کا کام نہیں اسی طرح  احکام شریعت  کے پیچیدہ یا نئے پیش آنے والے مسائل کا حل نکالنا بھی ہر ایک کا کام نہیں۔ امامت کے عُہدے کی سخت شرائط کا اندازہ اِس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چودہ سو سالہ  اسلامی تاریخ میں صرف چند ہی حضرات اِس عُہدے پر فائز ہو سکے ہیں۔ جن میں سے اللہ تعالیٰ نے قبولیت عام صرف چار بزرگ ترین ہستیوں  (حضرت‏اِمام اعظم ابو حنیفہؒ، حضرت اِمام شافعیؒ، حضرت اِمام مالک ؒ،حضرت اِمام احمد بن حنبلؒ) کو نصیب فرمائی۔ اور یہ حضرات حضورﷺ کے فرمان کے مطابق خیر القرون یعنی خیر والے زمانے کے لوگ ہیں۔ جیسے کہ حدیث میں آیا ہے:”خیر والا زمانہ میرا ہے پھر اس کے بعد کا پھر اس کے بعد کا۔

آپﷺ اور صحابہ کرام ؓ   کا دور پہلا دور ہے، صحابہ کرام ؓ کے بعد ان کے شاگردوں یعنی تابعین کا دوسرا  دورہے، اس کے بعد تابعین کے شاگردوں یعنی تبع تابعین کا تیسرا  دور ہے۔ چنانچہ دینی تشریحات کے تمام بنیادی اور ضروری اُصول و ضوابط کی ترتیب و تدوین انہی ادوار میں مکمل ہوئی ہیں۔ ان ادوار کے خیر پر ہونے کی ذمہ داری آپ ﷺ نے قبول فرمائی ہے۔ امام ابو حنیفہتابعی ہیں جبکہ امام شافعیؒ ، امام مالکؒ اور امام احمد بن حنبل ؒ  تبع تابعی ہیں۔

(تفصیلی جواب جاننے کے لئے حضرت مفتی تقی عثمانی صاحب  دامت برکاتہم کی کتاب " تقلید کی شرعی حیثیت " کا مطالعہ  کریں)

کیا غیر مسلموں کواُن کے اچھے کاموں کا بدلہ ملے گا؟

            بعض لوگ کہتے ہیں کہ غیر مسلم بھی بہت اچھے اچھے کام کرتے ہیں، لوگوں کا مفت علاج کرتے ہیں، اُن کی  مدد کرتے ہیں۔  اُن کے ساتھ آخرت میں  کیا معاملہ ہو گا؟  اِس کا جواب بھی قرآن پاک نے دیا ہے: "اور  جو شخص(صرف)  دنیا کی کھیتی چاہتا ہو، ہم اُسے اِسی میں سے دے دیں گے، اور آخرت میں اُس کا کوئی حصّہ نہیں۔"(سورۂشوریٰ،  آیت ۲۰) یعنی غیر مسلموں کو  دنیا  ہی میں  اُن  کے اچھے اعمال کا اجر مل جائیگا،  چاہے شُہرت کی صورت میں ہو یا مال و دولت اور سہولتوں کی فراوانی کی صورت میں ۔ البتہ آخر ت میں اُن کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔

غیر مسلموں کے ساتھ تعلقات کیسے رکھنے چاہئیں؟

            جس معاشرے میں ہندو، عیسائی ، یہودی ، سِکھ وغیرہ سب رہ رہے ہوں تو وہاں کیا کرنا چاہئے ؟ اِس کا جواب قرآن یوں دیتا  ہے:

  "(مسلمانو!) جن (جھوٹے معبودوں) کو یہ  لوگ اللہ کے بجائے پکارتے ہیں، تم اُن کو بُرا نہ کہو، جس کے نتیجے میں یہ لوگ جہالت کے عالم میں حد سے آگے بڑھ کر اللہ کو بُرا کہنے لگیں۔" (سورۂ الا نعام، آیت ۱۰۸)

گویا دیگر مذاہب کے معبودوں اور پیشواؤں کو گالیاں دینا اسلام کی کوئی خدمت نہیں ۔ اسلام کی تبلیغ کے لئے قرآن نے حکمت کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی ہے ۔   اسلام ہمیں غیر مسلموں کی خیریت   پوچھنے، مالی مدد کرنے ، بیمار پرسی کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔البتہ اُن کے ساتھ ایسا تعلق رکھنے  سے اجتناب کرنا چاہئے  جس کی وجہ سے مسلمانوں کے اِنفرادی یا اِجتماعی مفاد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو ۔

کیا زندیق کے ساتھ بھی تعلقات رکھے جاسکتے ہیں؟

البتہ غیر مسلِموں میں ایک گروہ  کو زندیق کہا جاتا  ہے ، اُن کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات رکھنا جائز نہیں۔ زندیق اُس غیر مسلم کو کہتے ہیں  جو اپنے آپ کو غیر مسلم ہونے کے باوجود مسلمان کہتا ہو جیسے قادیانی ، پرویزی وغیرہ۔ قادیانی ختمِ نبوت کے مُنکِر ہیں اور نبوت کے جھوٹے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے ہیں جبکہ پرویزی مشہور مُنکِر حدیث غلام احمد پرویز کے پیروکار ہیں۔ جو قرآن کو تو مانتے ہيں لیکن احادیث نبویﷺ کو جھٹلاتے ہیں اور قرآن کی وہ تشریح مانتے ہیں جو مسٹر پرویز نے کی ہے۔

اہل السنت والجماعت سے کیا مراد ہے؟

            قرآن مجید ، احادیث ِمبارکہ ، صحابہ ؓ  کا عمل اورمجتہدین (اِماموں) کی تشریحات ہی دین کے بنیادی ذرائع (Sources) ہیں ۔ پہلا  ذریعہ (Source) قرآن ہے ، دوسرا حدیث ہے جو قرآن پاک کی تشریح ہے، تیسراصحابہ ؓ  کا عمل  ہے جو حدیث کی تشریح ہے اور چوتھا مجتہدین (Interpreter)کے اجتہادات اور تشریحات(Interpretation) ہیں۔ جو لوگ اِن  چار ذرائع  (Sources) کی روشنی میں دین کی تشریح کو مانتے ہیں اُن کو”اہلِ السنت والجماعت“  کہتے ہیں۔

فِقہ کسے کہتے ہیں؟چاروں اِماموں کی فقہوںمیں اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں؟

تاریخ اسلام میں چار بڑے بزرگ   فُقَہاء(Interpreter) گزرے ہیں جنہوں نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کے لئے دین اسلام پر آسانی سے عمل کرنے کا حل پیش کیا ہے۔ وہ چار بڑے مُجتہد اور  اِمام یہ ہیں؛

۱اِمام اعظم ابو حنیفہؒ،     ۲:اِمام شافعیؒ ،    ۳:  اِمام احمد بن حنبلؒ،    ۴:اِمام مالک ؒ

اِن چاروں اِماموں  نے اپنی ساری زندگی مسلمانوں کو پیش آنے والے دینی مسائل کے حل کے لئے وقف کر دی اور قرآن ، حدیث  اور عمل صحابہؓ کی روشنی میں اِجتہاد کر کے ہمیں ایک ایسا عظیم الشان ذخیرہ دیا جیسے ہم  ”فِقہ “کے نام سے جانتے ہیں اور جس میں قیامت تک آنے والے لوگوں  کے تمام مسائل کے حل کے لئے قرآن، حدیث اور عمل صحابہؓ  کی روشنی میں بنیادی اُصول دئیے گئے ہیں۔

ہم جانتے ہیں کہ اِن آئمہ کرام کے درمیان مختلف مسائل میں اِختلاف موجود ہے مگر اِس اِختلاف کی مثال ایسی ہے جیسے اُستاد  کلاس میں ریاضی کا ایک سوال حل کرتا ہے اور سوال چار طریقوں سے  حل ہو جاتا ہے۔ چاروں طریقوں سے جواب بھی ایک جیسا آ تاہے اور طریقے بھی چاروں ٹھیک ہیں۔ اب ایک شاگرد کو ایک طریقہ پسند آگیا ، دوسرے کو دوسرا ، تیسرے کو تیسرا اور چوتھے شاگرد کو چوتھا طریقہ پسند آگیا۔ توظاہر ہے یہ چاروں طریقے  ٹھیک ہیں۔

نبی کریم ﷺکے دور مبارک میں پیش آنے والے اختلافات کی  بعض مثالیں

حضور ﷺ کی زندگی میں اُن کے سامنے بھی ایسے اِختلافی واقعات پیش آئے ہیں لیکن آپﷺ نے اُن پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ مثال کے طور پر، غزوہ خندق کے موقع پر حضورﷺ نے حضرات صحابہ کرامؓ کو حکم دیا کہ کوئی شخص بھی عصر کی نماز نہ پڑھے مگر بَنُو قریظہ جاکر(یعنی عصر کی نماز بَنُو قریظہ نامی قبیلہ میں پہنچ کر پڑھو)۔ حضرات صحابہ کرامؓ نے حکم  سُنا اور چل پڑے۔ راستہ میں عصر کا وقت ہو گیا۔ بعض صحابہ کرام ؓ نے وہیں  راستے  ہی میں نماز پڑھ لی اور کہنے لگے کہ حضور ﷺ   کی مراد یہ تھی کہ تم جلدی وہاں(بنو قریظہ)  پہنچو یہ مطلب  نہ تھا کہ تم راستے میں نماز ہی نہ  پڑھو ۔ دوسرے گروہ نے کہا کہ آپ ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ بنو قریظہ میں جا کر نماز پڑھنا۔ اِس لئے ہم تو راستے میں نماز نہیں پڑھیں گے۔ بلکہ وہی (بنوقریظہ) پہنچ  کر ہی نماز پڑھیں گے۔ جب دونوں  کا  واقع حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا تو آپ‏ﷺ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک درست ہے اور دوسرا غلط۔  بلکہ آپ ﷺ نے (دونوں گروہوں میں سے)کسی ایک پر بھی سختی نہ کی۔ (بخاری شریف946)

اِسی قسم کا ایک اور واقعہ  حضرت ابو سعیدالخدریؓ روایت کرتے ہیں ۔وہ  فرماتے ہیں کہ حضورﷺ کے دو صحابہؓ کہیں سفر پر جا رہے تھے کہ نماز کا وقت ہو گیا اور اُن کو وضو کے لئے پانی دستیاب  نہ ہو سکا۔ دونوں نے تیمم  کیا اور نماز پڑھ لی ۔ اور پھر نماز کا وقت ابھی باقی ہی تھا کہ پانی مل گیا ۔ اِن میں سے ایک نے وضو کر کے نماز دُہرا  لی اور دوسرے نے نماز کا اِعادہ نہ کیا(یعنی نماز نہ دُہرائی)۔ حضور ﷺ سے جب دونوں کی ملاقات ہوئی  تو اپنا  واقعہ سنایا ۔ آپ ﷺ نے اُس شخص سے جس نے نماز دوبارہ نہیں پڑھی تھی فرمایا ُُ تم نے سنت کے موافق کام کیا اور تجھے تیری نماز کافی ہو گئی۔ اور جس نے وضو کر کے نماز دُہر الی تھی اُس سے فرمایا  "تیرے لئے دُھرا اجر و ثواب ہے۔"(ابو داؤد 337، نسائی 435) اِن واقعات سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اگر اِختلافات حُدود کے اندر ہوں تو اُس پر حضورﷺ نے بھی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا ۔

آئمہ کرام کے درمیان اِختلاف رحمت ہے

مجتہدین (اِماموں) کا یہ اِختلاف ہمارے لئے رحمت ہے بشرطیکہ ہم اِس کو اپنے لئے زحمت نہ بنائیں ۔ اِس اختلاف کے رحمت ہونے کے بارے میں بہت سی  مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں  مگر ہم  یہاں صرف ایک مثال پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔امام شافعی ؒ کی تحقیق کے مطابق  اگر کوئی عورت کسی مَرد کو چُھو جائے ،چاہے قصداً ہو یا بِلا قصدتو دونوں کا وضو ٹوٹ جائے گاجبکہ اِمام ابوحنیفہؒ  کی تحقیق کے مطابق وضو نہیں ٹوٹتا۔طواف ِ کعبہ کے دوران شافعی حضرات کے لئے  اِس حکم پر عمل کرنامشکل ہوجاتا ہے اس لئے وہ امام ابو حنیفہ ؒ کے مسلک پر عمل کرتے ہیں۔ چنانچہ اگر انسان کو ایسے مشکل حالات پیش آجائیں جس میں اپنے اِمام کی تحقیق پر عمل کرنے کی صورت نہ بن رہی ہو تو مُستند اور جَیَّد مفتی حضرات سے رہنمائی لے کر کسی دوسرے اِمام کی تحقیق پر عمل کیا جا سکتا ہے۔

 لیکن یاد رکھیں محض اپنے آرام ، آسانی اور نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے کسی دوسرے اِمام کے مسئلہ کو اِختیار کرکے اُس پرعمل کرنا  ’’ناجائز‘‘  ہے۔ عام حالات میں کسی ایک مُجتَہِد( اِمام)  کی تحقیق پر ہی عمل کرنا  ضروری ہے۔  اس سے پورے دین پر عمل کرنا آسان ہو جاتا ہے اور  گمراہ ہونے کا بھی خطرہ  نہیں رہتا۔

عام مسلمان کس کی پیروی اور تابعداری کریں؟

حضرت انس رضی الله عنہ سےفرماتے ہیں کہ  رسول الله صلے الله علیہ وسلم نے فرمایا  "میری اُمت کسی گمراہی پر جمع  (متفق) نہیں ہوگی بس جب تم (لوگوں میں) اِختلاف دیکھو تو سواد اعظم (بڑی جماعت) کو لازم پکڑلو(یعنی اُس کی اِتباع کرو)" (سننِ اِبنِ ماجہ: کتاب الفتن، باب السواد الاعظم)۔

 حدیث شریف میں استعمال ہونے والے الفاظ ”السواد الاعظم“ عربی زبان میں "عظیم ترین (بڑی) جماعت" کو کہتے ہیں۔اس وقت پوری دنیا  میں سُنی ، شیعہ اور غیرمقلدین  کی مجموعی تعداد تقریباً  ڈیڑھ ارب (1.6 Billions ) ہے ، جس میں سے تقریباً ۱۰(10) فیصد شیعہ اور ۲(2) فیصد غیر مقلدین (فِرقہ اہلحدیث) ہیں جبکہ ۸۸ (88)فیصد اہلِ سنت والجماعت ہیں۔ اہلِ سنت و الجماعت میں سے  اِمام ِاعظم ابو حنیفہؒ کے مَسلک پر تقریباً   ۵۴ (54) فیصد لوگ عمل پیرا ہیں جبکہ امام شافعی ؒ کے مسلک پر ۲۴(24)فیصد، امام مالک ؒکے مسلک پر ۲۰(20)فیصد  اور  امام احمد ابن حنبل ؒ کے مسلک پر تقریبا ۲ (2)فیصد لوگ عمل پیرا ہیں۔گویا پوری دنیا میں حضرت اِمام ابوحنیفہؒ کی فِقہ پر عمل کرنےوالے مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔جس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے دور میں چالیس علمائے کرام کی مجلس شوریٰ ہوتی تھی جس میں مسلمانوں کو پیش آنے والے مسائل  کاحل پیش کیا جاتا تھا۔اس کے علاوہ فقہ حنفی کئی اسلامی ممالک کی ریاستی فقہ تھی جس کی روشنی میں تمام امور سلطنت طے کئےجاتے تھے۔ گویا فقہ حنفی میں ہر قسم کی جامعیت پائی جاتی ہے۔ہمارے علاقوں(پاکستان،ہندوستان،افغانستان وغیرہ)میں فِقہ حنفی پرعبوررکھنے والے علماء اورمدارس کی کثرت ہے اور کسی بھی پیش آنے والے مسئلے کو قرآن و سنت اور فقہ حنفی کے اصولوں کے تحت حل کرنا بہت آسان ہے۔چنانچہ ہمارے علاقوں میں دین پر عمل کرنے کے لئے حضرت امام ابو حنیفہ ؒ کی تحقیق اور اُصولوں کی پیروی ہی کرنی چاہیئے۔ 

سوادِ اعظم (سب سےبڑی جماعت) کی پیروی کی تاکید کرنے والی اِس حدیث کی تشریح میں حضرت شاہ ولی اللہ ؒفرماتے ہیں کہ:  آئمہ اربعہ (یعنی اِمام اعظم ابو حنیفہؒ،  اِمام شافعیؒ ، اِمام احمد بن حنبلؒ،اِمام مالک ؒ )   کا اتباع سواد ِاعظم کا اتباع ہے، اور اِن سے خُروج (نکلنا)، سوادِ اعظم سے خروج ہے۔ (عقدالجید_بحوالہ:اِختلاف اُمت اور صراطِ مستقیم،  حصہ دوم)

 فرقہ اہلِحدیث (وَہابی) اوراہلِ سنت و الجماعت میں اَصَل اختلاف کیا ہے؟ اور تقلید سے کیا مراد ہے؟

کسی مجتہد (اِمام)کی رہنمائی میں قرآن و سنت پر عمل کرنے کو تقلید کہتے ہیں  ۔ مُقَلِدین (تقلید کرنے والے)سے مراد وہ لوگ ہیں جو آئمہ اربعہ( چار اِماموں)  کی تشریحات کی روشنی میں دین پر عمل کرتے ہیں جبکہ غیر مُقَلِدین سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ایک امام کی پیروی کو ضروری نہیں سمجھتے۔یہ لوگ ”اہلِ حدیث “ اور ”وہابی “ کے نام سے بھی  جانے جاتے ہیں۔  دنیائے اسلام  میں اِن کی تعداد  تقریبا ۲ (دو)فیصد ہے ۔ اِن کا خیال  یہ ہے کہ  کسی ایک امام کی اقتدا(پیروی)  کرنے  کی ضرورت نہیں بلکہ ہر شخص کو   قرآن اور احادیث  سے جو بات  جس طرح سمجھ آئے اُس پر عمل کرنا چاہئےحالانکہ یہ بڑی عجیب بات ہے کیونکہ علم طب(Medical)  میں تو طِب کے ماہر  (ڈاکٹر) کی تقلید ضروری سمجھی  جاتی ہے اور علم شریعت میں اِس  سے انکار کیا جاتا ہے؟

  اہلِ حدیث حضرات کی جانب سے یہ بھی کہا جاتا ہےکہ چونکہ تقلید کا رواج کئی صدیوں بعد شروع ہوا ہے اس لئے  یہ  جائز نہیں۔ مگر یہ  بات صحیح نہیں  کیونکہ آپ ﷺ  کے زمانے میں بھی یہ دستور تھا کہ کم علم اور عام لوگ اہلِ علم صحابہ سے مسائل پوچھتے اور اُن کے فتویٰ پر عمل کرتے اور اِسی کو تقلید کہا جاتا ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ عام اہلِ حدیث حضرات بھی چند  مسائل کے سوا اپنے کسی عالم ہی  کی پیروی کرتے ہیں۔ اِس لئےاگر چہ  انہیں تقلید کےلفظ سے انکار ہے مگر غیر شعوری طور پروہ بھی تقلید ہی کرتے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ  ہے کہ دین کوئی عقلی ایجاد نہیں  بلکہ منقولات(قرآن اور حدیث سے نقل شدہ علوم) کا نام ہے اور منقولات  میں ہر آنے والا طبقہ  اپنے سے پہلے طبقے  کے نقش قدم پر چلتا ہے۔

اگرچہ آئمہ کرام کی تقلید نہ کرنا بھی کوئی اچھی بات نہیں لیکن  اِس سے زیادہ خطرناک  بات یہ ہے کہ فرقہ اہلِ حدیث  میں سے بعض لوگ "اِجماعِ صحابہؓ" اور " اِجماعِ امت"  کی مخالفت کرتے ہیں۔ مثلاً  ہمیں معلوم ہے کہ رمضان میں عشاء کی سنتوں کے بعد بیس (۲۰)رکعت نمازِ تراویح  حضور ﷺ نے پڑھی ہیں اور اس پر حضرت عمر ؓ  کے زمانے سے ہی   صحابہ کرامؓ کا اِجماع (اتفاق) ہے(مصنف ابن ابی شیبہ 7774،7764، 7785)۔ حضرت عمر ؓ نے تمام صحابہ کو بیس( ۲۰) رکعت تراویح پر ایک اِمام کے پیچھے جمع کیا اور اُس وقت سے لے کر آج تک حرمین شریفین  (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ)  سمیت  پوری اُمت بیس (۲۰)  رکعت تراویح کو سُنتِ موکدہ کی حیثیت سے پڑھ رہی ہے ۔ دوسری طرف غیر مقلدین (اہل حدیث )  کا موقف یہ ہے کہ حدیث سے آٹھ ( 8/۸)  رکعت تراویح ثابت ہے ،لیکن اُن کی یہ دلیل بالکل غلط ہے  کیونکہ آٹھ رکعات والی حدیث تمام سال  کے تہجد کی نماز کے بارے میں ہے، رمضان کے بارے میں نہیں۔  سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر یہ دلیل درست بھی ہو تو  کیا یہ حدیث صحابہ کرامؓ کی سمجھ میں نہیں آئی تھی؟  کیا اس حدیث کو بیان کرنے والی اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کبھی اس حدیث کی بنیاد پرصحابہ کرام کو بیس رکعت پڑھنے سے روکا؟ کیا کسی دوسرے صحابیؓ نے حضرت عمر فاروقؓ  یا اُن کے بعد صحابہ کرامؓ  کواس حدیث کی مخالفت پر نہیں روکا ؟    کیا صحابہ کرام ؓمیں سے کسی نے اِس حدیث پر عمل کرتے ہوئے کبھی آٹھ (۸ ) رکعت تراویح پڑھی  ہے؟ کیا اِس حدیث کو خلفائے راشدین ، دیگر صحابہ کرا م اور اُن کے بعد تابعین ، تبع تابعین ، فقہاء ، مجتہدین  میں سے کسی نے بھی نہیں سمجھا؟ کیا تمام صحابہ کرام کا عمل اور اُن کی رائے (نعوذ با اللہ ) غلط  اور دور حاضر کے غیر مقلدین  کا موقف درست ہے؟ یقیناًایسا  نہیں ہے۔  اُمید ہے اِس بات سے غیر مقلدین کےموقف   کی غلطی بخوبی سمجھ  آگئی ہوگی۔

( مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجیے ” رکعات تراویح ایک تحقیقی جائزہ‘‘ صفحہ 186 تا 207، از مولانا  حافظ ظہور احمدالحسینی مدظلہُ)

 مشہور اہلحدیث عالم مولانا محمد حسین بٹالوی  مرحوم فرقہ اہلحدیث کی اس خودرائی اور ترکِ تقلید کا ماتم کرتے ہوئے بالکل صحیح لکھتے ہیں:

"پچیس برس کے تجربہ سے ہم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ جو لوگ بے علمی کے ساتھ مجتہد مطلق (ہونے کا دعوی کرتے ہیں) اور مطلق تقلید کے تارک (تقلید  کو چھوڑنے والے)بن جاتے ہیں وہ آخر اسلام کو سلام کر بیٹھتے ہیں۔ کُفر اور اِرتداد کے اسباب اور بھی  بکثرت  موجود ہیں، مگر دینداروں کے بے دین ہو جانے کے لئے بے علمی کے ساتھ ترک تقلید بڑا بھاری سبب ہے۔ گروہِ اہلحدیث میں جو بے علم یا کم علم ہو کر ترکِ مطلق تقلید کے مدعی ہیں وہ ان نتائج سے ڈریں۔ اس گروہ کے عوام آزاد اور خود مختار ہوتے جاتے ہیں۔" (اشاعتہ السنتہ نمبر ۴، جلد ۱، مطبوعہ ۱۸۸۸، بحوالہ اِختلافِ  اُمت اور صراطِ مستقیم)

غیر مقلدین کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے مولانا یوسف لدھیانوی صاحب کی کتاب  "اِختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم"  حصہ اول ،صفحہ ۳۴ تا ۴۲ اور مولانا محمد امین صفدر صاحب کی کتاب "میں حنفی کیسے بنا "۔

 اکابر علمائے کرام کی رائے  کے مطابق معتدل مزاج اورمتقی غیر مقلدین علماء ، قابل برداشت  ہیں بشرطیکہ وہ  صحابہ کراؓم کے فہم اور اُن کی رائے کو حجت(Authority) تسلیم کرتے ہوں ، صحابہ کرامؓ ،مجتہدین ِاسلام اور اولیائے کرام کی توہین نہ کرتے ہوں اور  چاروں  آئمہ کرام(مجتہدین) کے پیروکاروں (Followers)کو مشرک ، گمراہ اور بدعتی نہ سمجھتے ہوں۔

دیوبندی اور بریلوی مسالک میں کیا اختلافات پائے جاتے ہیں؟

دیوبندیت“کسی نئے گروہ یا فرقے کا نام نہیں بلکہ اہلِ سنت و الجماعت کی تعلیمات پر عمل کرنے والی جماعت کا نام ہے۔انصاف کی نظر سے دیکھا جائے توعلمائے دیوبند، توحید،رسالت، اتباع ِسُنت، تصوف،فقہ اور دین کے دیگر تمام شعبوں،عقائد، اور شخصیات سے متعلق انتہائی معتدلانہ نظریہ رکھتے ہیں۔قرآن ِپاک،حدیث اور اجماع ِ اُمت کو سامنے رکھتے ہوئے موجودہ دور میں اسلام کی اصل تصویر پیش کرنے کا اعزاز (credit) بھی اِنہیں جاتا ہے۔

۱۔ علمائے دیوبند، عقیدہ ِ توحید پر سختی سے کاربند ہیں۔ انبیاء اور اولیائے کرام کی تعظیم کی آڑمیں توحید میں شرک کی ملاوٹ نہیں کرتے اور نہ ہی عقیدہ ِ توحید کی آڑ میں انبیاء اور اولیائے کرام کی توہین کرتے ہیں۔

۲۔ نبی کریم ﷺ اور دیگر انبیاء کی عصمت اور عظمت کے ہر پہلو سے قائل ہیں اور اُن کی ادنیٰ بے ادبی اور توہین کو کفر سمجھتے ہیں لیکن اُنہیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہی سمجھتے ہیں اور خدائی صفات میں اُن کو شریک نہیں کرتے۔ آپ ﷺ کی اطاعت کو فرض ِ عین سمجھتے ہیں لیکن آپ ﷺکی عبادت کرنے کو جائز نہیں سمجھتے۔

۳۔علمائے دیوبند آپﷺ کے ذکرِ مبارک اور مدح و ثناء کوعین عبادت سمجھتے ہیں لیکن اِس میں عیسائیوں کی طرح کے مبالغے کو جائز نہیں سمجھتے کہ مخلوق کو خالق ہی بنا ڈالیں۔

۴۔صحابہ کرام ؓ کے بارے میں علمائے دیوبند کا نظریہ یہ ہے کہ صحابہ کرام سب کے سب عادل تھے۔اور وہ کسی صحابی کی توہین اور تنقیص کو جائز نہیں سمجھتے البتہ اُن کے مرتبوں میں فرق کے قائل ہیں۔

۵۔صوفیائے کرام اور اولیائے کرام سے متعلق علمائے دیوبند کا نظریہ یہ ہے کہ شریعت پر عمل کرنے والے صوفیاء اوراولیاء ،  اُمت کی دینی تربیت کے لئے روحِ رواں کی حیثیت رکھتے ہیں اور اُن کی محبت اور عظمت کو ایمان کے تحفظ کے لئے ضروری سمجھتے ہیں لیکن اُنہیں خدائی اختیارات دینے کو شرک سمجھتے ہیں۔اولیاء کے احترام کو شرعاً ضروری سمجھتے ہیں لیکن اُن کی قبروں پر سجدہ و رکوع،طواف وغیرہ کو ناجائز،گناہ اورشرک سمجھتے ہیں۔اولیائے کرام کو مشکل کشاء اور حاجت روا نہیں سمجھتے۔ 

۷۔فقہ کے معاملے میں علمائے دیوبند اجتہادی مسائل میں کم علم حضرات کے لئے ایک ہی اِمام (مجتہد) کی پیروی کو ضروری سمجھتے ہیں۔جدید مسائل کے حل کے لئے تحقیق کے بھی قائل ہیں البتہ تحقیق کا حق کم علم لوگوں کو دینے کے سخت مخالف ہیں۔ چاروں اِماموں کو حق پر سمجھتے ہیں اور کسی ایک کی تقلید کو ضروری سمجھنے کے باوجود باقی تینوں کی توہین یا تنقیص کو درست نہیں سجھتے۔جدید دور میں پیش آنے والے مسائل کے سلسلے میں تحقیق کے تو قائل ہیں لیکن تحقیق کی آڑ میں تحریف کے ہر گز  قائل نہیں۔

 (مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ فرمائے ”مسلَک ِ علمائے دیوبند“ (مولانا قاری محمد طیب ؒ)،”اکابر دیوبند کیا تھے“ (مفتی محمد تقی عثمانی صاحب)، ”المھند علی المفند یعنی عقائد اہل السنت علمائے دیوبند)

 مختصراً یہ کہ علمائے دیوبند دین کی ایسی تشریح کرتے ہیں جو قرآن پاک، احادیث ِ نبوی ﷺ اور اجماع ِ امت  کے عین مطابق ہوتی ہے اور اعتدال پر مبنی ہوتی ہے۔۔

بریلوی مکتبہ فکر کا آغازجناب احمد رضا خان بریلوی سے ہوا جن کا تعلق ہندوستان کے قصبہ  رائے بریلی سے تھا۔ اِس لئے اُن کے پیروکاروں کو بریلوی کہا جاتا ہے۔ بریلوی حضرات اہلِ سنت والجماعت کے اِمام ، اِمام ابو حنیفہ ؒ کے مقلد ہیں اور دیگر آئمہ کرام  اور اولیائے کرام کا  احترام کرتے ہیں۔لیکن بعض امور میں اِن کا نکتہ نظر جمہور علماء  کے مسلک سے مختلف ہے ۔جس میں  بعض مفاد پرست اور  جاہل لوگوں کی وجہ سے شدت آئی ہے۔

            دیوبندی بریلوی اِختلاف کے بارے میں حضرت مولانا یوسف لدھیانوی  صاحب اپنی کتاب " اِختلافِ امت اور صراطِ مستقیم" میں فرماتے ہیں : " میرے لئے " دیوبندی بریلوی اِختلاف" کا لفظ ہی موجب حیرت ہے۔ کیونکہ سنی شیعہ اِختلاف تو صحابہ‏کرام کے ماننے اور نہ ماننے پر پیدا ہوا  اور اہلِ سُنت الجماعت اور غیر مقلدین(فرقہ اہل حدیث) کا اختلاف آئمہ کرام کی پیروی کرنے  یا نہ کرنے پر پیدا ہوا لیکن " دیوبندی بریلوی اِختلاف" کی کوئی بنیاد میرے علم میں نہیں ہے اس لئے کہ یہ دونوں فریق امام ابو حنیفہ ؒ  کے ٹھیٹھ مقلد ہیں اور مجدد الف ثانی ؒ اور شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی ؒ  تک سب اکابر کے عقیدت مند  ہیں۔ تصوف و سلوک میں دونوں  فریق اولیاء اللہ کے چاروں سلسلوں میں بیعت کرتے ، کراتے ہیں۔اس لئے ان دونوں کے درمیان مجھے اِختلاف کی کوئی صحیح بنیاد نظر نہیں آتی۔ تاہم میں اس سے انکار نہیں کرتا کہ اِن کے درمیان چند امور میں اِختلاف ہے۔"

 ان دونوں(دیوبندی ، بریلوی)مکاتب فکر  کے درمیان جن اہم امور میں اِختلاف ہے وہ یہ ہیں:

۱۔ آنحضرت ﷺ نور تھے یا بشر؟

۲۔ آپ ﷺ عالمُ الغیب تھے یا نہیں؟

۳۔ آپ ﷺ ہر جگہ حاضر و ناظر ہیں یا نہیں؟

ذیل میں قرآن کریم ، ارشادات نبویﷺ  ، تعامل صحابہ  ؓ اور فقہ حنفی  کی روشنی میں ان مسائل کا مختصر جواب پیش خدمت ہے۔

۱۔ نور اور بشر:  آپ ﷺ کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے: "(کہہ دو کہ)میں تو تمہی جیسا ایک انسان ہوں، (البتہ) مجھ پر وحی آتی ہے کہ تم سب کا خدا بس ایک ہے"  (سورۂالکھف، آیت ۱۱۰) ارشاد نبوی ﷺ  ہے: "میں اولاد آدم کا سردار ہوں گا قیامت کے دن۔"

اِس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ ﷺ بشر تھے اور آپ ﷺ کا  بشر ، انسان اور آدمی ہونا نہ صرف آپ ﷺ کے لئے فخر کا باعث ہے بلکہ آپ ﷺ کے بشر ہونے سے انسانیت اور بشریت رشک ملائکہ ہے۔ بشر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ ساری انسانیت کے لئے مینارہ نور بھی ہیں۔ یہی "نور" ہے جس کی روشنی میں انسانیت کو خدا تعالی کا رستہ مل سکتا ہے۔ لہذا آپ ﷺ بیک وقت نور بھی ہیں  اور بشر بھی۔ نور و بشر کو دو خانوں میں بانٹ کر ایک کا انکار اور دوسرے کا ماننا غلط ہے۔

لیکن بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اللہ تعالی کے نور میں سے نور تھے جو لباس بشریت میں ظاہر  ہوئے اور بعض کہتے ہیں کہ احد اور احمد میں صرف "م" کا پردہ ہے(نعوذبا اللہ)  یہ بعینہ وہی عقیدہ ہے جو عیسائی حضرت عیسیٰ ؑکے بارے میں رکھتے ہیں کہ وہ خدا ہیں جو لباسِ بشریت میں آئے ۔ اسلام میں ایسے لغو اور بیہودہ عقیدے  کی کوئی گنجائش نہيں۔ خدا اور بندۂ خدا کو ایک کہنے سے زیادہ لغو اور بیہودہ بات اور کیا ہو سکتی ہے؟

۲۔ عالمُ  الغیب:  قرآن مجید  میں ارشاد ہے: " فرما دیجئے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جتنی مخلوق بھی موجود ہے ، ان میں سے کوئی غیب نہیں جانتا، اللہ کے سوا، اور ان کو خبر نہيں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے؟"  (سورۂ نمل، آیت ۶۵) اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ   کا ارشاد ہے کہ:" جو شخص یہ کہے کہ آپ ﷺ غیب جانتے تھے اُس نے اللہ تعالیٰ پر بُہتان باندھا۔"  (صحیح بحاری 7380)

تمام آئمہ اہلِ سنت کا یہی مسلک ہے کہ خدا تعالیٰ کے سوا کسی کو عالمُ الغیب کہنا صحیح نہيں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو وہ علوم عطا کئے جو کسی مقدس نبی اور مقرب فرشتے کو عطا نہيں کئے۔ بلکہ تمام اولین و آخرین کے علوم آپﷺ کے دریائے علم کا ایک قطرہ ہے۔ جس طرح ساری کائنات کے علوم کو آپ ﷺ کے علوم کے ساتھ کوئی نسبت نہیں یہی حیثیت آپ ﷺ کے علوم کی حق تعالی کے علم کے مقابلے میں ہے۔ 

حاضر و ناظر:  حاضر و ناظر کا مطلب ہے موجود اور دیکھنے والا اور اس سے مراد وہ ہستی ہے جس کا وجود کسی خاص جگہ میں نہیں بلکہ اُس کا وجود بیک وقت ساری کائنات کو محیط ہے۔ اور کائنات کی ایک ایک  چیز کے تمام حالات اوّل سے آخر تک اُس کی نظر میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ مفہوم اللہ تعالی  کی ذات پاک پر ہی  صادق آتا ہے اور یہ اُسی کی شان ہے۔ اِس لئے آپ ﷺ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ آپ ﷺ ہر جگہ موجود ہیں اور کائنات کی ایک ایک چیز آپ ﷺ کی نظر میں ہے عقل کے اعتبار سے بھی صحیح نہیں ہے چہ‏جائکہ شریعت کے اعتبار  سے درست ہو۔ یہ صرف اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور اسے کسی دوسرے کے لئے ثابت کرنا غلط ہے۔ اور اگر حاضر ناظر ماننے کا یہ مطلب ہے کہ آپ ﷺ کی روح طیبہ کو اجازت ہے کہ جہاں چاہے تشریف لے جائے تو اس سے آپ ﷺ  کا ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ پاکستان کے ہر شخص کو اجازت ہے کہ وہ ملک کے جس حصّے میں جب چاہے آ جا سکتا ہے ۔ کیا اس اجازت کا کوئی شخص یہ مطلب سمجھے گا کہ پاکستان کا ہر شہری ہر جگہ حاضر ناظر ہے؟ اِس کے علاوہ  جب کسی خاص جگہ کے بارے میں کہا جائے کہ آپ ﷺ وہاں حاضر ہیں، تو یہ ایک  مستقل دعویٰ ہے جس کے لئے دلیلِ شرعی کی ضرورت ہے۔ دلیلِ شرعی کی غیر موجودگی میں ایسا عقیدہ رکھنا جائز نہیں۔

قارئین  کو اندازہ ہو گیا  ہو گا کہ کوئی بھی شعور رکھنے والا مسلمان مندرجہ بالا مسائل میں نبی کریم ﷺ کی ذات پاک کو اللہ تعالی کے مرتبہ کے برابر لا کر اپنی آخرت خراب نہیں کرے گا۔  یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک طرف تو مفاد پرست ، دنیا دار اور نام نہاد علماء نبی کریم ﷺ کی محبت کی آڑ لے کر دین سے بے بہرہ عوام  کے جذبات کو استعمال کر کے ان  کا استحصال کر رہے ہیں تو دوسری طرف چند گنِے چُنے  نام نہاد” توحیدی“ حضرات کاانتہا پسند طبقہ بِلا تحقیق   کفر کے فتوے  صادر کر کے حالات کو مزید خراب کر رہا ہے۔ان نام نہاد توحیدی حضرات میں سے کچھ لوگ ہمارے ملک میں ”اشاعت التوحید والسنہ  “ وغیرہ کے نام سے کام کررہے ہیں۔ یہ گروہ پنجاب اور دیگر علاقوں میں ”اشاعتی“ اور ”مماتی“ کے نام سے زیادہ مشہور ہےجبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں ” پنج پیری“کے نام سے پہچانے جاتے ہیں۔اپنی نسبت علمائے دیوبند سے جوڑتے ہیں لیکن حیات النبی ﷺ، عذاب قبر اور بعض دیگر مسائل میں اہل السنت والجماعت  علمائے دیو بند کے متفقہ اور معتدلانہ عقیدے و نظریے کے بجائے اپنی علیٰحدہ سوچ رکھتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ دونوں کو ہدایت نصیب فرمائے  اور ہم سب کو صحیح عمل کرنے کی توفیق عطا فر مائے۔

سُنّی  اورشیعہ  اِختلافات کی مختصر وضاحت فرمائیں۔

سُنّی  سے مراد” اِہلِ السُنَت والجماعت “کے لوگ ہیں جبکہ شیعہ مذہب کے اپنے الگ عقائد و نظریات ہیں۔دراصل شیعہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی "دوست" کے ہیں۔  حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد جب حضرت علی ؓاور حضرت امیر معاویہ ؓکے درمیان اِختلاف پیداہو گیا  تو کچھ لوگوں نے حضرت امیر  معاویہ  ؓ کا ساتھ دیا اور کچھ لوگوں نے حضرت  علی ؓ      کی حمایت کی۔ جن لوگوں نے حضرت علی ؓکی حمایت کی اُنہی میں سے ایک  ایسا چھوٹا  سا گروہ پیدا ہو  گیا   جو حضرت علی ؓ کی شان میں حد درجہ مبالغہ کرتے تھے۔  اِن لوگوں نے اپنے آپ کو " شیعانِ علی " کہنا شروع کر دیا  جو بعد میں مختصر ہو کر  صرف شیعہ رہ گیا۔  اِن لوگوں میں سے بعض  کا مبالغہ جب اتنا بڑھا کہ حضرت علی ؓ  کو خدا کہنا شروع کر دیا تو  حضرت علی ؓ نے اپنے دور خلافت میں اِن  لوگوں کو  سخت ترین سزائیں دی یہاں تک کہ بعض کو آگ میں جلانے کی سزا  بھی دی۔ شیعوں میں  اِس مخصوص طبقہ کے لوگوں کو نُصیری شیعہ  کہتے ہیں جو آج بھی قلیل تعداد میں دنیا کے مختلف علاقوں میں  موجود ہیں۔ حضرت علی ؓ کی شہادت اور واقعہ کربلا کے بعد شیعہ  جماعت اپنے مخصوص عقائد و نظریات کی بنا پر  اہلِ سنت والجماعت سے بالکل الگ تھلگ ایک نئے فرقے  کی شکل میں سامنے آئی۔

شیعہ مذہب کے عقائد پر بے شمار کتابیں موجود ہیں ۔ جن لوگوں کو تفصیل چاہئے وہ اِن کا مطالعہ کریں ۔ ہم اپنے مضمون کی مناسبت سے شیخ الاسلام  جسٹس (ر) مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ  کا وہ فتویٰ نقل کرنا  کافی سمجھتے ہیں جو انہوں نے  فتاویٰ عثمانی، جلد اول  میں صفحہ  نمبر ۹۷ پر تحریر کیا ہے؛

جوشیعہ کُفریہ عقائد رکھتے ہوں، مثلاً قرآن کریم میں تحریف (Amendment) کے قائل ہوں یا یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ حضرت جبریل علیہ السلام سے وحی لانے میں غلطی ہوئی ، یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگاتے ہوں ،  اُن کے کُفر میں کوئی شبہ نہیں۔ لیکن یہ بات کہ تمام شیعہ اِس قسم کے کافرانہ عقائد رکھتے ہیں ، تحقیق سے ثابت نہیں ہوئی۔ اور کئی شیعہ یہ کہتے ہيں کہ الکافی یا اصول کافی(شیعوں کی مشہور کتابیں)  وغیرہ میں جتنی باتیں لکھیں ہیں ، ہم اُن سب کو درست نہیں سمجھتے ۔ دوسری طرف کسی کو کافر قرار دینا چونکہ نہایت سنگین معاملہ ہے ، اِس لئے اِس میں بے حد احتیاط ضروری ہے۔ اگر باِلفرض کوئی تقیہ(اپنے عقائد و نظریات کو چھپانا) بھی کرے تو وہ اپنے باطنی عقائد کی وجہ سے عنداللہ کافر ہوگا ، لیکن فتویٰ اُس کے ظاہری اقوال پر ہی دیا جائے گا۔ اسی لئے  چودہ سو سال میں علمائے اہلِ سنت کی اکثریت شیعوں کو علی الطلاق کافر کہنے کے بجائے یہ کہتی آئی ہے کہ جو شیعہ ایسے(یعنی مندرجہ بالا) کافرانہ عقائد رکھے، کافر ہے۔

            یہاں پر اِس بات کی وضاحت کرنا ضروری ہے کہ شیعہ  سُنّی  اِختلاف کوئی آج کا نہیں، سینکڑوں سال پرانا مسئلہ ہے ۔ اِس اختلاف پر  ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں اور لاتعداد  مناظرے ہو چکے ہیں۔ لہذا اگر کسی کا یہ خیال ہو کہ وہ آج اِس مسئلے کو مکمل طور پر حل کر دیگا  تو یہ ممکن نہیں کیونکہ جب انسان دلائل کو نظر انداز کر کے جذباتیت اور اَنانیت پر اُتر آتا ہے تو پھر اُس کی اصلاح ممکن  نہیں ہوتی۔ البتہ اِیسے اقدامات ضرور کئے جا سکتے ہیں جن پر عمل کرنے سے اِس اِختلاف کی شدت کو کم کیا جا سکے اور مزید خونریزی سے بچا جا سکے ۔ مثلاً ہمارے ملک میں چونکہ  سُنّی  اکثریت ہے لہذا حکومت کی یہ ذمہ داری  ہے کہ وہ اقلیت ( اہلِ تشیع) کو ایسے مظاہروں  اور جلسوں کی اجازت نہ دے جس سے اکثریت میں اِشتعال پھیلے یا اُن کے جذبات مجروح ہوں۔ اِسی طرح  سُنّیوں   کو بھی پابند کرے کہ وہ اقلیت کے جذبات کو مجروح کرنے والے تمام اقدامات سے اجتناب کریں اور اُن کے جان و مال کی حفاظت کرے۔

            حکومت کو یہ بھی چاہیے کہ وہ دونوں جانب کے مقرر ین اور لکھاریوں کو پابند کرے کہ وہ ایک دوسرے کے اکابر اور پیشواؤں کو بُرے الفاظ اور القا بات سے یاد نہ کریں اور  نہ ہی  اُن کی توہین کریں ۔اِسی طرح  پورے ملک میں اشتعال انگیز تقاریر اور کتابیں ضبط کی جائیں اور اُن کی مزید اشاعت اور پھیلاؤ کو روکا جائے۔ اگر حکومت اور مقتدر حلقے مندرجہ بالا اقدامات پر عمل درآمد کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اِس سے شیعہ  سُنّی  فرقہ وارا نہ فسادات میں انشاءاللہ کمی آئی گی اور عوام سکون کا سانس لیں سکیں گے۔

صحابہ کرام کے آپس کے اختلافات کے معاملے میں ہمارالائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے؟

            تمام صحابہ کرام قابل قدر اور  ستاروں کی مانند ہیں۔ اِن میں جس کی بھی  پیروی کی جائے  اُس میں نجات ہے۔قیامت کے دن ہم سے یہ نہیں پوچھا جائیگا کہ صحابہ کرام ؓکے درمیان کیا اِختلافات تھے اور اُن میں حق پر کون تھا؟جب  ہم اُس وقت موجود ہی نہیں تھے ، تو کیوں خواہ مخواہ اِس بحث میں اُلجھیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرام کے بارے میں اِرشاد فرمایا ہے: "اور مہاجرین اور انصار میں سے جو لوگ پہلے ایمان لائے، اور جنہوں نے نیکی کے ساتھ اُن کی پیروی کی، اللہ اُن سب سے راضی ہو گیا  ہے ، اور وہ اُس سے راضی ہیں۔"    (سورۂ تو بة   ، آیت ۱۰۰)

حضرت عبداللہ بن مغفل ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ: " میرے بعد میرے صحابہؓ کے بارے میں اللہ سے ڈرنا اور اُن کو ہدفِ ملامت نہ بنانا اِس لئے کہ جس نے اِن سے محبت کی اُس نے میری محبت کی وجہ سے اِن سے محبت کی اور جس نے اِن سے بغض رکھا  اُس نے مجھ سے بغض کیا اور جس نے اِنہیں اِیذاء (تکلیف) پہنچائی گویا اُس نے مجھے ایذاء دی اور جس نے مجھے اذیت دی گویا کہ اُس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اور جس نے اللہ تعالیٰ کو اذیت دی اللہ تعالیٰ عنقریب اُسے اپنے عذاب میں گرفتار کرے گا"۔(جامع ترمذی:4066 )

لہذا  ضرورت اِس امر  کی ہے کہ  صحابہ ؓ کے بارے میں زبان سے کوئی اِیسی بات نہ نکالی جا‏ئے  جو اُن کا درجہ گھٹائے یا جس سے اُن کی تضحیک ہو۔ اگر اتفاق سےصحابہؓ کے بارے میں  کوئی نامناسب بات سامنے آ بھی جائے تو اُس کی کوئی اچھی ہی  تاویل کرنی چاہئے  ۔

صحابہ کرام  کے بارے میں جماعت اسلامی کے بانی جناب مودودی صاحب نے  اپنی کتاب " خلافت وملوکیت" میں کچھ ایسی باتیں لکھیں ہیں جو جمہور علما ء (اہلِ سنت و الجماعت کے اکثر علماء)کے مسلک(طریقہ) کے خلاف ہیں۔ لہذا جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے حضرات کی خدمت میں گزارش ہے کہ  دینی مسائل میں جمہور علماء کے مسلک کی پیروی کریں  اورفردِ واحد کی رائے کو  اپنا کر اپنی آخرت خراب  کرنے سے  اجتناب کریں۔

اختلاف رحمت یا زحمت؟

یہاں پر ایک سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ آخر  کیا وجہ ہے کہ  ہم ایک جگہ تو اِختلاف کو رحمت کہتے ہیں اور دوسری جگہ پر گمراہی۔  اِس کا جواب یہ ہے کہ  اِختلاف کی دو قسمیں ہیں۔  ایک اُصولی (نظریاتی) اِختلاف  اور دوسرا فروعی ( اِجتہادی  مسائل میں ) اِختلاف ۔اُصول” جَڑ“ یا” بنیاد“ کو کہتے ہیں  جبکہ فروع ”شاخ “کو کہتے ہیں۔مجتہدین اوراِماموں (Interpreters)کا باہمی اِختلاف یا دوسرے فرقوں کے مابین اسی قسم کا اِختلاف فروعی اِختلاف ہے  جو کہ صحابہ کرام ؓ کے درمیان بھی رہا تھا ۔ اور اِس اِختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے۔ اِس کے بارے میں ہم دو حدیثیں پیش کر چکے ہیں۔

 اِس قسم کے فروعی اِختلاف کا حکم یہ ہے کہ جس عالم سے اعتقاد ہو دینی مسائل میں اُس کی پیروی کی جائے اور باقی بزرگوں کے بارے میں اِحترام کو ملحوظ رکھا جائے۔

دوسری قسم کا اختلاف’’ اُصولی یانظریاتی اختلاف ‘‘ہے ،جس کوحضورﷺ نے ناپسند فرمایا ہے۔ آپﷺ نے اس اِختلاف  کی پیشن گوئی بھی فرمائی تھی اور اس میں حق و باطل  کو جانچنے کا معیار بھی مقرر فرما یا تھا۔ چنانچہ  ارشاد نبوی ہے :" بنو اسرائیل ۷۲ فرقوں میں بٹے تھے ، اور میری امت ۷۳ فرقوں میں بٹے گی، یہ سب  کے سب سِوائے ایک کے  جہنم میں جائیں گے ۔ عرض کیا گیا : یا   رسول اللہﷺ ! یہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہے؟ فرمایا " جو لوگ اُس راستے پر قائم رہیں گے جس پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہیں۔" (مشکوٰۃ شریف، بحوالہ اِختلاف اُمت اور صراطِ مستقیم)

 یہاں پر اِس بات کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ بعض لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے ان ۷۳ فرقوں کے اِختلاف کو فِروعی اِختلاف سمجھتے ہیں  اِسی وجہ سے وہ  مدارِس ، سلاسئلِ تصوف، دعوت و تبلیع، تصنیف و تالیف ، جہاد اور سیاست   جیسے دینی نشر و اشاعت کے اداروں کو بھی الگ الگ  فرقے سمجھتے ہيں حالانکہ یہ دین  کی اشاعت و ترویج کے مختلف شعبے ہیں الگ فرقے نہیں ، اور سارے کے سارے حق پر ہیں۔

ہم کس کی بات مانیں؟

اِس کے علاوہ علمائے کرام کے بعض دینی مسائل میں اِختلاف کو دیکھ کر لوگ کہتے ہیں کہ اِن علماء کے آپس کے اِختلاف نے عوام کو بہت نقصان پہنچایا ہے، آخر  ہم کس کی  بات مانیں اور کس کی بات کو رد کریں۔ اِس بات  کی وضاحت تو اس مضمون میں حتی‏الوسع کر دی گئی ہےکہ ہم کس کی مانیں اور کس کا اِنکار کریں تاہم دینی مسائل میں اِختلاف کو بہانہ بنا کر  علمائے کرام  پر لعن طعن کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں کیونکہ اِختلافِ رائے صرف علماء تک محدود نہیں بلکہ  ڈاکٹر وں اور وکلاء وغیرہ کی رائے میں بھی  اِختلاف ہوتا ہے۔ لیکن اِس اِختلاف کو بنیاد بنا کر کوئی شخص علاج کرانا نہیں چھوڑتا، کوئی مقدمہ کرنے سے نہیں رُکتا۔ پھر صرف علماء کے اِختلاف کو بہانہ بنا کر دین پر عمل کیوں چھوڑ دیا جاتا ہے؟ عام لوگ صرف اتنا کریں کہ جس عالم کو وہ اچھا سمجھتے ہیں، متبع سنت سمجھتے ہیں  اُس کے قول پر عمل کریں اور دوسروں پربے مقصد لعن طعن نہ کریں۔

اللّٰھُمَّ اَرِنَاالْحَقَّ حَقًّا وَارْزُقْنَا اِتِّبَاعَہُ وَ اَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلًا وَ اجْنُبْنَا اِتِّباعَہُ

ا للہ تعالیٰ ہمیں حق پر عمل کرنے کی توفیق عطا فر مائے۔

 

 

 

ڈاکٹر ذاکر نائیک کے نظریات کے بارے میں مختصر جائزہ پیش کیجئے۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک مختلف مذاہب (اسلام،عیسائیت ،یہودیت ،ہندو مت وغیرہ)کے درمیان موازنہ Comparative study of religons)) کے ماہر ہیں۔آپ دین کے اِس شعبے میں کافی مہارت بھی رکھتے ہیں لیکن جہاں تک دیگر اسلامی احکامات ،عقائد،عبادات وغیرہ کا تعلق ہے اُن میں بہت سارے مقامات پر آپ کی آراء اہل السنت والجماعت کی متفقہ آراء کے مطابق نہیں ۔مثلاًاجتہاد،تقلید،مسئلہ طلاق ،مسئلہ تراویح وغیرہ کے مسائل میں اُن سے بہت بڑی بڑی غلطیاں ہوئی ہیں۔تحقیقی نظر سے دیکھا جائے تو ڈاکٹر ذاکر نائیک اہل حدیث مکتبہ فکر ہی کی نمائندگی کرتے ہیں ( اگر چہ وہ اِس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں)۔

جِن اُمور میں ڈاکٹر ذاکر نائیک میں اُمت کے متفقہ (اجماعی) مسائل میں الگ راہ اختیار کی ہے اُن میں سے چند ایک کا نیچے ذکر کیا جا رہا ہے؛

1۔اجتہاد اور تقلید

تمام اہلِ علم حضرات اِس بات پرمتفق ہیں کہ ایک کَم علم شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ دینی مسائل پر عمل کرنے کے لئے چاروں اِماموں میں سے کسی ایک اِمام (مجتہد) کی تحقیقات پر عمل کرے ( تقلید اِسی کوکہتے ہیں)۔یہی قرآن و سنت کی تعلیمات بھی ہیں اور اِسی پر اُمت کا اجماع بھی ہے ۔

اُمت کا تقریباً ۹۵ فی صد طبقہ اب بھی اِس پر عمل پیرا ہے البتہ ڈاکٹر ذاکر نائیک اِس معاملے میں فرماتے ہیں کہ کسی اِمام یا مجتہد کی تحقیقات کی روشنی میں دین پر چلنے کے بجائے سب مسلمانوں کو قرآن اور صحیح حدیث پر عمل کرنا چاہئیے۔ یہ نعرہ بظاہر تو بہت خوشنما اور جاذِبِ نظر (Attractive) نظر آتا ہے لیکن درحقیقت اِس پر عمل کرنا آسان نہیں ہے ،کیونکہ ایک عام شخص کے لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ صحیح اورضعیف احادیث میں فرق کر سکے،یا احادیث کے باہمی ٹکراؤ (تعارض) کے بارے میں کوئی فیصلہ کر سکے کہ کس حدیث پر عمل کرنا ہے اور کِس پر نہیں؟،یا کونسی احادیث پر حضور ﷺ نے اپنی زندی کے آخری حصے میں عمل فرمایا تھا اور کن احادیث پر عمل چھوڑ دیا تھا؟یہ ساری تفصیلات صرف بخاری اور مسلم شریف کے اُردو ترجمے دیکھنے سے معلوم نہیں ہوتیں بلکہ اِن سوالات کے جوابات کے لئے فقہاء اور مجتہدین نے اپنی عمریں کَھپا ئیں ہیں۔

لہٰذا عقل و فہم کا بھی یہی تقاضا ہے اور شریعت بھی اِس بات کا حکم دیتی ہے کہ کم علم حضرات پر یہ لازم اور ضروری ہے کہ براہِ راست حدیث کی کتابوں کو پڑھ کر اپنے فہم کو معیار بنانے کے بجائے کسی مجتہد کی فہم اورتحقیق پر اعتماد کرکے اُس پر عمل کرے۔

(حاشیہ:مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے ’’تقلید کی شرعی حیثیت‘‘ (مفتی تقی عثمانی)

2۔ ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک سمجھنا:

قرآنِ پاک،احادیثِ نبوی ﷺ ،صحابہ کرام کے فیصلوں اورعلماءِ اُمت کے اجماع (اتفاق )سے ثابت ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو یہ طلاق ہو جاتی ہے اور وہ بیوی اُس پر حرام ہو جاتی ہے لیکن اہلِ حدیث حضرات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر ذاکر نائیک بھی اس مسئلہ میں شدید درجے کی گمراہی کا شکار ہیں۔وہ ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاق کو ایک سمجھتے ہیں اور اِس معاملے میں تو ذاکر نائیک نے اپنے ایک بیان میں یہاں تک جرات کی اور کہا کہ’’ یہ فیصلہ(یعنی ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک کہنا ) حضرت عمرؓ کا فیصلہ تھا اور ہم نے حضرت عمرؓ کے فیصلے پر نہیں بلکہ قرآن وحدیث پر عمل کرنا ہے ‘‘۔گویا حضرت عمرؓ اور دیگر صحابہ کو طلاق کے مسئلہ پر قرآنِ پاک اور احادیثِ مبارکہ کی سمجھ نہیں آئی تھی اور دورِحاضر میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کو سمجھ آگئی ہے۔غور کیا جائے تو دراصل یہی نقطہ تمام گمراہیوں کی جڑ ہے۔

اِس کے علاوہ ڈاکٹر ذاکر نائیک مرد اور عورت کی نماز میں کسی فرق کے قائل نہیں ہیں۔عورتوں کو مسجد میں جانے کی تاکید کرتے ہیں۔ جمعہ کے خطبہ کو غیر عربی زبان میں دینے کے حق میں ہیں۔۸ رکعت تراویح کو ہی سنت قرار دیتے ہیں۔ عورتوں کے لئے چہرے کے پردہ کو ضروری نہیں سمجھتے۔حالتِ حیض میں قرآنِ پاک پڑھنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ (حاشیہ: ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مندرجہ بالا نظریات اتنے مشہور ہیں کہ انٹرنیٹ پر اُن کے اکثر خطبات میں یہ باتیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں)

خلاصہ یہ ہے کہ مذاہب کے باہمی موازنہ کے موضوع پر تو ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب کے بیانات سے کسی حد تک فائدہ حاصل کیا جاسکتاہے البتہ شرعی مسائل کے معاملے میں مستند اور مشہور مفتیانِ کرام اور علمائے کرام سے ہی رابطہ کرنا چاہیئے۔

 

اجماع سے کیا مراد ہے ؟اورجاوید غامدی  اِجماع کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہیں؟

 

ٹی وی پروگرام سے شہرت پانے والے جاوید احمد غامدی  دین و شریعت کے ہر مسئلہ کو اپنی عقل کی میزان پر تولتے ہیں  اور اُن کی عقل میں جو مسئلہ نہیں آتا اُس کا انکار کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ موصوف سزائے اِرتداد (مرتد کی سزا) ، اِجماعِ اُمت اور حدیث کے منکر ہیں۔


"اِجماع کے بارے میں اُمت مسلمہ کا نظریہ کیا ہے؟"


حضور ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ کرام یا کسی زمانے کے تمام علماء اور مجتہدین کا کسی شرعی فیصلے پر متفق ہو جانا اِجماع کہلاتا ہے۔دین اسلام کے اَحکامات معلوم کرنے کے لئے قرآن پاک اور احادیث نبوی ﷺ کے بعد تیسرا ذریعہ(Source) اجماع ہی ہے۔

جس طرح ہر مسلمان کے لئے قرآن و سنت سے ثابت شدہ شرعی مسائل پر عمل کرنا ضروری ہے بالکل اسی طرح قطعی(یقینی) ذرائع سے ثابت شُدہ اِجماع پرعمل کرنا بھی لازم ہے اورقرآن پاک کی آیات کے مطابق اس کی مخالفت گناہِ عظیم ہے(النساء:۱۱۵)۔  جس طرح قرآن و سنت کا کوئی فیصلہ غلط نہیں ہو سکتااسی طرح ایسا اجماعی فیصلہ(جو بالکل یقینی اور قطعی ہو) غلط نہیں ہو سکتا، اور بعد کے مسلمانوں پر اس کی پابندی لازی ہے۔

اَحادیث مبارکہ میں تو اجماع پر عمل کی اتنی تاکید آئی ہے کہ اُس کا انکار ممکن ہی نہیں رہا اوربعض صورتوں میں تو اجماع کا انکار کفر ہے۔تقریباً چوالیس (۴۴) صحابہ کرام سے اس سلسلے میں روایات نقل کی گئی ہیں۔

(تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کی کتاب ’’فقہ میں اجماع کا مقام)


دورِ اسلامی میں اجماع کی مثالیں

تاریخ اسلام میں اجماع کی بہت ساری مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً صحابہ کرام اس بات پر متفق ہو ئے کہ اگر کوئی شخص زکوٰۃ کا منکر ہے تو اِس میں اور نماز کے منکر میں کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔چونکہ نماز کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے لہٰذا زکوٰۃ کے منکر کو بھی دائرہ اسلام سے خارج ہی سمجھا جائے گا۔اِسی اِجماع (متفقہ فیصلے )کی بنیاد پر صحابہ کرام نے منکرین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کیا۔

دورِ صحابہ میں اجماع کی دوسری مثال نبوت کے جھوٹے دعوے دار  مُسَیلمَہ کذّاب کو کافر قرار دے کر اُس کے خلاف جہاد کا متفقہ فیصلہ تھا۔

اس کے علاوہ ہر دور میں اس طرح کے اجماع کی مثالیں ملتی ہیں۔دور حاضر میں اجماعِ اُمت کی ایک اہم مثال مرزا غلام قادیانی کے خلاف کفر کے فتویٰ پر پوری امت اسلامیہ کا متفق ہو نا ہے جِس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔

جاوید غامدی کا اجماعِ اُمت کے متعلق نظریہ

ہر دور میں گمراہ حضرات نے اِجماع ہی کا انکار کرکے قرآن و حدیث کے الفاظ سے اپنے مطلب کے معنی نکالنے کرنے کی کوشش کی ہے ۔

جاوید احمد غامدی بھی اسی گمراہی میں مبتلا ہیں چنانچہ اِجماع کے متعلق لکھتے ہیں:

’’دین کے ماخذ میں یہ (یعنی اجماع کا) اضافہ یقیناً بدعت ہے ۔قرآن و سنت کے نصوص میں اس کے لئے کوئی بنیاد تلاش نہیں کی جا سکتی(اشراق اکتوبر ۲۰۱۱،صفحہ نمبر ۲)۔‘‘

یہی وجہ ہے کہ جاوید  غامدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و نزول(قیامت سے پہلے دوبارہ نازل ہونے) ، توہینِ رسالت کی سزا ، مسئلہ تکفیر (کسی کو کافر قرار دینے کا مسئلہ)، مُرتَد کی سزا، غلبہِ دین کے لئے جہاد ، رجم، پردہ، سود اور اُمت کے دیگر اکثر اجماعی (متفقہ)مسائل کا انکارکر کے خود بھی گمراہ ہو ئے اور اپنے پیرو کاروں کو بھی گمراہ کیا۔  (جاری)

سوال نمبر2-کیا جاوید غامدی منکر حدیث ہے؟

احادیثِ نبوی ﷺ کے بارے میں اُمَّتِ مُسلِمَہ کا نقطہ نظر

اُمت ِ مسلمہ کا متفقہ مؤقف ہے کہ دینی احکامات معلوم کرنے کے لئے  پہلا ماخذ (Source)قرآنِ پاک اور دوسرا نبی کریم ﷺ کی احادیث(سنت) ہیں ۔ قرآن و حدیث سے ہی اس بات کا علم ہوا کہ  اِجماع اور قیاس (اجتہاد)بھی دینی احکامات کا  ماخذ (سَرچِشمہ) ہیں۔

قرآن ِ پاک کی تشریح و تعبیر احادیث ِ نبوی  کے بغیر ممکن ہی نہیں اور ہر مسئلے کے شرعی  حکم کو سب سے پہلے قرآنِ پاک  میں تلاش کیا جائے گا اور اگر اُس میں  تفصیل نہ مِلے تو پھر احادیثِ نبوی ﷺ کی طرف رُجوع کیا جائے گا۔ قرآنِ پاک ، احادیثِ مبارکہ اور اُمَّت کے اجماع  سے یہ بات ثابت  ہے کہ نبی کریم ﷺ کے ارشاداتِ مبارکہ اور آپ ﷺ کا عمل دونوں  دین میں حُجَّت (Authority) ہےاورآپ ﷺ کے اقوال و افعال دونوں کے ذریعےاُمت کو جو احکامات دئے گئے ہیں اُن  کو دین ہی کا حصہ سمجھ کر اُن پر عمل کرنا ضروری ہے۔

نبی کریم ﷺ کی احادیث کے بارے میں قرآن کیا کہتا ہے؟

نبی کریم ﷺ کے تمام ارشادات کے وحی ہونے اور حضور ﷺ کے تمام افعال کے ہر غلطی سے پاک ہونے کی قرآن پاک نے قسم کھا کر دی ہے ( نجم : 1 تا 4)۔اس کے علاوہ قرانِ پاک میں  صاف صاف یہ حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کہا ماننے کے ساتھ ساتھ نبی کریم ﷺ کا کہا بھی مانو(نساء:59)۔ قرآن پاک نے ہی  حضور ﷺ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیا ہے۔ (نساء:80) اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ  نبی کریم ﷺ نے جن چیزوں کے کرنے کاحکم دیا ہے اُن پر عمل کرواور جن چیزوں سے منع کیا ہےاُن سے رُک جاؤ (حشر:7)

 (تفصیل کا یہاں موقع نہیں البتہ خواہشمند حضرات اگر اُن آیات یا احادیث کو تفصیلاً پڑھنا چاہتے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے  تووہ مفتی تقی عثمانی صاحب کی کتاب "حُجیّتِ حدیث" یااُس کا  انگریزی ترجمہ " Authority of Sunnah" یا ڈاکٹر محمود غازی ؒ کی کتاب "محاضرات ِ حدیث" یا علامہ ڈاکٹر خالد محمود صاحب کی کتاب "آثار الحدیث"ملاحظہ فرمائیں۔)

احادیثِ نبوی ﷺ سے ثابت شُدہ دینی احکامات کی چند مثالیں

قارئین! سینکڑوں دینی احکامات میں سے چند ایسےدینی احکامات کی فہرست نیچے درج کی جا رہی ہے جوصرف احادیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہیں اور صحابہ کرام، تابعین اور تمام مجتہدین نے اِس کو دین سمجھ کر ہی اس پر عمل کیا ہے؛

مُرتد کے لئے قتل کی سزا، شادی شدہ زانیوں کے لئے رَجَم یعنی سنگساری کی سزا،توہین ِ رسالت کی سزا،شراب نوشی پر سزا،  مَردوں کے لئے داڑھی بڑھانا،عورتوں کے لئے خاص ایام میں نماز کا معاف ہونا،مردوں کے لئے سونے کا حرام ہونا،مختلف قسم کے اموال پر زکوٰۃ کے نصاب کی تفصیلات وغیرہ

دینی اَحکام کے حوالے سے اِہلِ السُنَّۃ وَالجَماعَۃ کا طریقہ کار

اہل السنۃ والجماعۃ کاطریقہ کاریہ ہے کہ وہ دینی احکامات  اخذ کرنے کے لئے سنت وحدیث کو ماخذ (Source)ومعیار(Standard) سمجھتے ہیں، جبکہ اس کی وضاحت اور تشریح کے لیے صحابہ کرام سے رجوع کرتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ اہل السنۃ والجماعۃ کہلاتے ہیں۔

 چنانچہ جن عقائد پر ایمان لانا ایک مسلمان کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے، ان میں سے اکثر و بیشتر کا ماخذ (Source) حدیث نبوی ﷺ ہی ہے۔ کیونکہ عقیدہ کا تعلق خالصتاً ’’علم‘‘ سے ہے اور اُمَّت  کی اکثریت کے نزدیک جو باتیں عقائد وایمانیات میں شامل ہیں، ان کی بنیاد صرف قرآن کریم پر نہیں ہے، بلکہ حدیث وسنت کو بھی ایمانیات وعقائد کے تعین اور تعبیر وتشریح کے لئے ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ اور جس طرح قرآن کریم کے ارشادات ہمارے عقیدہ وایمان کا حصہ بنتے ہیں، اسی طرح جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ِ مبارکہ بھی ایمان وعقیدہ کی بنیاد ہیں۔ 

احادیثِ نبوی ﷺ کے بارے میں جاوید غامدی کا مؤقف

جاوید غامدی حدیث اور سنت میں فرق کے قائل ہیں ۔سنت سے اُن کی مراد کیا ہے، یہ تو اگلی پوسٹ میں بیان کیا جائے گا انشاء اللہ، البتہ یہاں حدیث کے متعلق اُن کا نقظہ نظر پیش کر رہا ہوں؛

احادیث ِ نبوی ﷺ کے متعلق  جاوید غامدی کا نظریہ یہ ہے کہ

" جنہیں اصطلاح میں حدیث کہا جاتا ہے اُن کے بارے میں یہ بات تو  بالکل واضح ہے  کہ اِن سے دین میں  کسی عقیدہ و عمل کا اِضافہ نہیں ہوتا" (میزان ص 61 طبع پنجم )

ذرااحادیثِ مبارکہ کے بارے میں مذکورہ بالا چند قرآنی آیات  پڑھئے اور جاوید غامدی کے اس نظریہ پر سوچئے؛

·        کیا یہ نظریہ دین کی بنیادوں کو تباہ وبرباد کرنے والا نہیں؟ 

·        کیا عقائد ،عبادات،معاملات،معاشرت ،اخلاقیات ،سیاست اور دین کے دیگر شعبوں کے لئے نبی کریم ﷺ نے جو ہدایات ، احادیثِ مبارکہ کی صورت میں دی ہیں اور جس پر صحابہ کرام ،تابعین اور تبع تابعین نے عمل کیا ہے اور اِسے دین کاحکم سمجھا ہے وہ سب دین نہیں ہے؟

احادیثِ نبوی ﷺ کو دین میں عقیدہ و عمل کا ماخذ نہ سمجھنے کا نتیجہ

احادیث کو دین کاماخذ نہ سمجھنے کی وجہ سے؛

·        جاوید غامدی مُرتَد کے لئے قتل کی سزا کے قائل نہیں۔

·        شادی شدہ زانی کے رجم (سنگساری) کی سزا کے قائل نہیں۔

·        اِجماعِ اُمت کو دینی احکام کا ماخذ نہیں سمجھتے۔

·        زکوٰۃ کےنصاب کے بارے میں ریاست کوکمی بیشی کا  اختیار دیتے ہیں۔

·        توہینِ رسالت کی سزا ئے موت کو قرآن و حدیث کے خلاف سمجھتے ہیں۔

·        حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زندہ آسمانوں پر اُٹھائے جانے کے قائل نہیں اور کہتے ہیں کہ  اُن کو موت آ چکی ہے (نعوذُ باللہ) اور قیامت سے پہلے وہ دوبارہ نازل نہیں ہونگے۔

·        غلبہ ِ اسلام کے لئے جنگ (جہاد) کے مخالف ہیں۔

·        اِمام مہدی کی آمد کو ایک افسانہ کہتے ہیں۔

·        کسی کو کافر کہنے کے مخالف ہیں یہاں تک کہ غلام قادیانی اور اُن کے متبعین کو بھی کافر کہنے کو غلط تصور کرتے ہیں۔

·        موسیقی کو جائز سمجھتے ہیں۔

·        داڑھی کو دین  کا حکم نہیں سمجھتے۔وغیرہ

اہل السنت والجماعت  کا متفقہ مؤقف:عقائد قرآن ِ پاک  کے علاوہ احادیث ِنبوی ﷺسے بھی ثابت ہوتے ہیں

(دورِ صحابہ کی دو مثالیں)

اس سلسلے میں صحابہ کرامؓ کے دور کے بہت سارے واقعات میں صرف  دو واقعات کو یہاں پر درج کیا جا رہا ہے جو اس بات کی وضاحت کے لیے کافی ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے دور میں عقیدہ کے تعین اور تشریح، دونوں میں قرآن کریم کے ساتھ ساتھ حدیث نبوی کو بھی ماخذ کی حیثیت حاصل تھی اورقرآن و سنت دونوں کی وضاحت اور ان کے صحیح مفہوم معلوم کرنے  کے لیے صحابہ کرامؓ سے رجوع کیا جا تا تھا۔

1:            امام مسلم نے ’’صحیح مسلم‘‘ کی سب سے پہلی روایت میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ یحییٰ بن یعمرؒ (تابعی)نے بیان کیا ہے کہ جب بصرہ میں معبد جہنی نے تقدیر کے انکار کی بات کی تو میں اور حمید بن عبد الرحمن حج یا عمرہ کے لیے روانہ ہوئے اور ہم نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہمیں صحابہ کرامؓ میں سے کسی بزرگ کی زیارت نصیب ہو گئی تو ہم ان سے معبد جہنی کے اس عقیدے کے بارے میں دریافت کریں گے۔

 ہمیں اس سفر میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی زیارت کا شرف حاصل ہو گیا۔ ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں کچھ لوگ ہیں جو قرآن کریم بھی پڑھتے ہیں اور علم کی باتیں بھی خوب کرتے ہیں، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ تقدیر کوئی چیز نہیں ہے اور دنیا میں جو کام بھی ہوتا ہے، نئے سرے سے ہوتا ہے (یعنی پہلے سے اس کے بارے میں کچھ لکھا ہوا نہیں ہے)۔ حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ جب تم واپس جا کر ایسے لوگوں سے ملو تو انھیں میری طرف سے کہہ دو کہ میں ان سے براء ت کا اعلان کرتا ہوں اور وہ جب تک تقدیر پر ایمان نہیں لائیں گے، اگر اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیں تو ان سے وہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کے بعد حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک طویل حدیث سنائی جس میں ایمانیات کا ذکر کرتے ہوئے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ تم تقدیر پر بھی ایمان لاؤ کہ خیر اور شر سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق ہوتا ہے( وتؤمن بالقدر خیرہ و شرہ)

2:            دوسرا واقعہ بھی امام مسلم نے ہی کتاب الایمان میں ذکر کیا ہے، اس میں ایک اور تابعی بزرگ حضرت یزید الفقیر فرماتے ہیں کہ میں خوارج کے اس عقیدہ سے متاثر تھا کہ جو شخص ایک بار جہنم میں چلا گیا، وہ وہاں سے کبھی نہیں نکلے گا اور شفاعت کوئی چیز نہیں ہے، مگر مجھے ایک مرتبہ بہت سے دوستوں کے ساتھ حج کے لیے جانے کا موقع ملا تو مدینہ منورہ میں حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کو مسجد نبوی میں دیکھا کہ وہ ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگائے لوگوں کو وعظ فرما رہے تھے۔ انھوں نے اپنی گفتگو میں کچھ لوگوں کے جہنم سے نکل کر جنت میں جانے کا ذکر کیا تو میں نے سوال کر دیا کہ حضرت! قرآن کریم تو کہتا ہے کہ اے اللہ، جس کو تو نے جہنم میں داخل کیا تو اسے رسوا کر دیا( ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ) اور قرآن کریم میں ہے کہ" جہنم سے جب بھی لوگ نکلنے کا ارادہ کریں گے تو اسی میں لوٹا دیے جائیں گے"(  کلما ارادوا ان یخرجوا منہا اعیدوا فیہا) تو اس کے بعد آپ حضرات یہ کیا کہہ رہے ہیں کہ شفاعت ہوگی اور کچھ لوگوں کو جہنم میں سے نکالا جائے گا؟ حضرت جابرؓ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ کیا تم نے قرآن کریم پڑھا ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا کہ کیا اس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ’’مقام محمود‘‘ کا تذکرہ بھی پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ ہاں پڑھا ہے تو اس پر حضرت جابر بن عبد اللہ نے ایک طویل حدیث سنائی جس میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ قیامت کے دن ’’مقام محمود‘‘ میں کھڑے ہو کر شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت پر بے شمار لوگوں کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا، جبکہ وہ آگ میں جل کر کوئلہ ہو چکے ہوں گے۔

 یزید الفقیر فرماتے ہیں کہ حضرت جابر سے یہ حدیث سن کر ہم نے آپس میں گفتگو کی اور ایک دوسرے سے کہا کہ تمہارے لیے بربادی ہو، کیا یہ بزرگ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے جھوٹ بول رہے ہیں؟ چنانچہ ایک شخص کے سوا ہم سب رفقا نے اپنے سابقہ عقیدے سے رجوع کر لیا۔

نتیجہ ؛

ان دونوں واقعات کو ایک بار پھر پڑھ لیجیے بلکہ یہاں تو  انھیں مختصراً نقل کیا گیا  ہے، صحیح مسلم میں انھیں براہ راست بھی دیکھ لیجیے، ان میں عقیدہ کی بات ہے۔ اور ایک واقعہ میں توسوال کا جواب دینےکے لیے قران کریم کی دو آیات کا حوالہ دیا گیا ہے،لیکن اُن کی وضاحت کے لیے صحابہ کرام سے رجوع کیا گیا ہے، دونوں بزرگوں یعنی حضرت عبد اللہ بن عمرؓ اور حضرت جابر بن عبد اللہؓ نے عقیدہ کی وضاحت کے لیے حدیث نبوی ﷺ پیش کی ہے، اور پوچھنے والوں نے اسے کافی سمجھتے ہوئے اپنے عقیدہ کو درست کر لیا ہے۔

3-جاوید غامدی کا سُنَّتِ نبوی ﷺ کے بارے میں  کیا نظریہ ہے؟

 

جاوید غامدی "سُنَّت" اور "حدیث" میں فرق کرتےہیں اور سُنَّت کی ایسی تعریف (Definition) کرتے ہیں جو چودہ سو سالوںمیں آج تک کسی مجتہد ، مُفَّسِر یا محدث نے نہیں کی  ۔یہی وجہ ہے کہ  اُن کے نزدیک دین میں کل سنتوں کی تعداد صرف 26 ہے۔

غامدی صاحب اپنی کتاب میزان  کے صفحہ 14-15 پر  سُنَّت کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:" سُنَّت سے مراد ہماری دین ابراہیمی کی  وہ روایت ہے جسے نبی کریم ﷺ نے اس کی تجدید و اصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے"۔

حقیقت یہ ہے کہ سنتِ نبوی کا یہ مفہوم نہ صرف یہ کہ  اُمت کے اجماعی (اتفاقی) نقطہِ نظر کے خلاف ہے  بلکہ انتہائی گمراہ کُن اور عملاً سنت کو حجت (authority) ماننے سے انکار کے مترادف ہے۔

جاوید غامدی  سے دو سوالات

 1:           جاوید غامدی لکھتے ہیں کہ  کسی بھی عمل کو سنت  اُسی وقت قرار دے  سکتے ہیں جب وہ ہمیں عملی تواتر(تسلسل) سے پہنچا ہو۔ حالانکہ سب سے پہلے تو جاوید غامدی کو چاہیئے کہ وہ اپنی بیان کردہ مندرجہ بالا تعریف ( Definition)  کو صحابہ کرام اور اُمت کے عملی تواتر (تسلسل) سے ثابت کر یں اوراِسکے علاوہ یہ بھی ثابت کرنا ضروری ہے کہ کیا کسی صحابی ،تابعی یا مجتہد نے سنت کی یہ تعریف کی ہے؟؟ اور کیا یہ تعریف کسی عملی تواتر سے ثابت ہے؟ اگراُن کے نزدیک  کسی عمل کو سنت قرار دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ اُس پر ہر دور میں تمام مسلمانوں نے عمل کیا ہو (جسے  عملی تواتر کہتے ہیں)تو کیا سنت کی مندرجہ بالا تعریف ( Definition) کا تواتر سے ثابت ہونا ضروری نہیں؟

جب جاوید غامدی کی بیان کردہ سنت کی مندرجہ بالا تعریف ہی قرآن پاک،احادیث ،صحابہ یا مجتہدین سمیت کسی سے ثابت ہی  نہیں تو آگےاِس بات کی بحث میں پڑنا ہی فضول ہے کہ جاوید غامدی نے پورے دین میں صرف6 2  چیزوں کوہی کیوں سنت قرار دیا ہے اور باقی سنتوں کا انکار کیوں کیا ہے؟

2:            دوسرا سوال یہ ہے کہ جن 26 چیزوں کو جاوید غامدی سنت قرار دے رہے ہیں کیاوہ  ان کو  حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر آج تک عملی تواتر سے ثابت  کر سکتے ہیں ؟

سنت کی غلط تعریف  کےنتائج

اگر جاوید غامدی صاحب کی مندرجہ بالاتعریف کو سامنے رکھا جائے تو جناب نبی اکرمﷺ کا ہر وہ عمل اور قول سنت کے دائرہ سے نکل جاتا ہے جس کا دین ابراہیمیؑ کے سابقہ تسلسل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اوروہ نبی کریم ﷺ کے وہ تمام اعمال بھی "سنت" کے دائرے سے نکل جاتے ہیں جو اُنہوں نے  اپنی طرف سے نئی سنت کے طور پر جاری فرمائے تھے۔اور جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا کہ کسی سنت کے ثبوت کے لیے غامدی صاحب کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صحابہ کرامؓ اور ان کے بعد امت کے اِجماع اور قولی تواتر سے ثابت ہو۔ اور جو سنت نبویﷺ یا حدیث رسول اللہﷺاجماع اور تواتر کے ذریعہ ہم تک نہیں پہنچی وہ غامدی صاحب کے نزدیک ثابت شدہ نہیں ہے۔

لہٰذا اگر حدیث و سنت کے تعین اور ثبوت کے لیے مندرجہ بالا معیار کو قبول کر لیا جائے تو چوہدری غلام احمد پرویز(مشہور منکر ِ حدیث)  اور ان کے رفقاء کی طرح حدیث و سنت کے انکار کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔ بلکہ اس وقت حدیث و سنت کے نام سے روایات کا جو ذخیرہ امت کے پاس موجود ہے اور جس کی چھان بین کے لیے محدثین تیرہ سو برس سے صبر آزما  علمی جدوجہد میں مصروف چلے آرہے ہیں اس کا کم و بیش نوے فیصد حصہ خود بخود سنت کے دائرے سے نکل کر (نعوذ باللہ ) غیر اہم قرار پا جاتا ہے۔

آخری بات

نرم ترین الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جاوید غامدی "سنت" کو اپنے خودساختہ معنی و مفہوم میں استعمال کرکے احادیث ِ نبوی ﷺ کے ذخیرے کے بہت بڑے حصے اور اُن سے ثابت شدہ دینی  احکامات کا  انکار کررہے ہیں،اور یوں وہ ایسا کارنامہ سر انجام دے رہے ہیں جو مشہور منکر ِ حدیث غلام احمد پرویز بھی اَنجام نہ دے پائےتھے۔

 

نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے مطابق "سنت " کا مفہوم

نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے مطابق "سنت " کا مفہوم کیا تھا یہ بھی ذرا ملاحظہ فرمائے؛

·        بخاری شریف کی روایت (۸۹۸) کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن کی ترتیب میں نماز کو پہلے اور قربانی کو بعد میں رکھا ہے اور فرمایا ہے کہ جس نے ہماری ترتیب پر عمل کیا، اس نے ہماری سنت کو پا لیا(’’فقداصاب سنتنا‘‘)۔

·        موطا امام مالک  کی روایت کے مطابق جناب نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں نے تم میں دو چیزیں  چھوڑیں ہیں جب تک تم اِ نکو تھامے رہو گے ہر گز گمراہ نہ ہوگے (ایک) کتاب اللہ اور دوسرے اللہ کے رسول کی سنت۔ مشہور زمانہ حدیثِ معاذ رضی اللہ عنہ میں بھی اس کا واضح ذکر ہے ( احمد،ابوداؤد،ترمذی)

·        بخاری شریف کی روایت (۱۵۵۰) کے مطابق حج کے موقع پر حجاج بن یوسف کو ہدایات دیتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ  اگر تم سنت پر عمل کا ارادہ رکھتے ہو تو خطبہ مختصر کرو اور وقوف میں جلدی کرو(’’ان کنت ترید السنۃ‘‘)۔

·        بخاری شریف کی روایت (۱۴۶۱) کے مطابق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں لوگوں کو حج اور عمرہ اکٹھا کرنے سے بعض وجوہ کی بنا پر منع کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ کہہ کر حج اور عمرہ کا اکٹھا احرام باندھ لیا کہ میں کسی کے قول پر سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں چھوڑ سکتا۔

·        بخاری کی روایت (۳۷۶) میں بتایا گیا ہے کہ حضرت حذ یفہؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز میں رکوع وسجود مکمل نہیں کر رہا تو فرمایا کہ اگر تو اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے مرگیا تو تیری موت ’’سنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ پر نہیں ہوگی۔

·        بخاری شریف کی روایت (۱۵۹۸) میں بتایا گیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ کو بٹھا کر ذبح کر رہا ہے تو فرمایا کہ اس کو کھڑا کر کے ایک ٹانگ باندھ دو اور سنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ذبح کرو۔

·        بخاری کی روایت (۲۳۸۳) میں بتایا گیا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس میں اپنا بچا ہوا مشروب بائیں طرف بیٹھے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق کی بجائے دائیں طرف بیٹھے ہوئے ایک اعرابی کو دیا اور فرمایا کہ کوئی چیز دینے لگو تو دائیں طرف سے شروع کرو۔ یہ واقعہ بیان کرکے حضرت انس نے فرما یا کہ یہی سنت ہے، یہی سنت ہے، یہی سنت ہے۔

سوال نمبر 4 جاوید احمد غامدی قادیانیت کے بارے میں کیا مؤقف رکھتے ہیں؟ 


اُمت ِ مسلمہ کا قادیانیت سے متعلق  متفقہ مؤقف


قرآنِ پاک کی تقریباً سو(۱۰۰) آیات ، دوسو (۲۰۰) سے زائد احادیث نبوی ﷺ اور صحابہ کرام کے دور سے لے کر آج تک امت کے اجماع ( اتفاق) سے یہ بات ثابت ہے کہ’’ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔آپﷺ کے بعد ا گر کوئی شخص نبوت یا رسالت کادعویٰ کرے خواہ کسی معنی و مفہوم میں ہو ،وہ کافر ،مرتد اور اسلام سے خارج ہے ۔‘‘


مرزا غلام قادیانی نے بھی اپنی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا ۔اِس کے علاوہ اپنی تحریروں میں اُس نے اللہ تعالیٰ،انبیائے کرام، صحابہ کرام ،اولیائے کرام ،وحی، رسالت اور دیگر اسلامی احکامات کی توہین کی، چنانچہ قرآن و سنت اور امتِ مُسلِمہ کے متفقہ فیصلے کے مطابق مرزا غلام قادیانی اور اُس کے تمام پیروکار کافر،زندیق اور مُر تد قرار پائے۔واضح رہے کہ زندیق اُس کافر کو کہتے ہیں جو غیر مسلم ہونے کے باوجوداپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو اور دیگر تمام اُمتِ مسلِمہ کو کافر سمجھتا ہو ،اِن کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات رکھنا جائز نہیں۔

(حاشیہ: مزید تفصیلات کے لئے ’’ختم نبوت ‘‘ از مفتی محمد شفیع ؒ ، ’’قادیانی فتنہ اور امت اسلامیہ کا موقف‘‘( مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ومولانا سمیع الحق صاحب) اورwww.khatm-e-nubuwwat.org www.khatmenubuwwat.org 
www.khatm-e-nubuwwat.com 
کی ویب سائٹس پر موجود پمفلٹس اور کتابوں کامطالعہ کریں۔)


جاوید غامدی کا قادیانیت کے متعلق نظریہ

اُمتِ مُسلِمہ کے اس متفقہ موقف کے مقابلے میں جاوید احمد غامدی انتہائی گمراہانہ رائے رکھتے ہیں ۔ وہ قادیانیوں سمیت کسی کو بھی کافر قرار دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ 
اِس کے علاوہ جاوید غامدی یہ بھی ماننے کو تیار نہیں کہ مرزا غلام قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا چنانچہ اپنے ایک بیان میں کہتے ہیں:

’’ مرزا غلام احمد صاحب بنیادی طور پر صوفی تھے ۔مرزا صاحب نے زیادہ سے زیادہ وہی بات کہی تھی جو اِبنِ عربی نے کہی تھی ۔اُنہوں نے (یعنی مرزا غلام قادیانی نے) کبھی صریح لفظوں میں نبوت کا دعویٰ نہیں کیا‘‘

(حاشیہ: جاویدغامدی کے یہ تمام ویڈیو بیانات اُن کی ویب سائٹس پر ’’میزان لیکچرز ۳۵۔بی‘‘ اور یو ٹیوب پر بآسانی دیکھی اور سُنی جا سکتی ہیں)

ایک دوسرے پروگرام میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں :’’۱۹۸۴ء کا آرڈی نینس قادیانیوں کے خلاف ایک ظلم ہے۔‘‘ (نوٹ: واضح رہے کہ ۱۹۸۴ء کا آرڈی نینس جو ضیاء الحق مرحوم نے جاری کیا تھا،کے مطابق ’’غلا م قادیانی کی بیویوں کو ’’اُمُّ المؤ منین‘‘ اور اُس کے ساتھیوں کو ’’صحابہ‘‘ کہنے اوراپنی عبادت گاہوں کو ’’ مسجد ‘‘ کہنے سے قانونی طور پر منع کر دیا گیا۔اِس کے علاوہ قادیانیوں کو منع کیا گیا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان اور اپنے دین کو اسلام کے نام سے پکاریں۔‘‘ یہ آرڈی نینس آج بھی آئین پاکستان کا حصہ ہے )
جاوید احمدغامدی کے دعووں کے برعکس خود مرزا غلام قادیانی نے اپنی کتابوں میں کیا لکھا ہے؟ملاحظہ کیجئے:’’
(1)      ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں    (ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۱۲۷)
(2)      سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا (دافع البلاء صفحہ ۱۱،خزائن ،جلد ۱۸، صفحہ ۲۳۱)
(3)      خدا تعالیٰ نے اور اُس کے پاک رسول نے بھی مسیح موعود (مرزاقادیانی) کا نا م نبی و رسول رکھا           (نزول المسیح ص ۴۸،خزائن جلد ۱۸ ص ۴۲۶)
(4)      جو کوئی میری جماعت میں داخل ہو گیا وہ صحابہ میں داخل ہو گیا(خطبہ الہامیہ ص ۲۵۸،خزائن جلد ۱۶،صفحہ ۲۵۸)
مرزا غلام قادیانی کی مزید کفریات مجلس تحفظ ختم نبوت کی ویب سائٹس پر موجود کتب میں تفصیل سے مِل سکتی ہیں۔


غلام قادیانی  کے دیگر کُفریہ عقائد

دوسری اہم بات جس کا یہاں ذکر ذکرنا ضروری ہے وہ یہ کہ مرزا غلام قادیانی کے کفر کی وجہ صرف پیغمبری کا دعویٰ نہیں تھا بلکہ اور بھی کئی وجوہات تھیں مثلاً اللہ تعالیٰ، انبیاء کرام،صحابہ کرام اور رسالت نبوی کی شان میں سنگین گستاخیاں کیں جس کی تفصیلات اُن کی کتابوں میں اب بھی مل جاتی ہیں۔

مرزا کی اتنی گستاخیوں کے باوجود جاوید غامدی کہتے ہیں :’’ مرزا غلام قادیانی صاحب نے صریح الفاظ میں کبھی نبوت کا دعویٰ نہیں کیا‘‘اورمزید یہ کہ ’’مرزا صاحب نے کچھ زیادہ بے احتیاطی نہیں برتی تھی۔‘‘

تمام مسلمانوں اور بالخصوص جاوید غامدی کے جتنے  متعلقین ہیں اُن سے گذارش ہے کہ وہ مرزا غلام قادیانی کی کتابوں کا مطالعہ کریں اور پھر جاوید غامدی کی مذکورہ بالا آراء کو سامنے رکھیں اور سوچیں ؛

کیا غلام قادیانی کے مذکورہ عقائد دین ِ اسلام کی بنیادوں کو تباہ نہیں کررہے ؟

اورکیا جاوید غامدی کا غلام قادیانی کی حمایت میں لکھنا اور بولنا ،شعوری یا لا شعوری طور پرکسی بیرونی ایجنڈے کی تکمیل تو نہیں؟

کیا جاوید غامدی کو یہ احساس نہیں کہ اُن کی رائے کی وجہ سے ختم نبوت کے اِجماعی مسئلے کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے ؟

کیا جاوید غامدی کویہ احساس ہے کہ وہ ختم نبوت کے حساس ترین مسئلے پرجو رائے دے رہے ہیں وہ قرآنِ پاک، سنت اوراُمت ِ مسلِمہ کے تمام موجودہ اور  سابقہ مجتہدین اور فقہاء کی رائے کے خلاف ہے۔

 ذرا سوچیے۔۔۔۔۔

 

سوال نمبر 6:کسی کو کافر قرار دینے سے متعلق جاوید غامدی کی رائے کیا ہے؟

 

عالم اسلام کا متفقہ فیصلہ


پوری اُمتِ مسلمہ کا دورِ صحابہ سے اس بات پر اتفاق  چلا آرہا ہے کہ یہودی،عیسائی اور دیگر غیرمسلم "کافر"ہیں اوراسلام کا دعویٰ کرنے والا بھی کوئی شخص اگر ضروریات ِدین میں سے کسی کا انکار کرے گا تو اُسے بھی کافر قرار دیا جائے گا اور اُس کے اوپر "  کُفَّار"  کے احکامات  بھی جاری کئے جائیں  گے۔ یہی وجہ سے کہ دور ِ صحابہ میں   نبوت کے جھوٹے  دعویداروں، منکرینِ زکوٰۃ اور مرتدین کے ساتھ قتال (جہاد) سے لے کر مرزا غلام قادیانی اور اُس کے متبعین کو کافر ٹھہرانے  تک ،اُمت ِ مسلمہ نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ جو شخص بھی کفریہ عقائد اختیار کرے گا،اُسے "کافر" ہی کہا جائے گا۔


جاوید غامدی کا نظریہ


جیسا کہ پچھلی پوسٹ میں ذکر کیا گیا تھا کہ جاوید غامدی قادیانیوں  سمیت تمام کفارکے متعلق اس معاملے میں انتہائی" نرم "رائے رکھتے ہیں اور   قادیانیوں سمیت وہ کسی بھی کافر کو کافر کہلوانے کے سخت خلاف ہیں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں کہتے ہیں کہ

’’صرف خدا ہی بتا سکتا ہے کہ فلاں آدمی کافر ہو گیا ہے ،ہم کسی کے بارے میں یہ نہیں کہ سکتے ۔ یہ فیصلہ پیغمبر کرتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ خود کریں گے۔ہم صرف غیر مسلم کہ سکتے ہیں۔کسی پر کفر کا اطلاق کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔‘‘ (اقتباس از پرگرام ’’دین و دانش ‘‘ ،یوٹیوب)


صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کا  طرزِ عمل


دین کے کسی بھی حکم کو سمجھنے کی اَوَّلین اتھارٹی صحابہ کرام ہیں، کیونکہ وہ نبی کریم ﷺ کے براہِ راست  شاگرد تھے۔اور نبی کریم ﷺ کی منشاء ، چاہت  اور مُراد کو سب سے زیادہ سمجھنے والے تھے۔اسی لئے تمام اُمت کے علماء اور مجتہدین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ  نبی کریم ﷺ کے ارشادات و اعمال کی صرف وہی تشریح قابلِ اعتماد اور قابلِ عمل ہوگی جو حضور ﷺ کے صحابہ نے کی ہےاور خاص کر جن مسائل  میں تمام صحابہ نے متفقہ طور پر ایک فیصلہ کیا اور اُس پر عمل کیا تو اُن مسائل میں تو صحابہ کی رائے کے خلاف عمل کرنا شدید درجے کی گمراہی بلکہ بعض صورتوں میں تو کُفر ہے۔

لہٰذا دین سیکھنے کے لئے تو قرآن و حدیث ضروری ہیں لیکن قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے صرف  اپنی رائے اور فہم کو "درست "  اور "معیار " سمجھنا یقیناً درست نہیں بلکہ قرآن و حدیث کو سمجھنے کے لئے واحد اتھارٹی (حُجَّت) صحابہ کرام کی فہم اور سمجھ ہے، جو اُنہوں نے سمجھا اور جیسی تشریح اُنہوں نے کی ، درحقیقت اصل دین وہی ہے اور اُسی پر عمل کرنے کا حکم ہے۔

چنانچہ اِس مسئلے پر بھی صحابہ کرام کے طرزِ عمل ہی پر ذرا نظر ڈالیں؛

نبی کریم ﷺ کی وفات کے فوراً بعد جن لوگوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا اُن کو صحابہ کرام نے کافر و مُرتد سمجھ کر ہی اُن کے خلاف جہاد کیا۔حالانکہ یہ سب لو گ نماز،روزہ اور دیگر تمام اسلامی احکامات کی پابندی کرتے تھے لیکن شریعت کا صرف ایک حکم ’’زکوٰۃ‘‘ کا انکار کرنے کی وجہ سے قتال کے حقدار ٹھہرے ۔
دوسری مثال نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد ’’مُسیلمہ کذاب‘‘ نامی شخص کی ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعوٰی کیا ۔تمام صحابہ کرام نے اُس کو کافر و مُرتدسمجھتے ہوئے اُس کے خلاف جہاد کیا۔ حالانکہ "مُسَیلمَہ کَذاب" بھی مرزا قادیانی کی طرح حضور ﷺ کی نبوت پر ایمان لانے کے ساتھ اپنی نبوت کا دعوی ٰ کرتا تھا، یہاں تک کہ جب اُس کا مؤذن"حُجیر"  اذان میں "اشہد ان محمد الرسول اللہ " کہتا تو مسیلمہ بلند آواز کہتا کہ  "حُجیر" نے صاف بات کہی اور پھر اُس کی تصدیق کرتا تھا۔ (تاریخ طبری ص 244 جلد 3)۔الغرض  نبوت و قرآن پر  ایمان ،نماز روزہ سب کچھ تھا لیکن ختم ِ نبوت کے واضح عقیدے کا انکار اور نبوت کا دعویٰ  کرنے کی وجہ سے تما م صحابہ  کرام نے متفقہ طور پر "مُسَیلمہ کذاب " اور اُس کے تمام پیرو کاروں کو  کا فر سمجھا اور  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہُ کی سر براہی میں ایک عظیم الشان لشکر اُس کے خلاف جہاد کے لئے بھیجا۔صحابہ کرام میں سے تو کسی نے یہ نہ فرمایاکہ ’’ اِن لوگوں کو کافر و مُرتد نہ سمجھو ، یہ کام تو صرف اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کا تھا۔‘‘

دوسری بات یہ  کہ اگر قرآنِ پاک کی کوئی آیت یا حدیث کسی کو کافر قرار دینے سے منع کرتی تو صحابہ کرام کبھی بھی اِس کے خلاف عمل نہ کرتے۔

 

کسی کو کافر قرار دینے سے متعلق جاوید غامدی کی رائے


پچھلے ابواب  میں یہ گذارش کی گئی تھی  کہ دینی احکامات جاننے  کے لئے قرآن و سنت کے علاوہ اِجماع  تیسرا ماخذ (Source) ہے اور اجماع کی مخالفت بھی شدید درجے کی گمراہی ہے۔دورِ  صحابہ سے لے  کر آج تک کسی مجتہد یا عالم ِدین نے کسی غیر مسلم کو کافر قرار دینے کے  عمل کو غلط نہیں کہا  ہے اور یہ بھی  تما م مجتہدین اور فقہاء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ضروریات ِ دین (یعنی دین ِ اسلام کے یقینی اور قطعی عقائد و مسائل) کا انکار کرنا کُفَر ہے ۔

تمام علمائے کرام اس اُُصول پر بھی متفق ہیں کہ جس کام سے ہمارے دین میں منع نہ کیا گیا ہو وہ اصلاً مباح (جائز ) ہی ہوتی ہے لہٰذا کسی شخص یا گروہ کو اُن کے کُفریہ نظریات کی بنیاد پر ’’کافر قرار دینا ‘‘ بالکل جائز ہے۔

نبی کریم ﷺ کی احادیثِ مبارکہ سے بھی ثابت ہے کہ کُفریہ عقائد و نظریات رکھنے والے کسی شخص کو کافر قرار دینے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد پاکﷺ سے بھی واضح ہے کہ ’’ اگر کسی نے دوسرے کو کافر کہا ،تواُن میں سے ایک نے کفر کیا ۔اگر دوسرا شخص واقعی کافر ہے تو اُس کے ساتھی نے درست بات کہی اور اگر وہ ایسا نہ تھا جیسا اُس نے کہا (یعنی اگر وہ کافر نہ تھا) تو کافر کہنے والا کفر کے ساتھ لوٹا

(اِمام بخاری،الادب المفرد،اِس موضوع پر دیگر روایات صحیح بخاری،صحیح مسلم وغیرہ میں آئی ہیں)۔

اگر کسی کو کافر کہنے کی ممانعت ہوتی تومندرجہ بالا حدیث میں حضور ﷺ فرما دیتے کہ خبردار کسی کو کافر نہ کہو۔البتہ چونکہ کسی کو کافر قرار دینے کا معاملہ بہت نازک ہے لہٰذا انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے۔


کیااسلامی معاشرے میں مسلمان اور کافر کی تفریق کئے بغیر اسلامی احکامات پر عمل ممکن ہے؟


اِس بارے میں یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ شریعتِ اسلامی کے حکم کے مطابق کسی مسلمان کی جائیداد میں کسی کافر کو اور کسی کافر کی جائیداد میں کسی مسلمان کو حصہ نہیں دیا جا سکتا ۔ لہٰذا علماء و قاضی حضرات کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ فلاں شخص کافر ہو گیا ہے یا نہیں؟

دوسری مثال مرد اور عورت کے نکاح کو قائم رکھنے کی بھی دی جا سکتی ہے کیونکہ اگر کسی مرد کی بیوی یا کسی عورت کا شوہر کافر ہوجائے (مثلاً ختم نبوت کا انکار کرے وغیرہ) تو بھی نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ اِس صورت میں بھی عدالتوں اور قاضیوں کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا مذکورہ شخص یا عورت کافر ہو گیا (گئی) ہے یا نہیں؟

مَساجد میں اِمامت کے مسئلے پر بھی یہی ہوگا کیونکہ کوئی کافر تو مسلمانوں کی اِمامت نہیں کرا سکتا لہٰذا اگر تنازعہ ہو گیا تواِمام کے بارے میں فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ مسلمان ہے یا کافر؟

اِسی طرح کی کئی اور بھی صورتیں پیش آسکتی ہیں جن میں شرعی احکام پر عمل کرنے سے پہلے ایمان و کفر کا فیصلہ کرنا ضروری ہوگاکیونکہ کوئی مسلمان اس بات کو برداشت نہیں کر سکتا ہے کہ وہ کسی قادیانی ،منکرِ حدیث یا کافر کی اِمامت میں نمازیں پڑھیں یا وہ کسی کافر کو وراثت میں اپنا حصہ دار ٹہرائیں۔


کیا  دائرہ اسلام سے نکلنے( یعنی کافر ہونے کے لئے)ارادہ اورقصد ضروری ہے؟


مندرجہ بالا مسئلے سے مِلتا جُلتا  ایک دوسرا غلط نظریہ یہ بھی پھیلایا جا رہا ہے کہ’’ دائرہ اسلام سے نکلنے یعنی کافر ہونے کے لئے ’’ارادہ‘‘ اور’’ قصد‘‘ ضروری ہے۔اگر کوئی شخص خود کو مسلمان سمجھتا ہے لیکن عقائد اور نظریات کفر کے رکھتا ہے تو کسی مفتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اُسے کافر قرار دے ۔‘‘

اگر اِس نظریئے کو درست مان لیا جائے تو پھر تو شیطان (ابلیس) بھی کافر نہ ہوا۔کیونکہ ارادہ تو اُس نے بھی نہیں کیا تھا لیکن قرآن پاک نے اُس کو کافر قرار دیا ہے ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛ ’’ اور تھا وہ (ابلیس) کافروں میں سے ‘‘

اِسی طرح نبی کریم ﷺ کے بعد زکوٰۃ دینے کے منکر اور نبوت کے دعویدار مسیلمہ کذاب اور اُس کے منکرین نے بھی اسلام چھوڑنے کا اعلان نہیں کیا تھا بلکہ خود کو مسلمان کہتے اور سمجھتے تھے ،نمازیں پڑھتے تھے اور دیگر تمام شرعی احکامات پر عمل کرتے تھے لیکن تمام صحابہ کرام نے اُن کو کافرسمجھتے ہوئے اُن کے خلاف جہاد کیا۔لہٰذا اگر فقہاء اور مجتہدین کسی شخص کے عقائد و نظریات کی بنیاد پر اُسے کافر قرار دیتے ہیں تو یہ اُن کی دینی ذمہ داری ہے اور اِس بارے میں کوتاہی برتنے پر اُن سے مواخذہ ہوگا۔ 

سوال  نمبر 7:  رجم کی سزا کے متعلق جاوید غامدی کا  کیامؤقف ہے؟


اُمت ِ مسلمہ کا رَجَم کی سزا کی سزا کے بارے میں متفقہ مؤقف:
رسول اللہ ﷺ کی احادیث مبارکہ اور اُمتِ مُسلِمہ کے اجماع (اِتفاق) سے ثابت ہے کہ شادی شدہ زانی کیلئے شریعت نے رجم (سنگ ساری )کی سزا دی ہے  ( سنگ ساری سے مراد یہ ہے کہ زنا کرنے والے شادی شدہ مرد یا عورت کو پتھروں سے ہلاک کیا جائے) جبکہ غیر شادی شدہ زانی کے لئے کوڑوں کی سزا مقرر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے بہت ساری احادیث مبارکہ میں یہ حکم ارشاد فرمایا ہے کہ شادی شدہ زانی کو سنگ سار کیا جائے گا۔نو (۹) جلیل القدر صحابہ کرام کی روایات تو صحیح بخاری جلد ۲ (۱۰۰۶ تا ۱۰۱۱) میں موجود ہیں جس میں نبی کریم ﷺ رجم کرنے کا حکم ثابت کیا گیاہے۔اِس کے علاوہ پندرہ دیگر صحابہ کرام سے حدیث کی مشہور کتاب مسند احمد میں احادیث نقل کی گئی ہیں۔اس کے علاوہ بھی احادیث کی دیگر کتابوں میں کافی روایات ملتی ہیں۔

دور نبوت میں رجم کی سزا :

حضور ﷺ کے زمانے میں شادی شدہ زانیوں کونبی کریم ﷺ نے خود رجم کی سزا دی۔ اِن میں زیادہ مشہور واقعات چار ہیں؛ایک حضرت ماعزؓ ابن مالک اسلمی کا ، دوسرے بنو غامد قبیلے کی ایک عورت کا ،تیسرا ایک اعرابی کی بیوی کا (جس کے رجم کے لئے آپﷺنے حضرت انیس سلمی کو بھیجا تھا) اور چوتھے دو یہودیوں کا ۔یہ تمام واقعات صحیح بخاری میں موجود ہیں۔رجم کے یہ تمام واقعات سورہ نور کے نازل ہونے کے تقریباً دو سال بعد پیش آئے۔نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعدخلفائے راشدین کے دور میں بھی شادی شدہ زانیوں کو رجم ہی کی سزا دی گئی۔اور ابھی تک امت کے کسی بڑے عالم نے اس کی مخالفت کی گستاخی نہیں کی۔



رَ جَم کا انکار کرنے والوں کے لئے حضرت عمرؓ کا تاریخی ارشاد:

رَ جَم کا انکار کرنے والوں کے لئے حضرت عمرؓ کا یہ ارشاد قابل غور ہے جس میں وہ فرماتے ہیں:’’ مجھے ڈر ہے کہ لو گوں پر زمانہ دراز گذر جائے تو کوئی کہنے والا یہ نہ کہنے لگے کہ ہم رجم کا حکم اللہ تعالیٰ کی کتاب میں نہیں پاتے۔پھر کہیں لو اس فریضے کو چھوڑ کر گمراہ نہ ہو جائیں جو اللہ نے نازل کیا ہے۔خوب سُن لو کہ رجم کا حکم اُس شخص کے لئے حق ہے جو محصن( شادی شدہ) ہونے کی حالت میں زنا کرے جب کہ اُس پر گواہیاں قائم ہو جائیں یا حمل ثابت ہو جائے یا ملزم خود اعتراف کر لے۔ (صحیح بخاری،جلد ۲ ،۱۰۰۷ اصح المطابع دہلی ۱۳۵۷ھ)

 

جاوید غامدی کا رَجَم کے بارے میں مؤقف

لیکن جاوید غامدی نے اس متفقہ مسئلہ کا بھی انکار کرتے ہوئے لکھا ہے:’’ کنوارے زانیوں کی طرح شادی شدہ زانیوں کی سزا بھی قرآن مجید کی رُو سے ضربِ تازیانہ (کوڑے) ہی ہے ۔‘‘(برہان:صفحہ ۹۲) اور ساتھ ہی یہ وضاحت کرتے ہیں کہ اگر شادی شدہ زانی ’’غنڈہ گرد‘‘ ،’’آوارہ‘‘ اور’’ بد معاش‘‘ ہوگاہوا تبھی اُس کو رجم کیا جائے گا ورنہ زانی کو صرف شادی شدہ ہونے کی وجہ سے رجم کی سزا نہیں دی جائیگی۔(برہان:صفحہ ۹۱)دوسرے الفاظ میں ا گر شادی شدہ زانی ’’شرافت‘‘ سے زنا کرلے اور’’ غنڈہ گرد ‘‘اور’’ آوارہ‘‘ اور’’ بدمعاش‘‘ نہ ہو تواُس کو رجم کی سزا نہیں دی جائیگی۔

سوال نمبر8: کیاجاوید غامدی موسیقی کو حرام نہیں سمجھتے؟

اُمت ِ مسلمہ کا موسیقی کے بارے میں متفقہ مؤقف:

قرآنِ پاک کی آیاتِ مبارکہ،احادیثِ نبوی ؐ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے کہ آلاتِ موسیقی کا استعمال اور گانے گانا اور سُننا،حرام، ناجائز اور گناہ ہے۔دورِ حاضر میں اِس سلسلے میں بھی بہت غفلت بھرتی جا رہی ہے۔نبی کریم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں:’’ اِس اُمت میں بھی زمین میں دھنسنے ،صورتیں مسخ(تبدیل) ہونے اور پتھروں کی بارش کے واقعات ہونگے،مسلمانوں میں سے ایک شخص نے پوچھا:یا رسول اللہ ! ایسا کب ہوگا؟ آپ ؐ نے فرمایا : جب گانے والی عورتوں اور باجوں کا عام رواج ہو جائے گا اور کثرت سے شرابیں پی جائیں گی۔‘‘ (ترمذی)۔ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا :’’’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے شراب،جوا،طبل(ڈھول) اور طنبور (بانسری) کو حرام کیا ہے ،نیز ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘ ( ابو داوٗد) اور یہ کہ ’’ عنقریب میری اُمت میں ایسے لوگ پیدا ہونگے جو زنا،ریشم،شراب اور باجوں کو حلال سمجھیں گے۔‘‘ ( بخاری) (حاشیہ :مزید تفصیلات کے لئے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع ؒ کی کتاب ’’ اسلام اور موسیقی‘‘ملاحظہ کیجئے۔)

  اِس کے برعکس جاوید غامدی کا نظریہ ملاحظہ فرمائیے ’’ موسیقی انسانی فطرت کا جائز اظہار ہے، اس لئے اس کے مباح (جائز)ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے، مگر بالعموم یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اسلامی شریعت اسے حرام قرار دیتی ہے۔ہمارے نزدیک اِس تصور(یعنی موسیقی کے حرام ہونے کے مسئلہ) کے لئے شریعت میں کوئی بنیاد موجود نہیں۔‘‘ِ ِ
(اسلام اور موسیقی ،جاوید احمد غامدی کے افادات پر مبنی مضمون،ماہنامہ اشراق شمارہ مارچ ۲۰۰۴)

جاوید غامدی کا حضرت عیسیٰ ؑ اور دجال کے بارے میں کیا نظریہ ہے؟

 

اُمتِ مسلمہ کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں عقیدہ:

قرآن پاک کی آیاتِ مبارکہ ،صحیح احادیث نبوی ﷺ اور امت کے اِجماع سے ثابت ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتے اُن کو اُٹھا کر زندہ سلامت آسمان پر لے گئے اور قیامت سے قبل جب ’’دَ جَّال ‘‘ کا ظہور ہو گا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ نازل ہوکر دَجال کو قتل کریں گے۔کچھ عرصہ بعد آپ کی وفات ہو جائیگی اور مسلمان آپ کی نمازِ جنازہ پڑھ کر آپ کو حضور ﷺ کی قبر مبارک کے قریب روضہ اقدس میں دفن کر دینگے۔قیامت سے پہلے پیش آنے والے یہ تمام حالات آیاتِ قرآنی اور صحیح و متواتر احادیث میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔ جن احادیث میں یہ تمام تفصیلات بیان کی گئی ہیں اُن کی تعداد ایک سو سے زیادہ ہے جو تیس سے زیادہ صحابہ سے نقل کی گئی ہیں۔یہ تمام احادیث بخاری، مسلم،ابوداود،ابن ماجہ اور مسند احمد میں موجود ہیں۔بطور مثال صرف دو احادیث نیچے درج کی جارہی ہیں؛

حدیث نمبر ۱:

رسول اللہ ﷺنے فرمایا قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے ۔وہ وقت ضرور آئے گا جب تم میں (اے اُمتِ محمدیہ) ابنِ مریم (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہو کر صلیب توڑیں گے،خنزیر کو قتل کریں گے، جنگ کا خاتمہ کر دیں گے اور مال و دولت کی ایسی فراوانی ہوگی کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا اور(لوگ ایسے دین دار ہو جائیں گے کہ اُن کے نزدیک ) ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہوگا۔‘‘

پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر تم (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کی دلیل قرآنِ پاک میں دیکھنا) چاہو تو یہ آیت پڑھ لو ؛

ترجمہ: یعنی ( اس زمانہ کے )تمام اہلِ کتاب عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق اُن کی موت سے پہلے کر دیں گے ( کہ بیشک آپ زندہ ہیں ،مَرے نہ تھے اور آپ نہ خدا ہیں نہ خدا کے بیٹے بلکہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں ) اور عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے دن اُن اہلِ کتاب کے خلاف گواہی دیں گے ( جنہوں نے اُن کو خدا کا بیٹا کہا تھا یعنی نصاریٰ اور جنہوں نے اُن کی تکذیب کی تھی یعنی یہود)اور صحیح مسلم کی روایت میں اتنا اور زیادہ ہے کہ (حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانے میں) لوگوں میں باہمی عداوت اور کینہ و حسد ختم ہو جائے گا۔(بخاری، مسلم، ابوداود،ابن ماجہ، مسند احمد)

تشریح:

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کا حوالہ اس لئے دیا کہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ابھی موت نہیں آئی بلکہ آئندہ زمانے میں آنے والی ہے اور ظاہر ہے کہ موت دنیا میں نازل ہونے کے بعد ہی آئے گی جیسا کہ احادیث سے بالکل واضح ہے۔

حدیث نمبر ۲:

حضرت جابر رضی اللہ عنہُ فراتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ میری اُمت میں ایک جماعت (قرب) قیامت تک حق کے لئے سر بلندی کے ساتھ بر سَرِ پیکار رہے گی۔۔ فرمایا پس عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہونگے تو اُس جماعت کا امیر اُن سے کہے گا کہ ’’ آئیے نماز پڑھائیے ‘‘ آپ فرمائیں گے نہیں اللہ نے اس اُمت کو یہ اعزاز بخشا ہے اس تم (ہی) میں سے بعض بعض کے امیر ہیں۔(مسلم و احمد)

دیگر احادیث میں اِس کی وضاحت آئی ہے کہ جماعت کے امیر حضرت اِمام مہدی ہونگے۔

 

چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ میں تما م علمائے کرام کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ نازل ہونے کے عقیدے پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کا انکار کفر ہے اور اس عقیدے کی تاویل کرنا گمراہی اور الحاد ہے۔(مقدمہ عقیدۃالاسلام صفحہ ۳۳، بحوالہ فتاویٰ محمودیہ جلد ۳ ،صفحہ ۲۵۰)

(مزید تفصیلات کے خواہشمند حضرات حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کی کتاب ’’علامات قیامت اور نزول مسیح‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔)

 

کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں؟

قرآنِ پاک میں واضح طور پر یہ بات کہی گئی ہے کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اُن کو زندہ اپنی طرف اُٹھا لیا تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :’’ نہ اُنہوں نے عیسیٰ کو قتل کیا تھا نہ اُن کو سُولی (پھانسی ) دے پائے تھے بلکہ اُنہیں اشتباہ ( شُبہ) ہوگیا تھا ۔۔۔۔اور یہ بات بالکل یقینی ہے کہ وہ عیسیٰ کو قتل نہیں کر پائے بلکہ اللہ نے اُنہیں اپنے پاس اُٹھا لیا تھا۔۔( سورۃالنساء 156,157)

البتہ بعض لوگ( جِن میں قادیانی ، منکرین حدیث اور جاوید غامدی جیسے لوگ شامل ہیں ) قران پاک کی سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۵۵ کے ایک لفظ ’’ متفویک‘‘کو بنیاد بنا کریہ گمراہ کُن دعویٰ کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام (نعوذُ باللہ) وفات پا چُکے ہیں ۔ حالانکہ لفظ ’’ توفیٰ‘‘ کا مطلب ہر جگہ ’’موت ‘‘ کرنا درست نہیں۔ لفظ ’’ توفی‘‘ کا اصل معنی ٰ ہے ’’ کسی چیز کا پورا پورا لے لینا‘‘ ہے اور موت اِس کا مجازی معنی ہے حقیقی نہیں۔

پورے قرآنِ پاک کا مطالعہ کیجئے ،جگہ جگہ موت اور حیات کو ایک دوسرے کے مقابلے میں استعمال کیا گیا ہے لیکن کہیں پر بھی لفظ’’ توفی‘‘ کو ’’ حیات‘‘ کا مقابل نہیں ٹھہرایا گیا۔

قرآن پاک ہی میں دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ؛ ’و ھوالذی یتوفاکم باللیل ( الانعام:۶۰ ، پارہ ۷) ’’اور اللہ وہ ذات ہے جو رات کے وقت تمہاری روح قبض کر لیتا ہے‘‘ ۔ اِس آیت میں لفظ ’’توفی‘‘ موت کے بجائے نیند کے موقع پر استعمال کیا گیا ہے اگر توفی سے مُراد صرف موت ہی ہوتی تو یہاں اس کو استعمال نہ کیاجاتا۔

ایک اور آیت ہے کہ ’’ حتیٰ یتوفاھن الموت (النسا ء: ۱۵، پ ۴)یعنی ’’یہاں تک کہ اُنہیں موت اُٹھا کر لے جائے‘‘۔ اِس آیت میں بھی اگر توفی کا معنی بھی موت تھا تو آگے لفظ ’’موت ‘‘ لانے کی کیا ضرورت تھی؟

قرآنِ پاک کی تفسیر کے علماء اس بات سے باخبر ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں دوسرے انبیاء کی موت کا ذکر کیا گیا ہے وہاں موت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اور لفظ ’’ توفی‘‘ سے موت کے معنی صرف اُس وقت لئے گئے ہیں جہاں موت کے ساتھ متعلقہ دیگر لوازمات کا ذکر بھی کیا گیا ہو۔

لہٰذاکسی ایسے لفظ ( جس کے ایک سے زیادہ معنی ممکن ہیں) کی بنیاد پر اُمت مسلمہ کے متفقہ عقیدے کو رَد کرنا یقیناً زیادتی ہے۔

 

جاوید غامدی کاحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کے بارے میں نظریہ

اُمت کے اس متفقہ بنیادی عقیدہ کے برعکس جاوید احمد غامدی کا نظریہ یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام وفات پا چکے ہیں(نعوذ باللہ) اور فرشتے اُن کی روح قبض کرکے لے جا چکے ہیں اور قیامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ واپسی کا عقیدہ درست نہیں۔(ماہنامہ اشراق ۱۹۹۵ صفحہ ۴۵،۲۳،جولائی ۱۹۹۶، میزان صفحہ ۱۷۸،طبع مئی ۲۰۱۴)۔

قادیانی حضرات کا تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ رکھنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اُن کے پیشوا مرزا غلام قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مُردہ قرار دے کر اپنے آپ کو ’’ مسیح موعود‘‘ قرار دیا۔ منکرین حدیث ،چونکہ احادیث ہی کا انکار کرنے والے ہیں لہٰذا وہ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا عقیدہ رکھتے ہیں ۔ نہ جانے جاوید غامدی کیوں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور نزول کا انکار کرکے قادیانیوں اور منکرین حدیث کی صف میں شامل ہونے پر بضد ہیں؟

 

جاوید غامدی کا حضرت اِما م مہدی اور دَجال کی آمدکے بارے میں  کیانظریہ ہے؟

اُمّتِ مسلمہ کا امام مہدی اور دجال کے بارے میں عقیدہ

اَحادیث میں قیامت کی جن نشانیوں کا ذکر کیا گیا ہے اُن میں ایک حضرت امام مہدی (علیہ السلام) کا ظاہر ہونا بھی ہے جو دَجَّال کے خلاف جہاد کریں گے ۔اُ ن کے لشکر کے امیر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہونگے۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’مہدی میرے خاندان سے ہوگا یعنی اولاد فاطمہ سے (ابوداود جلد ۲، صفحہ ۱۳۱،ابن ماجہ صفحہ ۳۰۰ باب خروج المہدی)

اِمام مہدی کے بارے میں صحیح بخاری ، مسلم شریف ، ابن ماجہ اور دیگر کئی کتب میں احادیث میں تفصیلات ذکر کی گئی ہیں۔مزید تفصیلات کے لئے حضرت مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب کی کتاب ’’علاماتِ قیامت اور نزول مسیح کا مطالعہ فرمایئے۔

جاوید غامدی کا نظریہ

دوسری جانب جاویدغامدی اِن تمام احادیث کا انکار کرکے لکھتے ہیں :’’ مہدی محض ایک افسانہ ہے۔‘‘(ماہنامہ اشراق اکتوبر ۲۰۰۹، میزان صفحہ ۱۷۸،طبع مئی ۲۰۱۴ء)

داڑھی کے متعلق جاوید غامدی کا نقطہ نظر کیا ہے؟

اسلام میں داڑھی کا مقام:

احادیثِ مبارکہ کے الفاظ،آپ ؐکے ذاتی افعالِ مبارکہ ،صحابہ کر امؓ کی سیر ت اور امت کے اِجماع سے ثابت ہوتا ہے کہ کم از کم ایک مُشت داڑھی رکھنا ضروری (واجب) ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشادِ مبارک ہے:’’ مُشرکوں کی مخالفت کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ ،مو نچھیں کٹاؤ ۔‘‘ (بخاری شریف)ایک دوسری جگہ ارشادِ مبارک ہے:’’مونچھیں کٹواؤ، داڑھیاں بڑھاؤ اور مجوسیوں کی مخالفت کرو۔‘‘(مسلم شریف)۔

 اِسی وجہ سے اہل السنت والجماعت کے چاروں اِماموں اور دیگر تمام فقہاء و مجتہدین اِس بات پر متفق ہیں کہ دائیں،بائیں اور ٹھوڑی (تینوں جانب )سے کم از کم ایک مُشت داڑھی رکھنا ’’واجب‘‘ اور ضروری ہے اور ایک مشت سے کم داڑھی رکھنا حرام ، ناجائز اور سخت گناہ ہے اور اِس کو گناہ نہ سمجھنا، بذاتِ خودسخت گناہ ہے۔ لہٰذا داڑھی کو سنت لکھنے اور کہنے سے عوام الناس کو اِس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کہ یہ ’’واجب‘‘ نہیں ہے۔

(مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ کیجئے: ’’داڑھی کا وُجوب‘‘ از حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلویؒ ، ’’ڈاڑھی منڈانا گناہِ کبیرہ ہے اور اُس کا مذ اق اُڑانا کفر ہے‘‘ مرتب: محمد اقبال قریشی صاحب اور’’ اختلافِ اُمت اور صراطِ مستقیم ‘‘ از مولانا یوسف لدھیانوی ؒ )

اس متفقہ رائے کے برعکس جاوید احمدغامدی کا گمراہانہ مؤقف ملاحظہ کیجئے، لکھتے ہیں؛ ’’داڑھی رکھنا دین کا کوئی حکم نہیں لہٰذا کوئی شخص اگر داڑھی نہیں رکھتا تو ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ کسی فرض و واجب کا تارک ہے یا اُس نے کسی حرام یا ممنوع فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ (مقامات صفحہ 154)

جاوید غامدی  ، مُرتَد کی سزا کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟

مُرتد کی سزا کے بارے میں اُمت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ:

اسلام میں مرتد کی سزا قتل ہے،جو صحیح احادیث ، صحابہ کرام کے عمل اور امت کےِ اجماع (متفقہ فیصلے) سے ثابت ہے۔ بہت ساری احادیث اس سلسلے میں موجود ہیں البتہ بطور مثال یہاں چند احادیث کو ذکر کیا جارہا ہے؛

1۔نبی کریمﷺ کی حدیث مبارکہ ہے ’’ جو مسلمان اپنا دین بدل دے اُسے قتل کر دو۔‘‘ (صحیح بخاری رقم ۶۹۲۲)۔

2-حضو ر ﷺ نے فرمایاکہ مسلمان کا قتل ہر گز حلال نہیں مگر تین شخصوں کو قتل کیا جائے گا:جان کے بدلے جان لی جائے ، اور شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرنے والا اوروہ شخص ہے جو اپنا دین چھوڑ کر (مسلمانوں کی) جماعت سے الگ ہو جائے۔(صحیح بخاری رقم ۲۸۷۸)

صحابہ کرام نے بھی مُرتدین کو ہمیشہ قتل ہی کی سزا دی۔ مثلاً

۱: حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ، حضور ﷺ کی طرف سے یمن کے حکمران تھے،ایک مرتبہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ یمن پہنچے تودیکھا کہ اُن کے پاس ایک مرتد قید کرکے لایا گیا ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :

میں اُس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک کہ اُس کو قتل نہ کیا جائے یہی ہے اللہ اور رسول کا حکم،تین مرتبہ یہی کہا ، چنانچہ اُس کا قتل کیا گیا ( بخاری، مسلم، نسائی وغیرہ)

۲:حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایسی ہی (مرتدین کی )ایک جماعت کے متعلق حکم فرمایا : ان کو جہاں پاﷺ قتل کر ڈالو،اس لئے کہاُن کے قتل کرنے میں ثواب ہے(بخاری و مسلم)

۳۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تو مرتدین کے خلاف جہاد تو سب کے علم میں ہے۔

۴۔ نبوت کے جھوٹے دعوے دار مُسَیلمَہ کذَّاب کے پیروں کاروں کو بھی صحابہ کرام نے متفقہ طور پر مُرتد قرار دے کر اُن کے خلاف جہاد کیا۔

۵۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ مرتدہونے والوں کو تین مرتبہ توبہ کرنے کے لئے فرماتے اگر قبول نہ کرتا تو قتل کر دیتے تھے۔ (کنز العمال ج۱)،اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی مرتدین کو قتل کیا (بخاری)

اس طرح کی اور بہت ساری احادیث سے ثابت ہو تا ہے کہ اسلامی شریعت میں مرتد کی سزا قتل ہے۔چاروں خلفائے راشدین نے بھی اپنے اپنے دور خلافت میں مرتدین کو ہمیشہ قتل کی سزا دی۔ تمام فقہا ء اور مجتہدین بھی اس بات پر متفق تھے کہ دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرے دین کو قبول کرنے والے (مرتد )کی سزا قتل ہے۔

(اس موضوع پرمزید تفصیلات کے خواہشمند حضرات سے گزارش ہے کہ مفتی محمد شفیع ؒ کی کتاب ’’ جواہر الفقہ‘‘ جلد ۶ کا مطالعہ فرمائیں)

 

جاوید غامدی کا نظریہ:

اسلام کے اس اجماعی (متفقہ) نظرئیے کے مقابلے میں جاوید غامدی کہتے ہیں کہ

’’ ہمارے نزدیک یہ (یعنی مُرتد کو قتل کرنے کی سزا) کوئی حکم عام نہ تھا بلکہ صرف اُنہی لوگوں کے ساتھ خاص تھا جن پر آپ (ﷺ) نے براہِ راست اِتمام حجت کیا اور جن کے لئے قرآن مجید میں مشرکین کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔۔۔۔(برہان صفحہ ۱۴۰،جون ۲۰۰۶)‘‘

یعنی یہ حکم صرف نبی کریم ﷺکی زندگی میں اُن کے مخاطبین تک ہی محدود تھا اور حضور ﷺ کی وفات کے بعداگر کوئی اسلام چھوڑ کر کوئی دوسرا دین قبول کر لے تو اُس کو قتل کی سزا دینا درست نہیں۔۔۔ غامدی صاحب کی اس تشریح کے مطابق تو صحابہ کرام کو بھی حضور ﷺ کے ارشادات کی سمجھ نہیں آئی تھی جنہوں نے حضور ﷺ کی وفات کے بعد بھی مُرتدین کو قتل کیا۔۔کیا اس سوچ سے بڑی گمراہی کوئی ہو سکتی ہے، کہ صحابہ کرام،تابعین اور مجتہدین کوتو ارشاداتِ نبوی ﷺ کی سمجھ نہ آئی اور چودہ سو سال بعد ایک شخص کو اُس کی سمجھ آگئی ہے ؟؟؟


توہین رسالت ﷺ کی سزا کے بارے میں جاوید غامدی کاکیانقطہ نظر ہے؟

تمام اہلِ اسلام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جو شخص (چاہے وہ مسلمان ہو یا کافر)نبی کریم ﷺ کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرتا ہے، یا اُن کا مذاق اُڑاتا ہے یا اُن کی توہین و تنقیص کرتا ہے تو ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہے ۔ اگر ایسا کرنے والا شخص پہلے مسلمان تھا تو اس حرکت کے بعد وہ آدمی دائرہ اسلام سے نکل جاتا ہے اور کافر و مرتد ہو جاتا ہے۔

 قرآنِ پاک کی آیات ، نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے فیصلے اور تمام فقہاء و مجتہدین کے فتوے اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ دورِ نبوی ﷺ سے لے کر آج تک گستاخ رسول ﷺ کے قتل کے بارے میں کبھی کوئی قابل ذکر اختلاف نہیں پایا گیا۔مفسرین کے مطابق قرآن پاک کی سور توبہ کی آیت نمبر ۱۱،۱۲، ۱۳ اور سورہ احزاب کی آیت نمبر ۵۷ سے گستاخ رسول کی سزا کاقتل ہونا ثابت ہوتا ہے ۔خود نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے دور میں کئی واقعات پیش آئے جس میں گستاخوں کو قتل کیا گیا۔ مختصراً چند واقعات کو نیچے درج کیا جارہا ہے ؛

واقعہ نمبر۱:

حضور ﷺ نے مشہور اسلام دشمن ’’کعب بن اشرف‘‘ کو قتل کرنے کی باقاعدہ ترغیب دی اور فرمایا کہ کون ہے جو کعب بن اشرف ( کا کام تمام کر دے؟) کیونکہ اُس نے اللہ اور اُس کے رسول کو اذیت دی ہے۔پھر جب محمد بن مسلمہ نے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ پسند فرماتے ہیں کہ میں اُسے قتل کردوں؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں‘‘

پھر اُن صحابی نے کعب بن اشرف کو ساتھیوں سمیت قتل کر دیا اور واپس آکر نبی کریم ﷺ کو اس کی خبر دی۔ ( بخاری حدیث ۴۰۳۷، مسلم ۱۱۹،ابوداود ۲۷۶۸)

محدثین فرماتے ہیں کہ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کی وجوہات میں ایک وجہ وہ گستاخانہ اشعار تھے جو اُس نے مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کے متعلق لکھے تھے ۔

 

واقعہ نمبر ۲:

 ابو رافع یہودی بھی نبی کریم ﷺ کو تکلیف دیا کرتا تھا اور آپ کے مخالفین کی مدد کرتا تو حضور ﷺ نے اُسے قتل کرنے کے لئے بھی چند انصار کو بھیجا اور اُن کا سردار عبداللہ بن عتیک رضی اللہ کو بنایا۔جنہوں نے رات کے اندھیرے میں جاکر اُس کو قتل کر دیا۔(بخاری،کتاب المغازی حدیث ۴۰۳۹)

مندرجہ بالا دونوں واقعات میں نبی کریم ﷺ نے براہِ راست خود قتل کرنے کا حکم دیا جبکہ دیگر واقعات میں صحابہ کرام نے گستاخانِ رسول ﷺ کو خود قتل کیا،پھر حضور ﷺ کو اطلاع دی اور حضور ﷺ نے اُن کے قتل کو درست قرار دے کر مقتولوں کا قصاص نہیں لیا ۔

واقعہ نمبر ۳:

ایک نابینا صحابی کی اُمِ وَلَد(لونڈی) تھی جو نبی کریم ﷺ کی شان میں بیہودہ حکایات کہا کرتی اور گستاخی کیا کرتی۔وہ نابینا صحابی منع کرتا وہ باز نہ آتی۔ایک شب اسی طرح اُس نے بَکنا شروع کیا ، نابینا نے ایک چھرا لے کر اُس کے پیٹ پر رکھ کر بوجھ دے دیدیا اور اُس کو ہلاک کر ڈالا۔صبح کو اس کی تحقیقات ہوئیں ، اُس نابینا نے حضور ﷺ کے سامنے اقرا رکیا اور تمام قصہ بیان کیا، آپ ﷺ نے فرمایا گواہ رہو اس کا خوان رائیگاں ہے یعنی قصاص وغیرہ نہ لیا جائے ( ابوداود کتاب الحدود،۳۸۱۶)

واقعہ نمبر ۴:

 ایک عورت نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی۔نبی کریم ﷺ نے ایک بار صحابہ کرام کی مجلس میں کہا: کون ہے جو مجھے اس عورت کے شر سے نجات دے۔یہ س کر حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے تلوار اُٹھائی اور جاکر اُس عورت کو قتل کر دیا( مصنف عبدالرزاق روایت نمبر ۹۷۰۵)

 

واقعہ نمبر ۵:

عبداللہ بن اخطل نامی ایک شخص بھی حضور ﷺ کے متعلق گستاخانہ اشعار کہتا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے اُس مباح الدم (یعنی اس کا خون جائز) قرار دے دیا تھا۔ فتح مکہ کے دن غلافِ کعبہ سے جا کر لپٹ گیا۔ حضرت ابو بزرہ رضی اللہ عنہ نے اُسے غلاف کعبہ کے پیچھے سے کھینچ کر نکالا اور اُس کی گردن مقام ابراہیم اور حجر اسود کے درنیان اُڑا دی گئی۔( صحیح ابن خزیمہ ،کتاب المناسک)

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حکم دیا تھا کہ جو کوئی انسان نبی کریم ﷺ پر جھوٹ بولے اُسے قتل کر دیا جائے (مصنف عبدالرزاق ۹۷۰۸)

مندرجہ بالا واقعات کے علاوہ احادیث کی کتابوں میں کئی اور واقعات موجود ہیں جس میں نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو صحابہ کرام نے قتل کیا ۔

 مزید تفصیل کے خواہشمند حضرات سے گزارش ہے کہ وہ اس موضوع پر مندرجہ ذیل کتب کا ملاحظہ فرمائیں:

۱: ’’توہینِ رسالت ﷺ اور اس کی سزا ‘‘ از مفتی جمیل احمد تھانوی

۲:’’ شاتمِ رسول ﷺ کی شرعی سزا‘‘ از حضرت مولانا محمد اشرف سلیمانی ؒ

۳۔ ناموسِ رسالت اور قانونِ توہین رسالت ‘‘ از محمد اسما عیل قریشی ( سینیئر ایڈوکیٹ سپریم کورٹ)

 

توہین رسالت کے متعلق جاوید غامدی کا موقف

جاوید غامدی لکھتے ہیں:

’’ توہین رسالت کی سزا کا قانون جو ریاست پاکستان میں نافذ ہے، یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے۔۔۔۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں جن لوگوں کو قتل کیا گیا تھا اُس کا سبب توہین رسالت نہیں تھا بلکہ دیگر وجوہات فساد فی الارض و ارتداد وغیرہ تھا۔۔۔(ماہنامہ اشراق مارچ تا مئی ۲۰۱۱ء)

آیات قرآنی ، احادیثِ نبوی ﷺ ، فعل صحابہ اور مجتہدین کا اِجماع دیکھئے اور جاوید غامدی کا نظریہ دیکھئے۔۔۔کیا کسی ایک صحابی یا تابعی یا مجتہد کو اس بات کی سمجھ نہیں آئی کہ جن درجنوں لوگوں کو دورِ نبوی ﷺ، دورِ صحابہ اور بعد میں حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے جرم میں قتل کیا گیا تھا وہ تو اصل میں اُن کا جرم تھا ہی نہیں اُن کا اصل جرم تو کچھ اور تھا جو نہ صحابہ کو معلوم ہو سکا اور نہ اُن کے بعد آنے والے کسی مسلمان کو۔ کیا جاوید غامدی صاحب کے اس نظریئے کو منطقی (لاجیکل)لحاظ سے درست  کہا جا سکتا ہے؟

تصوف کے متعلق جاوید غامدی کا موقف کیا ہے؟

تصوف یا تزکیہ دین اسلام کا اہم ترین شعبہ ہے جس میں انسان کے ظاہری اور باطنی اعمال کی اصلاح ہوتی ہے ۔دوسرے الفاظ میں ہم یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ

’’ تمام ظاہری اور باطنی (پوشیدہ) گناہ چھوڑ کرصرف اﷲ تعالیٰ کو راضی کرنے کی نیت سے پورے دین پر عمل کرنا ہی تصوف ہے۔‘‘

قرآن پاک میں نبی کریمﷺ کی جن چار عظیم الشان ذمہ داریوں کا ذکر ہے اُن میں ایک تزکیہ بھی ہے۔ ( ٰال عمران:۱۶۴) اور قرآنِ پاک نے کامیابی کا دارومدارانسانی نفس کے تزکیہ کو ہی قرار دیا ہے(الاعلیٰ:۱۴)۔گویا تصوف و سلوک، پیری مریدی اور طریقت کو قرآن میں ’’تزکیہ‘‘ اوراحادیثِ مبارکہ میں ’’اِحسان‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔(بخاری ۵۰، مسلم ۵ ،ابوداود۴۶۹۵،ترمذی ۲۶۱۰)

ایک غلط فہمی کا ازالہ:

یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مندرجہ بالا پیرگراف میں جس تصوف کی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے اُس سے مراد وہ تصوف ہے جو قرآن و سنت کے عین مطابق ہواور بدعات و شرکیات سے پاک ہو۔ ہمارے آج کل کے معاشرے میں بدقسمتی سے جس چیز کو ’’تصوف‘‘ بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہ تصوف بالکل نہیں۔ پیروں،فقیروں اور مزاروں کو سجدے کرنا اور اُن سے حاجات مانگنا تصوف نہیں بلکہ کفر و شرک ہے۔اسی طرح ماں باپ ، رشتہ داروں اور معاشرے کے دیگر طبقوں کے حقوق ادا نہ کرنا اورسب کچھ چھوڑ کر ایک گوشے میں بیٹھ جانا، آلاتِ موسیقی کے ساتھ رقص کرنا،اپنے پیر کو مشکل کُشااور حاجت روا سمجھ کر تکلیف و مصیبت میں اللہ تعالیٰ کو پُکارنے کے بجائے اپنے پیر کو پکارنا ۔۔یہ سب تصوف نہیں بلکہ عظیم گمراہی ہے۔

 

تصوف کیا ہے؟

تصوف تو صرف اپنے ظاہری اور باطنی اعمال کی اصلاح کا نام ہے، تاکہ اللہ کی رضا حاصل ہو سکے۔اصل صوفی وہی ہوگا جس کے تمام عقائد درست ہو جائیں، تمام عبادات پر عمل ہونے لگے، تمام ظاہری گناہ (مثلاً زنا،جھوٹ، غیبت، تہمت،رشوت،بدنظری وغیرہ) اور باطنی گناہ (مثلاً ریا، لالچ، حرص، تکبر، دنیا کی محبت ، حسد، کینہ، بغض وغیرہ) چھوٹ جائیں،تمام اچھی باطنی صفات مثلاً اخلاص،عاجزی، اللہ کی محبت،اللہ کا خوف، وغیرہ ،اُس کے دل میں پیدا ہو جائیں اور معاشرت ،معاملات اور عبادات میں تمام فرائض، واجبات ، سنتوں اور آداب پر عمل کرنے لگے اوراپنی استطاعت کے مطابق ،اخلاص کے ساتھ دین کی سربلندی اور نفاذ کے لئے محنت اور کوشش کرے۔

یہ سب کچھ حاصل کرنے کے لئے اللہ کے کسی ایسے نیک بندے کی رہنمائی، صحبت اور دُعاحاصل کی جاتی ہے جس میں یہ تمام صفات پائی جاتی ہوں۔

عالم اسلام کی بڑی بڑی علمی شخصیات مثلاًاِمام غزالی ؒ ،شاہ عبدالقادر جیلانی ؒ ،حضرت مجدد الف ثانی ؒ ، حضرت شاہ ولی اللہ ، ؒ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ وغیرہ نے دین کے اِس اہم شعبے کے ذریعے دینی انقلاب برپا کیااورآج بھی مشائخِ کرام کی ایک بہت بڑی تعداد دین کے اس اہم حکم کو پورا کرکے لوگوں کے عقائد،عبادات،معاملات ،معاشرت اور اخلاقیات کی اصلاح کرنے کی عظیم خدمت سر انجام دے رہی ہے۔

 

تصوف کے بارے میں جاوید غامدی کی رائے

تصوف کی مندرجہ بالا مختصر وضاحت کو سامنے رکھئے اور دین کے اس اہم شعبے کے بارے میں جاوید احمد غامدی کا نقطہ نظر پڑھئے ،فرماتے ہیں:

اللہ کی ہدایت یعنی اسلام کے مقابلے میں تصو ف وہ عالمگیر ضلالت (گمراہی)ہے جس نے دُنیا کے ذہین ترین لوگوں کو متاثر کیا ہے ۔(برہان۔صفحہ۱۵۶)

گویا تصوف کو دین اسلام کے متوازی دوسرا دین قرار دیا اور یوں صوفیائے کرام کو دین اسلام سے ہی خارج کر دیا۔ حالانکہ جاوید غامدی صاحب خود کسی کو دین اسلام سے خارج کرنے یا کافر قرار دینے کے سخت مخالف ہیں لیکن نہ جانے کیوں صوفیائے کرام کے معاملے میں وہ اتنے جذباتی ہو جاتے ہیں کہ اُن کی تعلیمات کو غیر اسلامی قراردیتے ہیں۔

جاوید غامدی کی ایک کمزور دلیل

جاوید غامدی نے تصوف سے متعلق اپنے مضامین میں صوفیائے کرام کی بعض کتابوں کے حوالے دے کر یہ ثا بت کرنے کی کوشش کی ہے کہ توحید، رسالت ،آخرت اور مکمل دین اسلام کے بارے میں صوفیائے کرام کے جو نظریات ہیں وہ دین اسلام کے بالکل متوازی ہیں ، حالانکہ اُن کا یہ تجزیہ مکمل طور پرغلط اور بے انصافی پر مبنی ہے۔

کیونکہ؛

۱:صوفیائے کرام کے تمام بزرگوں کی کتابیں اُٹھا کر دیکھ لیں وہ صرف قرآن و سنت کی دعوت دیتے ہیں ، راہِ صحابہ پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں، ایمان و تقویٰ کے اعلیٰ ترین درجات حاصل کرنے کے طریقے بتاتے ہیں اور اُن کی ترغیب دیتے ہیں۔

البتہ اگر کسی جگہ پر اُن کی تحریروں یا تقریروں میں بظاہر کوئی بات قرآن و سنت کے خلاف نظر آئے تو خود اُن پر بدگمان ہونے کے بجائے محقق علماء اور صوفیا سے رجوع کرنا چاہیئے اور چند عبارات کی بنیاد پر دین اسلام کے اُن بزرگوں پر گمراہی کے فتوے نہیں لگانے چاہیئیں۔ہاں !اگر کسی برائے نام صوفی کی ساری زندگی کتاب و سنت کے خلاف گذرتی ہو اور اُس کی تحریر یا تقریر ساری باتیں ہی کتاب و سنت کے خلاف باتیں نظر آئیں تو اُن کی تاویل بالکل نہیں کرنی چاہیئے اور محقق صوفیا اور علماء کو چاہیئے کہ مناسب طریقے سے اُس کی تردید کریں۔

۲۔جاوید غامدی نے جن صوفیائے کرام کی عبارتوں کو پیش کیا ہے، اُن کے بارے میں صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ اصل مسئلہ صوفیا ئے کرام کے مضامین میں نہیں بلکہ جاوید غامدی کی فہم اور سمجھ میں ہے۔بہتر ہوتا کہ جن مضامین کی اُ نہیں سمجھ نہیں آئی اُن کے بارے میں خاموشی اختیار کرلیتے یا کم از کم علماء اور فقہاء کا یہ عقیدہ ہی درج کر لیتے کہ دین اسلام پر عمل کرنے کے لئے اصل سرچشمہ قرآن پاک،سنت نبوی اور اُمت کا اجماع ہے، صوفیائے کرام کے کشف و کرامات نہیں ۔

تمام محقق فقہاء اور علماء ،باعمل صوفیائے کرام سے منسوب قابلِ اعتراض ارشادات اور کشف و کرامات کو فوراً رَد نہیں کرتے بلکہ اگر ممکن ہو تو اُن کی مناسب تاویل کرتے ہیں البتہ کوئی بات واضح طور پر شریعت کی تعلیمات کے خلاف ہوں تو اُن کی مکمل تردید کرتے ہیں البتہ اُن کے احترام اور ادب کا خیال بھی کرتے ہیں۔

 

صوفیائے کرام کی پیچیدہ عبارات اور راہِ اعتدال

ہر علم و فن کا انداز و بیان،اصطلاحات(terminologies)اوراُس کے ماہرین الگ الگ ہوتے ہیں۔جو شخص کسی علم و فن کا ماہر اور تجربہ کار نہ ہو تو بعض اوقات غیر متعلقہ فَن کی کتابیں پَڑھ کر شدید غلط فہمیوں کا شکار ہو جاتا ہے۔دنیاوی اور دینی علوم دونوں میں یہ اصول کار فرما ہے۔اِن میں سب سے زیادہ مشکل اور پیچیدہ مضامین اُن کتابوں میں ملتی ہیں جو تصوف اور اُس کے فلسفے پر لکھی گئی ہیں،کیونکہ ان کا تعلق عقائد اور ظاہری اعمال کے بجائے اُن باطنی تجربات، کیفیا ت اور محسوسات سے ہوتا ہے جو صوفیائے کرام پر بعض اوقات طاری ہوتے ہیں اور بعض اوقات اُن کیفیات کو عام فہم اور مشہور الفاظ کے ذریعہ بیان کرنا دشوار ہوتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ علماء اور فقہاء نے کبھی بھی دین کے بنیادی مسائل ،عقائد اور عملی احکامات کے لئے تصوف کی کتابوں کو سرچشمہ قرار نہیں دیا بلکہ ہمیشہ قرآن،سنت اور اجماع ہی کی پیروی کو لازم قرار دیا ہے۔عقائد کی بحثیں ،عقائد کی کتابوں سے اخذ کی جاتی ہیں ،عبادات،معاملات اور معاشرت کے احکامات فِقَہ کی کتابوں سے لئے جاتے ہیں ،خود صوفیائے کرام اِن معاملات میں اِنہی علوم کی کتابوں سے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔

صوفیائے کرام نے خود بھی اس بات کی وضاحت کی ہوتی ہے کہ جو شخص تصوف کے اِن باطنی کیفیات سے نہ گذرا ہو اُن کے لئے صوفیاء کی اِن کتابوں کا دیکھنا جائز نہیں کیونکہ بعض اوقات اِن کتابوں میں ایسی باتیں نظر آتی ہیں جن کا بظاہر کوئی مفہوم سمجھ میں نہیں آتا۔اسی طرح بعض اوقات جو مفہوم بظاہر سمجھ میں آرہا ہوتا ہے وہ بالکل عقل یا شریعت کے خلاف ہوتا ہے لیکن لکھنے والے کی مُراد کچھ اور ہوتی ہے، صوفیائے کرام کی اِس قسم کی عبارات کو ’’شطحیات‘‘ کہا جاتا ہے۔اِس لئے تمام علماء اور فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ دین کے کسی بنیادی عقیدے یا مسائل کے لئے تصوف کی کتابوں کی طرف رجوع کرنا غلط ہے اور اس کا نتیجہ گمراہی کے سوا کچھ نہیں ۔

اس اصول کو خود بڑے بڑے صوفیائے کرام نے بھی تسلیم کیا ہے چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی ؒ جو فَنِ تصوف کے اِمام سمجھے جاتے ہیں فرماتے ہیں؛

’’ یہ باتیں خواہ شیخ کبیر یمنی نے کہی ہوں یا شیخ اکبر شامی نے ، ہمیں محمد عربی ﷺ کا کلام چاہیئے نہ کہ محی الدین ابن عربی ،صدرالدین قونیوی اور عبدالرزاق کاشی کا کلام، ہمیں نَص(یعنی قرآن و حدیث) سے غرض ہے نہ کہ فَص سے ( یہ ابن عربی کی کتاب فصوص الحکم کی طرف اشارہ ہے) ،فتوحات مدنیہ نے ہمیں فتوحات مکیہ سے مستغنی کر دیا ہے۔‘‘ ( مکتوبات حصہ اول دفتر اول مکتوب نمبر ۱۰)

جاوید غامدی صاحب نے یہ بھی دعوی ٰ کی تھا کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے مرزا غلام قادیانی کی طرح کے دعوے صوفیائے کرام میں سے بھی بعض نے کئے ہیں اور اس ضمن میں خاص کر ابن عربی کا حوالہ دیا ہے ۔حالانکہ جن صوفیائے کرام پر یہ الزام لگا یا گیا ہے ،اُن پر ایک ایسی تُہمَت ہے کہ جو صرف اُن کی اِصطلاحات اور طرز بیان سے ناواقفیت کی بنیاد پر اُن پر عائد کیا گیا ہے۔صوفیائے کرام کی کی تمام کتابوں کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ پوری اُمت کی طرح ختم نبوت کے عقیدہ پر مستحکم ایمان رکھتے ہیں اور اُن پر ختم نبوت کا عقیدہ نہ رکھنے کا الزام فضول اور بے بنیاد ہے۔

 

مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ کیجئے؛

۱: ’’ اِحسان و تصوف اور غامدی کی بدفہمی ‘‘ از مفتی عبدالواحد صاحب اور ’’اسلام وتصوف کا صحیح تصور اور جاویدغامدی ،مجلہ صفدر غامدی نمبر ص ۴۱۳ تا ۴۳۷

۲:’’ فتنہ قادیانیت اور ملت اسلامیہ کا موقف ‘‘ از مفتی محمد تقی عثمانی صاحب ص ۱۲۵ تا ۱۳۳

الھُدیٰ انٹرنیشنل کی سربراہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے نظریات کا مختصر جائزہ پیش کیجئے۔

ڈاکٹر فرحت ہاشمی الھُدیٰ انٹرنیشنل نامی ادارے کی سربراہ ہیں۔یہ ادارہ خواتین کے لئے مختلف دورانئے کے کورسز کا اہتمام کرتا ہے۔ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے ادارے کی ترتیب ، نصاب اور اُن کے لیکچرز کا تحقیقی تجزیہ کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اصل میں الھدیٰ انٹر نیشنل کی تنظیم دینی تعلیم کے نام پرعورتوں میں خود رائی اور دین سے دوری پھیلا رہی ہے۔ڈاکٹر فرحت ہاشمی کےنظریات کا ایک خاکہ نیچے پیش کیا گیا ہے:

1۔ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے مطابق دینی معاملات میں کسی مجتہد (اِمام) کی رہنمائی ضروری نہیں۔جِس اِمام کی رائے آسان معلوم ہو اُسی پر عمل کرو(حالانکہ صرف اپنے نفس کی خواہش کو پورا کرنے اور اپنی سہولت کے لئے کسی آسان حل کو منتخب کر لینا جائز نہیں کیونکہ قرآن پاک نے دینی اُمور میں نفس کی پیروی کے بجائے شریعت پر عمل کا حکم دیا ہے)

2۔قرآن و حدیث کی روشنی میں اُمت کے تمام علماء کا متفقہ فیصلہ ہے کہ فوت(قضا) شدہ نمازوں کی قضا ادا کرنا ضروری ہے ،خواہ وہ نمازیں بھول کر قضا ہوئی ہوں یا جان بُوجھ کر۔ڈاکٹر فرحت ہاشمی کہتی ہیں کہ جو نمازیں جان بوجھ کر نہ پڑھی ہوں ،اُن کی ادائیگی ضروری نہیں صرف توبہ و استغفار کافی ہے۔

غور کرنے کی بات ہے کہ آج کل عوام پہلے ہی نماز کی ادائیگی میں سستی کرتے ہیں اس مسئلے کے عام ہونے کے بعد تو کوئی نماز پڑھے گا ہی نہیں۔محترمہ اور اُن کے متعلقین سوچیں کہ اِس طرح کے غلط مسائل عوام کو بتا کر وہ دینِ اسلام کی کونسی خدمت کر رہے ہیں؟

 3۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی تصویر کو جائز سمجھتی ہیں۔

4۔ قرآنِ پاک کی آیاتِ مبارکہ ،احادیث نبوی ﷺ اور اجماعِ اُمت سے یہ ثابت ہے کہ عورت کے لئے باقی بدن کے ساتھ ساتھ اپنے چہرے کو بھی اجنبی مرد کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں۔اِس کے علاوہ رشتہ داروں میں بھی تمام غیر محرموں سے بھی چہرہ کو چُھپانا اور پردہ کرنا فرض ہے۔( غیر محرم اُن رشتہ داروں کو کہتے ہیں جن سے کسی بھی وقت نکاح ہو سکتا ہے)۔اس لئے ’’چچا زاد،پھوپھی زاد،ماموں زاد،خالہ زاد،دیور،جیٹھ،بہنوئی،نندوئی،پھوپھا،خالو،شوہر کا چچا،شوہر کا ماموں ، شوہر کا پھوپھا،شوہر  کا خالو،  شوہر کا بھتیجا اور شوہر کا بھانجا سب غیر محرم ہیں اور اِن سب سے پردہ فرض ہے۔

اِس کے برعکس ڈاکٹر فرحت ہاشمی کہتی ہیں کہ ’’ چہرے کا پردہ نہیں ،بہنوئی ،خالو وغیرہ سے پردہ نہیں،شادی شدہ کزنوں سے پردہ نہیں۔غیر شادی شدہ سے احتیاط بہتر ہے۔‘‘ ظاہر ہے اِس طرح کی تعلیمات عام کرنے سے معاشرے میں ’’حیا‘‘ تو عام ہو نہیں سکتی ،بے حیائی کا سیلاب ہی آئیگا۔

(حاشیہ:پردے کےمسئلے کو مزید سمجھنے کے لئے مطالعہ کیجئے؛ ’’پردہ کے شرعی احکام‘‘ ازحکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ، ’’شرعی پردہ ‘‘ازمولانا قاری محمد طیب ؒ ، ’’ شرعی پردے کی حقیقت ‘‘از مولانا مفتی عبدالرحمٰن ، ’’شرعی پردہ کیوں کیسے ؟‘‘ از مولانا محمد افتخار)

5۔صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عورت کے لئے بغیر محرم کے سفر کرنا جائز نہیں۔جبکہ ڈاکٹر صاحبہ فرماتی ہیں کہ عورت بغیر محرم کے یا چند عورتیں مل کر سفر پر جا سکتی ہیں۔

6۔ احادیثِ نبوی ﷺ ، عملِ صحابہ اور اجماعِ اُمت سے ثابت ہے کہ عورتوں کے لئے جماعت میں شرکت کی غرض سے عام پنج وقتہ نمازوں میں یا جمعہ و عیدین کی نمازوں کے لئے مسجد میں جانادرست نہیں بلکہ مکروہِ تحریمی (سخت ناپسندیدہ)ہے۔ نبی کریم ﷺنے عورتوں کو اس بات کی ترغیب دی ہے کہ اُن کا گھر سے نہ نکلنا ہی بہترہے اور اُن کے لئے افضل و بہتر یہی ہے کہ وہ گھر وں میں نماز پڑھیں(ابوداؤد)۔

ابتدائے اسلام میں حضورﷺ نے عورتوں کو مسجد آنے کی اجازت دی تھی لیکن اس موضوع پر موجود تمام احادیث پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس زمانے میں اِس اجازت دینے کا مقصد شان و شوکت اور قوت کا اظہار تھا تاکہ مسلمانوں کی تعداد زیادہ معلوم ہو۔اب اِس کی ضرورت باقی نہیں رہی۔چنانچہ اب خواتین کا مسجد میں آنا ضروری نہ ہوا۔

چنانچہ آپ ﷺ نے اپنے پاکیزہ و مبارک زمانے میں بھی خواتین کو مسجد میں جانے کی اجازت چند شرائط کی بنا ء پر دی تھی اور ساتھ ہی گھر میں نماز پڑھنے کو بہتر قرار دیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کے زمانے کے بعد حالات کو دیکھے ہوئے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ فرمانا پڑا کہ اگر حضور ﷺ اِس زمانے کو دیکھ لیتے تو عورتوں کو مسجد میں آنے سے روک دیتے۔(بخاری ومسلم)۔دیگر صحابہ کرام اور تمام فقہاء نے بھی یہ فتویٰ دیا کہ فتنہ پھیلنے کے خوف کی وجہ سے عوت کا مسجد میں جماعت میں حاضر ہونا مکروہِ تحریمی ہے یعنی جائز نہیں۔

دوسری طرف ڈاکٹر فرحت ہاشمی صاحبہ خواتین کوترغیب دیتی ہیں کہ مسجد جا کر باجماعت نماز پڑھیں ،عورتوں کے مسجد جانے پر کوئی پابندی نہیں۔

7۔احادیثِ نبوی ﷺ سے ثابت ہے کہ حائضہ ( یعنی جس عورت کو حیض آرہا ہو ) دورانِ حیض قرآنِ پاک نہیں پڑھ سکتی۔(ترمذی)۔قرآنِ پاک میں بھی حکم دیا گیا ہے کہ قرآن پاک کو پاک لوگ ہی چُھو سکتے ہیں (سورہ توبہ) ،لیکن ڈاکٹر صاحبہ کی رائے یہ ہے کہ’’ حائضہ عورت قرآن پاک پڑھ سکتی ہے۔اِس کو چھُو سکتی ہے ۔کہاں اللہ نے منع کیا ہے کہ ان دنوں میں قرآن نہ پڑھو ،کہاں منع کیا ہے کہ تم اِس کی تعلیم نہ دو۔‘‘ (روزنامہ نوائے وقت ۱۷ مارچ ۲۰۰۲)

8۔ ڈاکٹر صاحبہ اکثر اپنے درسوں میں علمائے کرام کو تنقید کا نشانہ بناتی ہیں کہ اِن مولویوں نے دین کو مشکل بنا دیا ہے۔آپ کو اُن کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ،مدارس میں وقت ضائع کیا جاتا ہے و غیرہ۔حالانکہ عوام الناس کی بہتری اِسی میں ہے کہ وہ علماء ،صلحاء اور دینی مدارس سے جُڑے رہیں اور اُن سے بلاوجہ بدظن نہ ہوں۔

9۔ ڈاکٹر صاحبہ بھی ایک مجلس میں دی جانے والی تین طلاقوں کو ایک ہی تصور کرتی ہے۔نماز میں مرد اور عورت کی نماز کے طریقے کو الگ نہیں سمجھتیں۔رفع یدین،اِمام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے،ایک رکعت وتر وغیرہ سمیت دیگر مسائلِ نماز میں اہلِ حدیث مکتبِ فکر ہی کی نمائندگی کرتے ہیں۔یہاں تک کہ اُن کی آفیشل ویب سائٹ پر بھی مختلف دینی مسائل پر مشتمل تقریباً تمام کتابیں انتہائی متشدداہل حدیث مکتب فکر کے حضرات ہی کی ہیں۔

ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے نظریات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب جیسے معتدل مزاج شخصیت کو بھی یہ لکھنا پڑا کہ:

’’ جو شخص یا ادارہ مذکورہ بالا نظریات رکھتا ہو اور اُس کی تعلیم و تبلیغ کرتا ہو ،وہ نہ صرف یہ کہ بہت سے گمراہانہ، گمراہ کُن یا فتنہ انگیز نظریات کا حامل ہے، بلکہ اِس سےمسلمانوں کے درمیان افتراق و انتشار پیدا ہونے کا قوی اندیشہ ہے۔۔۔۔۔لہٰذا جو ادارہ یا شخصیت اِن نظریات کی حامل اور مبلغ ہو اور اپنے دروس میں اِس قسم کی ذہن سازی کرتی ہو ،اس کے درس میں شرکت کرنا ،اور اس کی دعوت دینا ان نظریات کی تائید ہے جو کسی طرح جائز نہیں۔(حاشیہ:جلد اوّل، کتاب الایمان والعقائد صفحہ ۸۶، فتویٰ نمبر۱/۴۸۶)

(حاشیہ ڈاکٹر فرحت ہاشمی کے مندرجہ بالا نظریات کو اُنہوں نے اپنی تقاریر میں جگہ جگہ بیان کیا ہے جو اُن کی ویب سائٹس پر دستیاب ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے ملاحظہ کیجئے ’’الھدیٰ انٹرنیشنل کیا ہے ‘‘( مولانا محمد اسمٰعیل طورو) اور ’’ ہدایت یا گمراہی‘‘ (مولانا مطیع الرحمٰن)